69

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پولیس کی چھترول

Spread the love

سیف سٹی کیمروں میں پولیس کو خواتین نظر آتی ہیں اغوا ہوتے شہری نہیں

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری کے مبینہ اغوا پر ناقص تفتیش

اور شہری کی عدم بازیابی پر سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد ایس ایچ اوتھانہ لوہی

بھیر اور ایس پی انویسٹی گیشن کو 20،20 لاکھ جرمانہ کر دیا ۔عدالت نے آئی جی،

ایس ایچ اور اور ایس پی انویسٹی گیشن کیخلاف محکمانہ کارروائی کا بھی حکم دے دیا۔

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے رہائشی سلمان فاروقی مبینہ طور پر اغوا ہوئے جس

کی بازیابی کے لیے مغوی کے والد نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے

گذشتہ چند گھنٹے قبل کیس کی سماعت کے دورانِ تھانہ لوہی بھیر کے ایس ایچ او

عدالت کے سامنے پیش ہوئے عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمار

کس دیئے کہ سیف سٹی کیمروں سے پولیس کو خواتین تو نظر آجاتی ہیں، اغوا ہوتے

شہری نظر نہیں آتے ۔

لاہور میں موسلا دھار بارش،بجلی نظام درہم برہم

سیف سٹی کیمروں سے لی گئی خواتین کی تصاویر تو واٹس ایپ تک کر دی جاتی ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر مغوی شہری سلمان فاروقی کو ہر صورت پیش کرنے کا

حکم دیا شہری سلمان فاروقی کے والد کے مطابق ان کے بیٹے کو ویگو ڈالے پر گھر سے

اْٹھا لیا گیا تھا جس پر سلمان فاروقی کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ 2019 سے تھانہ لوئی بھیر

میں درج ہے مگر تاحال پولیس مغوی کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے۔

سیف سٹی خواتین اغوا سیف سٹی خواتین اغوا

اپنا تبصرہ بھیجیں