لفافیت اور میریت: انشال راو 96

استنبول (قسطنطنیہ) کی دوسری فتح

Spread the love

انشال راو

مسجد آیا صوفیہ کی بحالی کے اعلان پر عالمی میڈیا نے اپنی معمول کی نشریات روک کر خصوصی طور پر کوریج دی، اس اعلان کو قسطنطنیہ یعنی استنبول کی دوسری فتح قرار دیا گیا اور جمعہ 24 جولائی کو وہ وقت بھی آپہنچا کہ 86 سال بعد ایک بار پھر سلطنت عثمانیہ و عالم اسلام کی فتح کی علامت مسجد آیا صوفیہ میں تکبیر کی صدائیں گونج اٹھیں جس سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے عالم اسلام کی فضا خوشگوار ہوگئی، مسلمانوں نے کھل کر قلبی خوشی کا اظہار کیا ۔(استنبول (قسطنطنیہ) دوسری فتح)

ایمان والوں کی یہ علامت ہے کہ جب وہ اسلام کے بول بالا کی خبر سنتے ہیں تو ان کے دلوں کو ٹھنڈک، راحت اور شفا ملتی ہے،

اہالیان تُرکی کا جوش و خروش انتہائی غیرمعمولی ہے ان کے چہروں سے فتح کے جذبات ابھر رہے ہیںیوں محسوس ہو رہا ہے جیسے آج وہ اسلام پر کسی چیز کو فوقیت دینے پہ آمادہ نہیں، وہ اپنی کھوئی ہوئی میراثِ اور ایمانی آزادی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں

اگر آپ اردو تلفظ درست کرنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں

اسی بارے میں نامور تُرک مصنف و دانشور اورہان پاموک نے لکھا کہ ’’ترکوں نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے کہ اب سیکیولرزم سے ان کا کوئی واسطہ نہیں” جس پر اہالیان مغرب کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور اسے مغربی لبرلزم پر کاری ضرب قرار دیا جارہا ہے

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تمام دنیا بشمول بھارت، چین، روس، لاطینی و اہالیان اسلام مغربی لبرلزم کے راستے پہ چل پڑے تھے لیکن مغرب میں غیرضروری طور پر پھیلتے ہوے اسلاموفوبیا نے عالم اسلام کو اپنے مرکز کی طرف لوٹنے پہ مجبور کردیا

مغرب کی تقسیم اور امریکہ کی اصل مشکلات

حقیقت میں یہ اس اسلاموفوبیا کا ردعمل ہے جس نے مسلمانوں کے لیے سانس لینا تک دشوار کردیا تھا، کہیں توہین قرآن کی جاتی تو کہیں حجاب کو جہالت قرار دے کر اہل حجاب کو بے توقیر کیا جاتا اور کبھی ایسی خواتین کو راہ چلتے زد و کوب کرنے کے واقعات سامنے آتے یہاں تک کہ حضور اقدس ﷺکے خلاف مذموم مہم چلائی جانے لگی اور اس پر طرہ یہ کہ اسلام کو دہشتگردی سے جوڑ کر پیش کیا جانے لگا

مغرب میں ایک طرف تو تیزی سے پھیلتی اسلاموفوبیا کی وبا تھی جبکہ دوسری طرف تیزی سے عیسائیت عود آرہی تھی یعنی کہ یورپ تیزی سے مذہبی یورپ کی طرف جارہا تھا اگر سوویت یونین کے بعد کے اعداد و شمار پہ نظر ڈالیں تو سوویت کے خاتمے کے وقت ماسکو و اطراف میں صرف 50 چرچ تھے لیکن محض پانچ سال کے مختصر عرصے میں یہ تعداد 250 ہوگئی اور اب تو روس میں ایک بار پھر آرتھوڈوکس چرچ طاقت پکڑ رہا ہے جس کا اندازہ پیوٹن کی آئینی ترمیم کے مسودے پر ووٹنگ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صدی بعد وہاں خدا کا نام لیا گیا۔

اس کے علاوہ پولینڈ کے حالیہ الیکشن کے نتائج سامنے ہیں جس میں ڈوڈا دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں اور یورپ میں شاید ہی کوئی حکومت ایسی ہو جس کے اتنے گہرے مراسم و روابط کیتھولک چرچ سے ہوں۔

مئی 2015 کی بات ہے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن سے تو ہنگری میں تقریباً پانچ ہزار کی مسلمان آبادی برداشت نہ ہوئی تھی جس پر موصوف نے کہا تھا کہ ہمیں حق ہے کہ ہم ہنگری میں اتنے زیادہ مسلمانوں کو برداشت نہ کریں۔

سائنس و ٹیکنالوجی کا انقلاب عصر نو کی نوید

اگلے ہی سال مئی 2016 میں سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو نے بیان دیا کہ وہ سلوواکیہ میں ایک مسلمان کی موجودگی بھی چاہتے۔ اس کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کی سرکار کے ساتھ ساتھ غیرسرکاری تنظیموں نے متعدد موقعوں پر یہ اظہار کیا کہ وہ مسیح ہیں اور مسلمانوں کو اپنے ملک میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ حتیٰ کہ انسانی بنیادوں پر شامی مہاجرین تک کی آمد کی اجازت نہ دی گئی۔

ایک طرف بھارت میں بھی ہندوتوا نے عروج پکڑنا شروع کیا اور بدقسمتی سے اس کی بنیاد بھی اسلام دشمنی پر رکھی گئی، کھل کر اسلام دشمنی کے نام پر ووٹ مانگے گئے، اعلانیہ کہا گیا کہ بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے اسلام و مسلمانوں کی موجودگی ختم کی جائیگی، بیس کروڑ سے زائد مسلم آبادی کے ملک میں مسلمانوں کے خلاف مہم چلائی جانے لگی جوکہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے اسی بڑھتے ہوے اسلاموفوبیا کے ردعمل میں اہالیان تُرک اپنے مرکز کی طرف لوٹنے پہ مجبور ہوے اور وہ سیکیولرزم پر اسلام کو فوقیت دینے لگے اور دس جولائی کو ترک کونسل آف اسٹیٹ کے فیصلے کے بعد طیب اردگان نے آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کا اعلان کردیا

پارلیمنٹ لاجز میں فوری طور پر بیوٹی پارلر بنانے کا حکم

جس پر نہ صرف اہالیان ترک بلکہ تمام عالم اسلام نے قلبی مسرت کا اظہار کیا۔ گذشتہ دو دہائی میں دنیا میں رائج مغربی لبرلزم سے تیزی سے لوگ مذہب کی طرف لوٹ رہے ہیں بھارت میں ریاستی پالیسی کے طور پر بھارت کو سیکیولر ریاست سے ہندو راشٹر بنانے پہ زور ہے جبکہ اہالیان مغرب ایک بار پھر مسیحیت کی طرف راغب ہوکر کھل کر اسلام دشمنی کررہے ہیں ایسے میں تُرکی کا یہ فیصلہ استنبول (قسطنطنیہ) کی دوسری بار فتح ہے۔

استنبول (قسطنطنیہ) کی دوسری فتح استنبول (قسطنطنیہ) کی دوسری فتح

اپنا تبصرہ بھیجیں