65

شرم کرو, سابق وزیراعظم سپیکر پر برس پڑے

Spread the love

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) سپیکر پر برس پڑے

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020ء کی کثرت

رائے سے منظوری دیدی جبکہ اپوزیشن کے شدید احتجاج اور تحفظات پر مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر

بابر اعوان نے کہا پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق قانون سازی میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں

کریں گے ،گرفتاری ریگولیٹ کرنے کیلئے ا پو زیشن ترمیم لانا چاہے تو بل کی منظوری کے بعد ہم

بیٹھ سکتے ہیں،یہ حکومت کی طرف سے کھلی آفر ہے، ایوان میں معاون خصوصی احتساب شہزاد

اکبر کی تقریر اپوزیشن اراکین بھرپور ا حتجاج کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے ، سابق وزیر اعظم شاہد

خاقان عباسی شہزاد اکبر کو فلور دینے پر سپیکر پر برس پڑے اور شرم کرو کہہ دیا جس پر سپیکر

نے کہا آپ سابق وزیراعظم ہیں ، صبر کریں اور زبان درست استعمال کریں ، وزیر خارجہ شاہ

محمود قریشی نے شاہد خاقان عباسی سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا، جس پر سابق وزیر اعظم

نے کہا الفاظ واپس لے لو نگا وزراء سچ بولیں ،شاہد محمود قریشی نے جواب دیا میرا سچ رہنے دیں

سچ بولا تو آنچل اٹھے گا اور پھر کہیں منہ چھپانے کے نہیں رہیں گے۔ پیر کو قومی اسمبلی کااجلاس

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے

اینٹی منی لانڈرنگ میں دوسری ترمیم کا بل پیش کیا ۔پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے بل پر

تحفظات کا اظہار کیا اور کہا بل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، جب تک ہماری ترامیم شامل نہ

کی جائیںگی یہ کالا قانون ہوگا ۔بل میں نیب کو پراسیکیوشن میں شامل کیا گیا ہے ،ہمارا موقف ہے اس

حوالے سے ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ ادارے موجود ہیں ،نیب کو کیوں ہر معاملے میں لایا جارہا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے توشیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ہے جس پر سپریم کورٹ بھی اعتراض کرچکی ہے ۔ بغیر وارنٹ کے کسی بھی ایجنسی کو پاور آف

اریسٹ نہیں دیا جاسکتا۔اینٹی منی لانڈرنگ بل کی دوسری ترمیم بل پر بات کی اجازت نہ دینے پر

اپوزیشن ارکان کا احتجاج کیا ۔ محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا جو ترامیم حکومت پیش کررہی ہے اکثر

اپوزیشن کی پیش کردہ ہیں۔ ہم قومی سلامتی کی خاطر بلز کو سپورٹ کرتے ہیں تو حکومت این آراو

کے الزامات لگا دیتی ہے۔ تین ترامیم اب بھی ہماری نہیں لی گئیں، عاملہ میں ثبوت دینے کی ذمہ

داری الگ، نیب میں الگ ہے۔ نیب میں ثبوت دینا ملزم کی ذمہ داری ہے ،حکومت اس قانون میں نیب

کی طرح بار ثبوت ملزم پر ڈالنا چاہتی ہے۔

آسٹریلیا کا جلد کورونا ویکسین بنا کر مفت فراہم کرنے کا اعلان

سپیکر پر برس پڑے

اپنا تبصرہ بھیجیں