Mudassir Bhatti 246

پارلیمنٹ لاجز میں فوری طور پر بیوٹی پارلر بنانے کا حکم

Spread the love

مدثر بھٹی

آج کل خبروں میں ذرا مختلف قسم کی گرما گرمی ہے ہمارے ایک دوست نوراللہ نےگذشتہ شب پی ٹی آئی کے ایک ٹویٹ مشترک کیا جس میں لکھا تھا ’’ریاست مدینہ کے طرز کی ریاست وہ ہوتی ہے جہاں ملک کا سربراہ ملک کے غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر روٹی توڑتا ہے‘‘ اس کے ساتھ انہوں نے لکھا ’’صرف وزیر ہی نہیں ٹویٹر اکاونٹ چلانے والے بھی اتنے ہی نالائق ہیں‘‘۔(پارلیمنٹ لاجز بیوٹی پارلر)

نوراللہ ہمارے پرانے دوست ہیں اور اردو زبان و ادب پر ان کو اچھی دسترس بھی ہے لیکن میں فوری طور پر ان کا اعتراض سمجھ نہیں سکا کہ انہیں اس جملے میں کیا نالائقی نظر آئی اردو کا طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پارٹی کی طرف سے لکھا جانے والا جملہ ہر طرح سے معیاری بھی تھا اور قابل ستائش بھی۔ گو کہ ابھی تک حکومت نے نہ تو اپنا کوئی وعدہ پورا کیا ہے اور نہ ہی اپنے منشور کے کسی بھی حصے پر عمل کیا اور آنے والے دنوں میں بھی خیر سے اس بات کی کوئی امید نہیں کہ حکومت اپنے کسی دعوے کو عملی جامہ پہنا سکے گی۔

پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ہم نے ان کو ووٹ تو دیا تھا مگر اب شرمندہ ہونے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہےاور حکومت کی طرح ہم سب بھی پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔

جہاں تک بات رہی لفظ ’’روٹی توڑتا ہے‘‘ کی تو اس کے لیے پی ٹی آئی کو پورے پورے نمبر دئیے جانے ضروری ہیں کیونکہ اپنے پورے دورے صحافت میں میں نے کسی پارٹی کو اپنے لیڈر کے لیے اس قسم کا محاورہ استعمال کرتے نہیں سنا۔ اصل میں اردو کا محاورہ ’’مفت کی روٹیاں توڑنا‘‘ یہاں استعمال کیا گیا ہے۔ ہمارے سامنے جو کچھ بھی گزر چکا ہے اس کے پیش نظر دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جو بھی وزریر اعظم گزرا ہے اس نے مفت کی روٹیاں ہی تو توڑی ہیں۔

مدثر بھٹی کا کالم ہوئے مر کے ہم جو رسوا

نوراللہ کو جو لوگ نالائق نظر آئے میری نظر میں وہ صادق و امین ، دانش ور اور لائق ستائش اس لیے ہیں کہ آج تک کسی نے یہ کہنے کی جرات نہیں کی کہ وزیر اعظم مفت کی روٹیاں توڑتا ہے۔ گو ٹویٹ میں لفظ ’’مفت کی‘‘ محذوف پایا گیا ہے مگر جملہ اپنا مقام و مرتبہ اور مفہوم واضح کر رہا ہے اس لیے اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ خاص کر نوراللہ کا اعتراض تو کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ خود ایک ادب دوست اور دانشور ہے۔

ان سطور کے رقم کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کچھ دیر قبل ایک خبر تدوین کے لیے مجھے ملی جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹیرین خواتین کے لیے پارلیمنٹ لاجز میں فوری طور پر بیوٹی پارلر بنایا جائے۔ یہ خبر پڑھ کر فوری طور پر میرے ذہن میں ایک خاکہ ابھرا کچھ رعنائی سے بھرپور چہرے نظروں میں پھر گئے اور ان چہروں پر آرائش و زیبائش کے لیے کی جانے والی ملمع سازی بھی نظروں میںپھر سی گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ لازمی سی بات ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں کسی نے ان خواتین کو بغیر میک میں دیکھ لیا ہوگا اور کچھ عجب نہیں کہ کسی نے دبی دبی سی چیخ بھی مار دی ہوشاید اسی وجہ سے پارلیمنٹ لاجز میں فوری طور پر بیوٹی پارلر بنانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

امید ہے کہ بیوٹی پارلر بننے کے بعد اس قسم کی ہڑبونگ بیانات اور ٹویٹ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اگر بالکل ختم نہ ہو تو پھر اس کا کم ہونا تو لازمی ہے۔ اس طرح نوراللہ کو اعتراض اور مجھے دفاع کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں