42

بیروت دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی

Spread the love

بیروت دھماکے

بیروت(صرف اردو آن لائن نیوز)لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں واقع ساحلی ویئرہاؤس

میں ہونے والے زوردار دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے اور 4ہزار افراد

زخمی ہو گئے ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اموات میں اضافے

کا خدشہ ہے کیونکہ ریسکیو اور ایمرجنسی ادارے ملبے کے ڈھیر سے لاشیں نکال رہے ہیں۔صدر

مچل عون نے کہا کہ 2ہزار 750ٹن امونیم نائٹریٹ کا فرٹیلائزر اور بموں میں استعمال کیا گیا جسے

بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے چھ سال سے پورٹ پر ذخیرہ کیا جا رہا تھا اور یہ عمل ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے بدھ کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے دو ہفتے کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا

اعلان کیا ہے۔بیروت میں ہونے والے دھماکے میں ایک پاکستانی بچہ جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔

پاکستانی سفیر برائے لبنان نجیب درانی نے بیروت دھماکے میں پاکستانی بچے کے جاں بحق ہونے

کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 14 سالہ بچے کے والد اور بہن شدید زخمی ہیں۔پاکستانی سفیر نجیب

درانی کا کہنا ہے کہ بچے کے والد ساجد اور بیٹی آئی سی یو میں داخل ہیں، دھماکے میں جاں بحق

بچے کی والدہ اور نانی بھی زخمی ہوئیں ہیں۔نجیب درانی نے بتایا کہ متاثرہ پاکستانی خاندان پورٹ

کے قریب فلیٹ میں رہائش پذیر تھا، سفارت خانے کا عملہ متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے موجود ہے۔

پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ بیروت دھماکے کی آواز سائپرس تک سنی گئی اور شام تک اس کے

اثرات محسوس ہوئے۔لبنان ریڈ کراس کے سربراہ جیارج کیتانی نے کہا کہ ہم مکمل تباہی کا مشاہدہ کر

رہے ہیں، یہاں ہر طرف لاشیں اور زخمی پڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک کم از کم

100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہم علاقے کو صاف کر رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اموات میں اضافہ

ہو سکتا ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ایک سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہلاک و زخمی

ہونے والوں کو بیرون شہر سے باہر لے جایا جا رہا ہے کیونکہ بیروت کے ہسپتال زخمیوں سے بھر

چکے ہیں جبکہ ملک کے جنوبی اور شمالی علاقوں سے تمام ایمبولینسوں کو طلب کر لیا گیا ہے۔

جرمنی کے جیولوجیکل ادارے کے مطابق بیرون میں دھماکے سے 3.5شدت کا زلزلہ محسوس کیا

گیا جبکہ اس کی شدت سے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی ایٹمی دھماکا ہو گیا ہے۔دھماکے کے بعد

کچھ مقامی افراد کو محسوس ہوا کہ جیسے کوئی زلزلہ آ گیا ہے اور زخمی اور روتے پیٹتے افراد

اپنے پیاروں کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگتے ہوئے نظر آئے وزیر اعظم حسن دیاب نے قوم سے کہا

کہ خطرناک ویئرہاؤس میں دھماکے کے ذمے داران کا احتساب کیا جائے گا اور ذمے داروں کو قیمت

ادا کرنا ہو گی۔حکام ابھی تک یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ دھماکا کس وجہ سے ہوا تاہم ایک سیکیورٹی

ذرائع نے بتایا کہ یہ ویئرہاؤس میں ویلڈنگ کے کام کے دوران کسی غفلت کی وجہ سے ہوا۔وزیر

اعظم عمران خان نے بیروت میں دھماکے اور قیمتی جانوں کے ضیاں پر گہرے دکھ اور افسوس کا

اظہار کیا ہے۔ ایران نے بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ ایران کے حریف سعودی

عرب نے بھی امداد کا یقین دلایا ہے۔قطر اور عراق کا کہنا ہے کہ وہ عارضی ہسپتال بھیج رہے ہیں

تاکہ زخمیوں کو بروقت امداد مل سکے جبکہ امریکا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے دھماکے پر

افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امداد کے لیے تیار ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا

کہ یہ دھماکا ممکنہ طور پر حملہ ہو سکتا ہے ۔

بیروت دھماکے

یہ وقت تصادم اور ٹکراؤ کا نہیں آگے بڑھنے کا ہے،شہباز شریف

اپنا تبصرہ بھیجیں