61

تماشا

Spread the love

ملک میں عام انتخابات کا بگل بج چکا تھا اس لیے شہر کی ہر گلی، سڑک چوراہے اور میدانوں کے آس پاس رنگ برنگے پوسٹر، جھنڈیاں اور فلیش بورڈ لگے تھے۔ ان کے دم سے شہر رعنائیوں اور خوشنما مناظر کی آماجگاہ بن گیا۔ وہ مناظر بہت پیارے لگتے۔ دیکھنے والا انھیں ایک ٹک دیکھے جاتا۔

بابو ایسے ہی ایک چوراہے پر کھڑا دنیا و مافیہا سے بے خبر شوخ رنگوں کے ایک ایسے ہی پوسٹر کو دیکھ رہا تھا۔ پوسٹر ایسا ہی تھا کہ دیکھنے والے کی پہلی ہی نظر کو اپنی گرفت میں لے لیتا اور جب تک اس کے ایک ایک پہلو کا جائزہ نہیں لیا جاتا نگاہیں ہٹتی ہی نہ تھیں۔

اچانک ایک طرف سے بےہنگم آوازیں اور شور بڑھتا آیا۔ بابو نے پلٹ کر اس طرف دیکھا۔ ایک جلوس انتخابی نعرے لگاتا ہوا آرہا تھا اوران کا لیڈ رگلے میں مالا ڈالے کھلی گاڑی سے ہاتھ ہلا ہلا کر مقامی باشندوں کو سلام کررہا تھا۔ اس کے پیچھے آنے والی گاڑی سے تیز آواز میں محمد رفیع کے نغمے چل رہے تھے۔ ’’یہ دیش ہے ویر جوانوں کا اس دیش کا یارو کیا کہنا……‘‘ بابو کو وہ منظر پوسٹروں کے منظر سے بھی اچھا لگا۔ ایک تماشا تھا۔ اچانک بابو سوچنے لگا….. بھوکے پیاسے لوگ مہنگائی اور بھوک کے شکار لوگ نہ جانے کب سے اس لیڈر کے ساتھ ہیں اور ابھی کہاں تک جائیں گے پتا نہیں۔ یہ لوگ ان کا کس طرح استعمال کر تے ہیں اقتدار میں رہتے ہوئے بھی انہیں بے وقوف بناتے ہیں اور ا قتدار میں آنے کے بعد تو ان کا خون تک چوس لیتے ہیں…. وہ سوچتا رہا اور غریبوں کے بھولے پن اور لیڈروں کی سفاکی پر افسوس کرتا رہا۔ جلوس آگے بڑھ گیا تھا۔ بابو بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔ ’’لاکھ تماشے دیکھے ہیں ….ایک تماشا اور سہی‘‘ بابو کی زبان سے بھی نغمہ جاری ہو گیا۔

جلوس آگے بڑھتا جارہا تھا کہ سامنے سے مخالف پارٹی کے امیدوار کے جلوس نے اس کا راستہ روک لیا۔ پہلے پہل تو معاملہ باتوں سے ہی سلجھانا چاہا مگر بات بڑھتی چلی گئی اور دونوں طرف کے دبنگوں نے ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا۔ پھر کیا تھا گالیاں، برے کلمات، چیخیں، اٹھا پٹکنے کی آوازیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے جانبین سے دوچار آدمی چو راہے پر خون میں لت پت پڑے تھے۔ پُرسکون اور شاندار ماحول چند ساعات میں غارت ہو گیا ۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا اور اب نعروں و نغموں پر پولیس گاڑیوں کے سائرن بھاری پڑنے لگے۔ پولیس دیکھ کر فالتو بھیڑ کائی کی طرح چھٹ گئی۔ جنھیں بھاگنے کا موقع ملا وہ بھاگ گئے اور کچھ بد نصیب پولیس کے ہاتھ لگ گئے۔ ’’یہ کیسا تماشا ہے میرے بھگوان‘‘ بابو سوچنے لگا۔

’’ابھی تماشا دیکھا ہی کہا ں ہے تم نے بابو صاحب ! ابھی تو بات یہیں ہے میڈیا میں کہاں آئی ہے۔ میڈیا میں آئے گی۔ مرچ مسالہ لگ کر خبریں بنیں گی۔ گرم گرم سرخیوں کے ساتھ اخبارات کو لیس کیا جائے گا۔ بات کو بتنگڑ، ذرے کو پہاڑ، افسانے کو حقیقت اور سچ کو جھوٹ بنایا جائے گا اس وقت ہوگا تماشا۔‘‘ بابو کے دل سے آواز آئی۔

پولیس خون میں لت پت لاشوں اور ہاتھ آئے لوگوں کو پکڑ کر لے گئی اور جائے حادثہ پر سناٹا پھیل گیا۔ بابو ماحول سے گھبرا کر اکیلا ایک طرف چل پڑا۔ غم، دکھ، افسوس اور انسانوں کی حیوانیت نے اس کے دل پر گہرااثر کیا تھا۔ آج اس نے ایسا تماشا دیکھا تھا جس کے بعد کوئی اور تماشا دیکھنے کی حسرت دل میں نہ رہی۔

شمائلہ رنجیت سلطان پور، لکھنئو کے گائوں پرتاپ نگر میں 1975 کو پیدا ہوئیں۔ پڑھنے لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا، کم عمری میں گھر والوں نے اپنے کزن سے شادی کردی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ لزبن پُرتگال آ گئیں، جہاں چند سالوں بعد شوہر نے طلاق دے دی، دو سال وہاں اکیلی جدوجہد کرتی رہیں اور زندگی کی گاڑی کو چلاتی رہیں، پھر رنجیت سنگھ نے جو کہ بٹالہ سے تعلق رکھتے تھے اور لزبن میں ایک اچھے کاروباری کی حیثیت رکھتے ہیں، شمائلہ کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا، اور شمائلہ نے بھی رنجیت کو اپنا سب کُچھ مانتے ہوئے اپنا جیون ساتھی بنا لیا اور سکھ مزہب قبول کر لیا۔ شمائلہ اب رنجیت کے دو بچوں کی ماں ہی نہیں بلکہ ایم فِل کی طالبہ بھی ہیں اور پی ایچ ڈی کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں