43

افغان حکومت نے طالبان قیدیوں کی رہائی روک دی،مذاکرات خطرے میں

Spread the love

طالبان قیدیوں کی رہائی

کابل(صرف اردو آن لائن نیوز)افغانستان نے، یہ کہتے ہوئے کہ جب تک طالبان بھی قیدیوں کو رہا

نہیں کریں گے، مزید طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے اس ہفتے

شروع ہونے والے امن مذاکرات ایک بار پھر ٹل سکتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق افغان حکومت

نے کہا کہ وہ طالبان کے باقی 320 قیدیوں کو رہا نہیں کرے گی۔ اس کی وجہ سے اگلے چند دنوں

میں ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات ایک بار پھر ٹل سکتے ہیں۔ فرانس اور آسٹریلیا نے طالبان

قیدیوں کو رہا نہیں کرنے کے افغانستان کے موقف کی تائید کی ہے۔گزشتہ ہفتے ہی روایتی جرگے

میں فریقین کے درمیان آخری 400 قیدیوں کی رہائی پر اتفاق رائے ہوگیا تھا۔ ان میں بعض وہ قیدی

کویت میں بھارتی شہریوں کی خود کشیاں بڑھنے لگیں

بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانوں اور غیر ملکیوں پر پرتشدد حملے کیے تھے۔جرگے کے انعقاد کے

بعد سے افغانستان انتظامیہ 80 قیدیوں کو رہا کرچکی ہے لیکن اب اس نے رہائی کے پروگرام کو

روک دیا ہے۔ یہ 400 قیدی ان 5000 طالبان قیدیوں میں سے آخری تھے جنہیں طالبان جنگجووں

کے قید میں موجود 1000افغان سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے بدلے میں رہا کیا جانا ہے۔قیدیوں کا

یہ تبادلہ امریکا کی ثالثی میں اس سال کے اوائل میں ہوئے ایک معاہدے کے تحت کیا جارہا ہے۔

افغانستان نیشنل سکیورٹی کاونسل کے ایک افسر نے خبر رساں ایجنسی بتایا کہ مزید کسی بھی قیدی

کو رہا کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی کا

کہنا تھا کہ دو ملکوں نے 400 قیدیوں میں سے کوئی چھ یا سات قیدیوں کے بارے میں اپنی تشویش

اور تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

طالبان,قیدی,طالبان قیدی کی, رہائی

طالبان قیدیوں کی رہائی

اپنا تبصرہ بھیجیں