48

دسمبر !!!

Spread the love

دسمبر ہمیشہ اداس کرتا ہے، برف گرتی ہے تو احساس کی حدّت بڑھ جاتی ہے اور جذبوں کی تپش نئی منزلوں کی طرف گامزن رکھتی ہے-
دسمبر !!!
ایک تنہا احساس،
ایک آخری کوشش
لیکن ایک مکمل اظہار بھی ہے اپنی محبت کی سچائی کا ،اپنی محبت کی خوشبو کا جو آج بھی رگ ِجاں کو اسی طور معطر کرتی ہے کہ ہجر میں بھی وصال کی لذت چھلکتی ہے-

دسمبر واقعی ستم گر ہے یہ اس سال بچھڑ جانے والوں کی یاد کا آخری آنسو بھی ہے اور اُن کی روشنی کا استعارہ بھی کہ محبت کو فنا نہیں اور اُن کی عظمت کا اعتراف بھی کہ ایک مکمل انسان کیسے اپنے ادھورے وجود میں کائنات سمو لیتا ہے۔

شمائلہ رنجیت سلطان پور، لکھنئو کے گائوں پرتاپ نگر میں 1975 کو پیدا ہوئیں۔ پڑھنے لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا، کم عمری میں گھر والوں نے اپنے کزن سے شادی کردی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ لزبن پُرتگال آ گئیں، جہاں چند سالوں بعد شوہر نے طلاق دے دی، دو سال وہاں اکیلی جدوجہد کرتی رہیں اور زندگی کی گاڑی کو چلاتی رہیں، پھر رنجیت سنگھ نے جو کہ بٹالہ سے تعلق رکھتے تھے اور لزبن میں ایک اچھے کاروباری کی حیثیت رکھتے ہیں، شمائلہ کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا، اور شمائلہ نے بھی رنجیت کو اپنا سب کُچھ مانتے ہوئے اپنا جیون ساتھی بنا لیا اور سکھ مزہب قبول کر لیا۔ شمائلہ اب رنجیت کے دو بچوں کی ماں ہی نہیں بلکہ ایم فِل کی طالبہ بھی ہیں اور پی ایچ ڈی کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں