40

مریم نوازکی نیب آمد،علاقہ میدان جنگ بن گیا

Spread the love

مریم نواز نیب آمد

لاہور (صرف اردو آن لائن نیوز) مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی پیشی سے قبل ہی ٹھوکر نیاز

بیگ پر واقع نیب لاہور کے آفس کے باہر لیگی کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادک کے نتیجے

میں علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ لیگی کارکنوں نے پولیس پر پتھرائو کیا اوربیریئر توڑنے کی کوشش

کی جواب میں پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی اور پتھرائو بھی کیا،

خواتین سمیت کئی مظاہرین گرفتار کر لئے گئے۔تفصیل کے مطابق منگل کو نیب لاہور نے مریم نواز

کو اراضی الاٹمنٹ کیس میں طلب کر رکھا تھا ، مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور رہنمائوں نے اپنی لیڈر

کے استقبال کیلئے جگہ جگہ استقبالی کیمپ لگا رکھے تھے اس موقع ہر مریم نواز کے استقبال کیلئے

بڑی تعداد میں مسلم لیگ ن کے کارکن اور ارکان اسمبلی اور رہنما نیب لاہو ر کے دفتر کے باہر بھی

جمع ہو گئے مریم نواز کے نیب آفس کے باہر پہنچنے پر لیگی کارکنون اور پولیس کے درمیان تصادم

ہو گیا اور جھڑپین شروع ہو گئیں ۔ جس پر وہاں پر موجود اینٹی رائڈ فورس کے اہلکاروں نے انھیں

منتشر کرنے کی کوشش کی۔اس پر نیب آفس کے باہر موجود کارکنوں کی بہت بڑی تعداد مشتعل ہو

گئی اور انہوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھرآ شروع کردیا۔ اس کے جواب میں پولیس نے ن لیگی

کارکنوں پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے آنسو گیس کے شیل پھینکے۔پولیس اور لیگی کارکنوں کے

درمیان تصادم کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ پولیس کے پتھرائو سے ن لیگی رہنمائوں

سمیت درجنوں کارکن زخمی ہوگئے جنہیں فوری طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ کشیدہ

صورتحال پر نیب نے پریم نواز کی پیشی منسوخ کردی اور انہیں واپس جانے کیلئے کہ دیا اس کے

باوجود وہ کافی دیر تک نیب آفس کے باہر موجود رہیں مریم نواز کی گاڑی پتھرائو کی زد میں آئی اور ان کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا ۔واضح رہے کہ نیب لاہور نے مریم نواز کو جاتی امرائمیں

200 ایکڑ اراضی کی خریداری کے متعلق انکوائری کے لئے طلب کر رکھا تھا۔ تصادم سے قبل مریم

نواز جاتی امرا سے کارکنوں کے ایک بڑے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے نیب آفس کے باہر پہنچیں تو

وہاں پر پہلے سے موجود ن لیگی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے مریم نواز کا پرتپاک استقبال

کرتے ہوئے ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ نیب لاہور نے پیشی کی منسوخی کے بعد

مریم نواز کی دوبارہ طلبی کے حوالے سے غور شروع کر دیا ہے، امکان ہے کہ آئندہ ہفتے ان کو

دوبارہ طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق نیب نے مریم نواز کی دوبارہ طلبی

کسی بھی جماعت میں ہوں، وفاداری ملک کے ساتھ ہوگی، فواد چوہدری

کیساتھ ساتھ کشیدہ صورتحال سے آئندہ پیشی پر نمٹنے کے لئے لائحہ عمل پر بھی غور شروع کر دیا

ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مریم نواز سے

ٹیلی فونک رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی ہے۔انہوں نے لیگی رہنما کی گاڑی پر حملے اور

کارکنوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپویشن کو نیب کے ذریعے دیوار سے

لگانا چاہتی ہے۔۔نیب دفتر کے باہر لیگی کارکنوں پر پولیس تشدد کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول

بھٹو زرداری نے بھی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف

پولیس فورس کا ا ستعمال قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے لیگی کارکنوں اور مریم نواز

کی گاڑی پر پتھر پھینکے، مریم نواز اور ان کے کارکنوں پر شیلنگ کی گئی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ

سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ دوسری طرف

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف لندن سے مریم نواز کو فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی

اور واقعے کے بارے تفصیلات معلوم کیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے نیب کے دفتر

کے باہر ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل

پولیس سے رپورٹ طلب کر کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کاحکم دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ا جازت نہیں دی جا سکتی قانون ہاتھ میں لینے

والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اس کے ساتھ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

مریم نواز نیب آمد

مریم نواز نیب آمد

اپنا تبصرہ بھیجیں