123

مطیع اللہ جان نہیں تو حکام پیش ہوں :جسٹس اطہر من اللہ

Spread the love

لاہور(مدثر بھٹی سے) (مطیع اللہ جان اغوا)غیرجمہوری قوتوں پر تنقید کے لیے مشہور پاکستانی

صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے منگل کی صبح اغوا کیا گیا۔ مطیع اللہ جان کی اہلیہ نے بتایا

کہ وہ ایک سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں اور منگل کی صبح ساڑھے نو بجے انھیں سیکٹر

جی سکس میں واقع سکول تک چھوڑنے آئے تھے۔مطیع اللہ کی اہلیہ کے مطابق انھیں سکول

کے سکیورٹی گارڈ نے مطلع کیا کہ ان کی گاڑی سکول کے باہر تقریباً ساڑھے گیارہ بجے

سے کھڑی ہے۔

49 ڈالر میں 10 لاکھ کے ہیرے جواہرات

ہائی کورٹ میں ان کے بھائی کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں مغوی کی بازیابی اور

ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا

ہے کہ مطیع اللہ جان سینئیر صحافی ہیں اور وہ حکومتی اقدامات کے ناقد ہیں۔ اس درخواست میں

وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور اسلام آباد پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔

‏چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سینئرصحافی مطیع اللہ جان کو بازیاب

کرانے کا حکم دیا ہے اور متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ اگر مطیع اللہ کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا

تو فریقین کل ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سیکریٹری داخلہ،

چیف کمشنر اور آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

عدالتی نوٹس سے کچھ دیر پہلے وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے پریس کانفرنس سے خطاب

میں مطیع اللہ جان کے اغوا کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی ان کے پاس

اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات موجود نہیں ہیں ’لیکن یہ تو طے ہے کہ ان کو اغوا کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کی خبر ملنے کے بعد انھوں نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ

سے رابطہ کیا تاہم وہ اپنے بھائی سے ملنے ہسپتال جا رہے تھے۔

شبلی فراز نے کہا کہ ’ہم پوری کوشش کریں گے کہ جلد از جلد کم ازکم ہمیں یہ پتا چل جائے کہ وہ

کہاں پر ہیں اور کیا کیا تدابیر اختیار کی جائیں کہ جس سے انھیں بازیاب کیا جا سکے۔ ظاہر ہے کہ

یہ حکومت کا فرض ہے اور حکومت اپنا فرض پوری طرح سے ادا کرے گی۔

انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے بھی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پیغام میں اس خبر کو تشویشناک

قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں