113

میرے پاس 2017 میں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ آ گئی تھی، علی زیدی

Spread the love

لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور،کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)(عزیر بلوچ علی زیدی) نجی ٹی وی چینل

پر گزشتہ روز عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر

برائے بحری امور علی زیدی کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ان تک 2017 میں ہی

عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹس پہنچا دی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اہلخانہ کو دبئی

چھوڑ کر واپس آیا تو مجھے گھر کے سیکیورٹی گارڈ نے ایک لفافہ پکڑایا، میں نے وہ

صبح اٹھ کر دیکھا تو اس میں عزیر بلوچ سمیت 3 جے آئی ٹی رپورٹس تھیں۔

افغان پناہ گزینوں کے میزبان ممالک کی امداد جاری رکھی جائے، اقوام متحدہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ تک یہ رپورٹ اس لئے بھیجی گئی تھی کیونکہ میں اس وقت

اکیلا اس معاملے پر بہت زیادہ بول رہا تھا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز جے آئی ٹی

رپورٹ کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی زیدی کی جانب سے چیف جسٹس

سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی رپورٹ پر ازخود نوٹس کی اپیل کی گئی تھی انہوں نے

کہا کہ میں خود بھی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کروں گا

عزیز بلوچ نے بیان حلفی میں کہا تھاکہ مجھے آصف زرداری سے انتقامی کاروائی کا

خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹس مختلف

ہیں۔ صرف چار صفحات پر دستخط ہیں، جبکہ اصل جے آئی ٹی کے ہر صفحے پر

دستخط ہیں۔ سندھ حکومت کی جے آئی ٹی رپورٹ میں بس یہ ہے کہ کس نے

کس کو مارا؟جو لوگ قتل کرواتے رہے وہ پارلیمنٹ میں گھوم رہے ہیں۔

پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

نبیل گبول نے بھی جے آئی ٹی رپورٹ کو نامکمل قرار دیا ہے۔وزیر بحری امور نے کہا

کہ میں وفاقی وزیر کی حیثیت سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے

اپیل کرتا ہوں کہ 184(3) کے تحت اس معاملے پر آج آپ از خود نوٹس لیں اور آپ مجھ

سے بھی جے آئی ٹی روپوٹ لیں اور ان سے بھی مانگیں۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے

جے آئی ٹی پر دستخط کیے ہیں، انہیں چیف جسٹس عدالت طلب کر کے پوچھیں کہ کیا

یہ ان کے دستخط ہیں اور اس جے آئی ٹی میں یہ چیزیں کیوں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پٹیشن نہیں کرے گا تو اپنے طور پر بھی جا کر 184(3) کے

تحت ایک پٹیشن کر دوں گا کہ سپریم کورٹ اس پر از خودٹو نوٹس لے کیونکہ جن لوگوں

کے احکامات پر قتل ہوتے رہے، وہ ابھی بھی پارلیمنٹ میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ تا ہم

علی زیدی نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ ان کے پاس 2017 میں جے آئی ٹی رپورٹ آ گئی تھی۔

عزیر بلوچ علی زیدی

اپنا تبصرہ بھیجیں