فیصل M. Fasyal 108

کچی پکڈنڈیوں پر کھیلتے بچے

Spread the love

از: فرانز کافکا

انگریزی سے اردو ترجمہ: مُحمّد فَیصَل

میں نے باغ میں لگی ہوئی باڑ کی دوسری جانب سے شور مچاتی اور گرج پیدا کرتی رینگتی ہوئی ویگنوں کو گزرتے ہوئے سنا اور دیکھا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات میں نے ان کو سرسبزوشاداب خوبصورت گھاس پر بیل بوٹوں، اور پتیوں کے درمیان بل کھاتے رستوں پہ جھولتے اور ہچکولے کھاتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔ تپتے ہوئے سخت گرمی کے موسم میں غیر ہموار پکڈنڈیوں پر ڈولتی ڈگمگاتی ہوئی ان ویگنوں کی شافٹ، کمانیاں، اور پرزے کیسی چرمراہٹ اور کھڑکھڑاہٹ کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں۔ مزدور، محنت کش، اور ہاری کسان جو کھیتوں میں اپنے کام نمٹا کے لوٹ رہے تھے یہ منظر گویا ان کے لئے کسی دلچسپ اسکینڈل سے کم نہ تھا۔ وہ دیکھتے اور کھلکھلاتے جا رہے تھے۔ میں اپنے والدین کے باغ میں ٹھنڈے سایہ دار درختوں کے درمیانڈالے ہوئے ایک ایک چھوٹے جھولے پہ بیٹھا آرام کر رہا تھا۔

باغ کی حفاظتی باڑ کے دوسری طرف منظر بالکل مختلف تھا۔ باڑ کے اُس طرف ٹریفک کا ایک اژدھام تھا مانو کہ کہ پہیہ کبھی رکتا ہی نہ تھا۔ دوڑتے بھاگتے بچے پلک جھپکتے گزر جاتے کہ پیچھے پیروں کے نشان بھی نہ ملتے۔ کاٹی جانے والی فصل کے گٹھے جن ویگنوں پر لاد کے لے جائے جا رہے تھے انہیں ویگنوں پر عورتیں اور مرد بھی سوار ہوتے جنہوں نے دھوپ سے بچنے کے لیے چھتریاں لگا کر بیٹھتے تھے۔

ہری بھری لہلہاتی رنگ برنگی خوبصورت کلیوں اور پھولوں نے ماحول کو جس قدر حسین بنایا تھا کٹائی کے بعد وہ قدرتی حسن ماند پڑنے لگتا ہے۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

شام کے سائے گہرےہو رے تھے کہ میری نگاہ ایک ایسے آدمی پر پڑی جو لاٹھی ٹیلتے ہوئے آہستہ آہستہ اور کسی قدر ڈھل لڑکھڑاتے ہوئے چلتے آدمی پر پڑی۔ دو لڑکیوں نے محبت اور اپنائیت کے ساتھ بازو پھیلائے اس کا استقبال کیا اور احتراماً ایک طرف ہوگئیں۔

دوسری جانب میں نے پرندوں کو ایسے اڑتے دیکھا جیسے اکثر تیز بارش میں اڑتے ہیں، میری نظروں نے بےاختیار ان کا پیچھا کیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک ہی جست میں پرواز کرتے ہوئے کتنی بلندی پہ چلے گئے۔ بلند سے بلند تر اڑان بھرتے پرندوں کی پرواز مجھے ایک طرح کے سحر میں مبتلا کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ چند لمحوں کے لئے بے خود سا ہو گیا۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے پرندے بلند نہیں ہو رہے بلکہ میں نیچے کو جا رہا ہوں۔

میں نے خود کو پھرپور توانا محسوس کیا یہی وجہ تھی کہ میں رسیوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھوڑا سا جھولنے لگا۔ ہوا کی تازگی اور ٹھنڈک کے بڑھتے ہی میں مزید تیزی سے جھولنے لگا۔

پرواز کرتے بلند ہوتے پرندوں کی بجائے اب آسمان پہ کپکپاتے اور تھرتھراتے ستارے نمودار ہونے لگے تھے۔

شمعیں روشن ہوئیں اور انہی کی روشنی میں مجھے رات کا کھانا دیا گیا تھا۔ اکثر میرے دونوں بازو لکڑی کے تختے پر ہوتے تھے۔ اور میں اپنی روٹی کا نوالہ توڑنے اور مکھن تک پہنچنے سے پہلے ہی تھک جاتا تھا۔ کھڑکی میں لگے عام سے جالی دار پردے باہر کی طرف گرم ہوا میں لٹک رہے تھے اور اکثر ایسا ہوتا کہ باہر سے گزرنے والے ان کو اپنے ہاتھوں سے روکتے اور ہٹاتے رہتے تھے۔ جیسے کوئی مجھے قریب سے دیکھنا اور مجھ سے بات کرنا چاہتا ہو۔

عام طور پر موم بتی جلد ہی بجھ جاتی ہے اور آخر میں موم بتی کے دھاگے کی تھوڑی سی سیاہ راکھ باقی بچتی ہے جس سے باریک دھار کی شکل میں ہلکا ہلکا سا دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ اس راکھ اور دھوئیں پہ جمع ہونے والے چھوٹے پتنگے کچھ دیر تک اڑتے اور چکر کاٹتے رہتے ہیں۔

باہر سے گزرنے والا کوئی شخص اگر کھڑکی میں کھڑا ہو کر مجھ سے کوئی سوال کرتا ہے تو میں اسے اس انداز سے گھورتا گویا میں دور ایک پہاڑی کو دیکھ رہا ہوں یا پھر زمین کے کسی خالی ٹکڑے کو۔

اور پوچھنے والے کو بھی اس چیز سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے یا نہیں۔ لیکن اس دوران اگر کوئی لپک کر میری کھڑکی پر پہنچ کر یہ اعلان کرنے لگے کہ یہاں اور بہت سے لوگ پہلے سے ہی اپنے سوالوں کے ساتھ متجسس و منتظر ہیں تو پھر میں ایک دم اٹھ کھڑا ہوتا۔

تم کس لئے آہیں بھر رہے ہو؟ آخر ایسا کیا ہوا ہے؟ مسئلہ کیا ہے؟

کیا کچھ ایسا ہولناک اور قیامت خیز واقعہ یا حادثہ پیش آ گیا ہے جس کو کبھی بھی کسی بھی طرح ٹھیک نہیں کیا جا سکتا؟

کیا اس کو اچھے میں بدلا نہیں جا سکتا؟ کیا ہم اس کا ازالہ کر کے کبھی بھی اس کے اثر سے باہر نہیں نکل سکتے؟ کیا سب کچھ ختم ہو گیا ہے؟

کوئی بھی ایسا ویسا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ کچھ بھی کھویا نہیں تھا۔ ہم گھر کے سامنے والے حصے کی طرف بھاگے۔

14 اگست، یومِ آزادی اسلامی جمہوریہ پاکستان

’’خدا کا شکر ہے آخرکار تم آ تو گئے۔‘‘ —

’’تم ہمیشہ دیر سے آتے ہو۔ آخر ایسا کیوں ہے؟‘‘

’’کیوں، صرف میں ہی کیوں؟‘‘

’’خاص طور پر تم، اگر تم نہیں آنا چاہتے تو گھر پر ہی کیوں نہیں رہتے؟‘‘
’’میرا کوئی گھر نہیں!‘‘

’’کیا، تمہارا کوئی گھر نہیں ہے؟‘‘

’’کیا کہہ رہے ہو، یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا؟‘‘

شام ڈھل ہی چکی تھی اور رات کے اندھیرے تیزی سے ہماری طرف بڑھنے لگے تھے۔ نہ دن کا وقت تھا اور نہ ہی رات کا کوئی وقت۔ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ وقت کی کوئی تیسری ہی شکل تھی۔ وقت کے یہ مخصوص لمحات اپنے اندر کئی احساسات لئے ہوئے تھے۔

جیسے سخت سردی میں ہمارے دانت بجنے لگ جاتے ہیں اسی طرح ہماری واسکٹوں کے بٹن آپس میں ٹکرا کر تِڑَک تِڑَک کی آوازیں پیدا کرنے لگے تھے۔ ایک دوسرے سے مستقل فاصلہ قائم رکھتے ہوئے ہم پھر سے دوڑ رہے تھے۔

منطقہ حارا کے گرم علاقوں کے جنگلی جانوروں کی طرح دوڑتے دوڑتے ہماری سانسیں جیسے آگ پھینک رہی تھیں۔ ہم ایسے بھاگ رہے تھے جیسے زمانہ قدیم کی جنگوں میں زرہ بکتر سے سجے فوجی بھاگا رکتے تھے۔

ہم زور زور سے پاؤں زمین پر پٹختے اور اتنی ہی قوت سے ہم اوپر کو اٹھتے اور آگے سے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ ابھی ہماری ٹانگوں میں بھرپور طاقت تھی، ہم ایک دوسرے کو سہارا دیتے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہوئے تنگ رستے سے نیچے لے گئے۔

تنگ راستے سے نکل کر پھر سے مرکزی سڑک پر ہم مزید کچھ دور تک دوڑتے چلے گئے۔ ہم میں سے راہ بھٹک جانے والے کچھ لوگ کھائی پر جا پہنچے۔ اس سے پہلے کہ وہ کسی گہری اندھی خندق میں غائب جائیں وہ کسی تازہ دم مسافر کی طرح پھر سے منہ لٹکائے آن پہنچے۔
’’چلو نیچے آ جاؤ۔‘‘

’’پہلے اوپر تو آؤ۔‘‘
’’تو تم لوگ ہمیں نیچے گرانا چاہتے ہو‘‘؟

’’نہیں آپ کا شکریہ، ہم ایسے بیوقوف نہیں ہیں‘‘

’’تمہاری باتوں سے لگتا ہے تم خوفزدہ ہو۔ آ بھی جاؤ، بزدل کہیں کے!‘‘

’’خوف زدہ؟ جیسے تم خود خوف کھاتے ہو؟‘‘

’’تم ہمیں نیچے دھکیلنے جا رہے ہو، کیا تم ایسا ہی کرو گے؟ یہ بہت اچھا کام ہے‘‘۔

ہم نے کوشش کی اور سڑک کے کنارے اس کھائی کے گھاس میں جیسے اپنی خوشی کے ساتھ گلاٹیاں کھاتے اور لڑھکتے چلے گئے۔

یہاں بلا تفریق ہر چیز گرم ہی تھی مگر ہم نے گھاس میں نہ تو گرمی محسوس کی اور نہ ہی سردی۔

ہمارے جسم تھکن سے چور تھے اور اسی تھکن کا احساس ہمارے ذہن و قلب پر بھی حاوی ہو چکا تھا، اور اب تمام احساسات پر یہی اک احساس چھا چکا تھا۔

ہم میں ہر کوئی اس حالت کو پہنچا ہوا تھا کہ اگر وہ اپنے پہلو پر لیٹتا تو فوری طور پر نیند کی گہری وادی میں جا پہنچتا۔ لیکن ہر کوئی پھر سے سربلند کرنا چاہتا تھا محض اس لیے کہ وہ پھر سے کسی گہری کھائی میں جا گے۔

کہہ لیں کہ ہر کوئی اپنے ہاتھ پاوں جھٹک کر مزید کسی گہری کھائی میں گرنے کے لیے تگ و دو کرنے لگے اور اس عمل کو وہ بار بار دہرانا چاہتے تھے جو کبھی ختم نہ ہو۔

کھائی کی تنگی میں ٹھیک طرح سے لیٹنے اور سستانے کے لئے کوئی بھلا خود کو کیسے دراز کر سکتا تھا، خاص طور پر جہاں بات گھٹنوں کی آ جائے۔ یہ ایک ایسی بات تھی جس کے بارے میں مشکل سے ہی کسی نے سوچا تھا۔ اور مجبوراً پھر ہر ایک کو کمر کے بل ایسے لیٹنا پڑا جیسے وہ سونے کا سلیقہ ہی نہ جانتے ہوں۔

الجھن بھری اس صورتحال نے ان کی مشکل کو اور بھی بڑھا دیا اور ان کی حالت ایسی کہ تکلیف سے ابھی رو پڑیں گے۔ ان میں سے ایک اچانک سے پلکیں جھپکتے سیاہ تلوے کھینچتے ہوئے کسی کے سر کے اوپر سے ایسے اچھلا جیسے کسی جوان نے ابھی ابھی اس کے پہلو میں کہنی دے ماری ہواور کھائی کی ڈھلوان کو پھلانگتے ہوئے وہ ایک دم کود کر باہر والی گزرگاہ پر آن لگا۔

آسمان پر دمکنے والا روشن چاند پہلے ہی اپنی کافی مسافت طے کر چکا تھا۔ اس کی روشنی میں پاس سے ایک میل کوچ گزر گئی۔ ہر طرف ہلکی ہلکی سی ہوا چلنے لگی۔ یہاں تک کہ خندق کے اندر بھی اس کی ٹھنڈک کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اور قریبی جنگل میں درختوں کے پتوں میں سرسراہٹ پیدا ہونا شروع ہو گئی تھی۔ موسم کی اس تازگی سے طبیعت پہ ایک مثبت اثر ہوا اور اب کسی کے اندر بھی تنہائی کی بے چینی باقی نہیں رہی تھی۔

’’کہاں ہو تم؟‘‘ —’’یہاں آؤ!‘‘ — ’’سب آ جاؤ!‘‘ —’’تم کس لئے چھپا رہے ہو، چھوڑ دو اپنی یہ بکواس اور بیوقوفانہ پن!‘‘ —’’کیا تم نہیں جانتے کہ میل پہلے ہی جا چکی ہے؟‘‘ —’’کیا وہ پہلے نہیں گزر گئی؟‘‘ —’’بالکل؛ جب تم سو رہے تھے تو وہ گزر گئی۔‘‘ —’’میں سو نہیں رہا تھا۔واہ بھئی، کیا خوب اندازہ لگایا ہے تم نے!‘‘ —’’او چپ ہو جاؤ، بکواس بند کرو، تم ابھی بھی آدھے سوئے ہوئے ہو۔‘‘ —’’لیکن میں سویا ہوا نہیں تھا۔‘‘ —’’چل اَبے، بس کر دے!‘‘

ہم اور بھی قریب ہو کر ایک جَتھے کی شکل میں بھاگے۔ اکثر نے تو ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے رکھے تھے۔ کسی کا بھی سر نمایاں نہ تھا کیوں کہ کوئی بھی سر کو زیادہ اٹھا کر نہیں بھاگ رہا تھا۔ اور یہ اس لئے بھی تھا کہ یہاں سے آگے ڈھلوانی راستہ تھا۔ کسی نے زور سے ہندوستانی جنگ والا نعرہ بلند کر دیا۔ بَدنوں میں ایک نیا جذبہ اور طاقت سی بھر گئی۔ اب ہماری ٹانگیں ایسی تیزی اور چستی کے ساتھ ہمیں دوڑا رہی تھیں کہ پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ ہوا نے ہمارے کُولہوں کو اٹھانا شروع کر دیا اور ہم آگے ہی آگے خودکار طور پر اچھلتے چلے جا رہے تھے۔ اس رفتار میں کوئی بھی ہمیں جانچ نہ سکا۔ ہم اس قدر قدم بہ قدم ساتھ تھے کہ راستے میں آنے والوں کو پیچھے چھوڑتے وقت ہم اپنے بازؤوں کو اگر سمیٹ بھی لیتے تو پھر بھی درمیانی فاصلہ کچھ زیادہ نہ بڑھتا۔ اور ایک دوسرے کو باآسانی اپنے آس پاس دیکھ سکتے تھے۔

راستے میں ایک ندی کے پُل پہ ہم نے کچھ دیر پڑاؤ کیا۔ جنہوں نے گنجائش سے زیادہ بھاگ لیا تھا انہوں نے اپنی پُھولی اور اُکھڑی ہوئی سانسیں پھر سے بحال کیں۔ پُل کے نیچے ندی کی آغوش میں پتھروں اور لمبی جَڑوں کے ساتھ لپٹتا اور مَس کرتا بہتا ہوا پانی کے دلربا منظر نے شام ڈھلنے کا احساس ہی بیدار نہ ہونے دیا۔ ہم اس منظر کی دلفریبی میں اس قدر مسحور ہوئے کہ ہم اس منظر کا مزید قریب سے مشاہدہ کرنے کے لئے پُل کی نچلی دیوار پہ کود گئے۔

عقب میں کچھ فاصلے پر درختوں کے جھنڈ میں سے ایک ریل گاڑی نمودار ہوئی جس کی تمام بوگیوں کی بتیاں جل رہی تھیں۔ اتفاقاً کھڑکیوں کے شیشے نیچے ہی تھے۔ ہم میں سے ایک نے ایک مشہور کَیچ گانا شروع کر دیا۔ لیکن ہمیں لگا جیسے ہم سب گانا گا رہے تھے۔ ہم نے ریل گاڑی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ تیز گانا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھ بھی لہرائے کیونکہ ریل کے شور میں ہماری آواز مدھم پڑ رہی تھی۔

ہماری آوازیں ایک ساتھ مل کر ریل گاڑی کے بھاری اور دَھمک دار شور کے ساتھ ٹکرانے لگیں اور ہم اس میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ کوئی بھی جب گانا گانے والوں کے ساتھ مل کر گانے میں شامل ہو جائے تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے وہ مچھلیوں کی طرح جال کی طرف کھنچا چلا جائے۔ پس ہم نے اپنے پیچھے کی طرف کچھ فاصلے پر جنگل کے راستوں سے گزرنے والے مسافروں کے لئے گانا گایا۔

گاؤں میں بڑی عمر کے لوگ ابھی تک جاگ رہے تھے۔ مائیں رات کو سونے کے لئے گھروں میں بستر تیار کر رہی تھیں۔

ہمارا وقت اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔

میں نے اپنے ساتھ والے کو بوسا دیا۔ اپنے قریب موجود تین ساتھیوں تک ہاتھ بڑھایا۔ اور گھر کی طرف بھاگنے لگا۔ کسی نے بھی مجھے واپس مڑنے کے لئے آواز نہ دی۔ دوڑتے ہوئے میں پہلے چوراہے پر پہنچا جہاں سے اب وہ مجھے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ میں مڑا اور سرسبز کھیت کے راستوں سے ہوتا ہوا پھر سے جنگل کی طرف بھاگنے لگا۔ میں جنوب کی سمت میں واقع اُس شہر کی تلاش میں تھا جس کے متعلق ہمارے گاؤں میں مشہور تھا کہ’’وہاں تمہیں عجیب قسم کے لوگ ملیں گے! ذرا سوچو، وہ کبھی بھی نہیں سوتے‘‘۔

“اور ’’وہ کیوں نہیں سوتے؟‘‘

“کیونکہ ’’وہ کبھی بھی تھکتے نہیں‘‘۔

“اور ’’وہ تھکتے کیوں نہیں؟‘‘

“کیونکہ ’’وہ بیوقوف ہیں‘‘۔

“کیا ’’بیوقوف نہیں تھکتے؟‘‘

“بیوقوف ’’بھلا کیسے تھک سکتے ہیں!‘‘

فرانزز کافکا محمد فیصل فرانزز کافکا محمد فیصل فرانزز کافکا محمد فیصل فرانزز کافکا محمد فیصل فرانزز کافکا محمد فیصل فرانزز کافکا محمد فیصل

اپنا تبصرہ بھیجیں