54

افغان پناہ گزینوں کے میزبان ممالک کی امداد جاری رکھی جائے، اقوام متحدہ

Spread the love

نیویارک(صرف اردو آن لائن نیوز)(افغان پناہ گزینوں میزبان) اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے

پناہ گزین اور افغانستان، پاکستان اور ایران کے نمائندوں نے باہمی شراکت داری کی تجدید

کی ہے اورکہاہے کہ دنیا کی سب سے طویل بے وطنی کی صورت حال کو بہتر بنانے

کے لیے بین الاقوامی یک جہتی اور امداد کی ضرورت ہو گی۔

میڈیارپورٹس ککے مطابق افغان پناہ گزینوں کا بحران پانچویں عشرے میں داخل ہو رہا ہے

اور اب بھی 27 لاکھ کے قریب افغان باشندے غیر ملکوں میں پناہ گزین ہیں، جب کہ 26 لاکھ

کے قریب ملک کے اندر بے گھر ہیں۔

وینٹی لیٹر پر پڑی انسانیت

دریں اثنا پچھلے سال سے بحیرہ روم کے راستے یورپ جانے والوں میں سب بڑی تعداد

افغان پناہ گزینوں کی ہے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ بحران ابھی جاری ہے، اور

اس کا حل نکلتا نظر نہیں آرہا ہے۔اس

مسئلے پر ایک ورچویل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے

پناہ گرین فلیپو گرانڈی نے کہا کہ پناگزینوں کی 70 سالہ تاریخ میں افغانستان کا ترک مکانی

کا سب سے طویل اور گنجلک بحران ہے۔

بین الاقوامی برادری کو ایران اور پاکستان کی مدد کرنی چاہیے، ہمیں یکجتی کی تجدید کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے کام کرنا ہو گا،بیان

ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغانوں کی تیسری نسل جلا وطنی میں پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی

برادری کو ایران اور پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔ تاکہ یہ ملک افغان پنا گزینوں کی تعلیم اور صحت پر زیادہ

وسائل صرف کر سکیں۔ اور ان پناگزینون کی محفوظ وطن واپسی کے بہتر انتظامات کر سکیں۔

ہائی کمشنر گرانڈی نے مزید کہا کہ ہمیں یکجتی کی تجدید کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے کام کرنا ہو گا۔

اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم نہ صرف افغانوں کے قیمتی تشخص کو تباہ کریں گے بلکہ انہیں اپنی زندگی

سنوارنے کے مواقع سے محروم کریں گے۔

پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانوں نے 40 سالہ جلاوطنی کے دوران اپنی قوت برداشت کا زبردست مظاہرہ کیا

ہے۔ گرانڈی نے ایران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے افغان پناہ گزینوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی

اور اب افغان بچوں کی شرح خواندگی 6 فی صد سے بڑھ کر 68 فی صد ہو گئی ہے۔

پاکستانی حکوممت نے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں اور دیگر افراد کے رہنے سہنے کا انتظام کیا

ہے اور اب یہ پناہ گزین بینکوں میں اپنا کھاتہ کھول سکتے ہیں اور مالی اداروں تک رسائی حاصل کر سکتے

ہیں۔

ہائی کمشنر گرانڈی نے کہا کہ ان کوششوں کی نہ صرف تعریف کرنی چاہیے بلکہ مدد بھی کرنی چاہیے۔ انہوں

نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ ان ملکوں پر دبا بھی بڑھ گیا ہے۔ اس لیے ہمیں مزید مدد فراہم کرنا ہو

گی۔پناہ گزینوں کی عالمی ایجنسی نے 18 برس کے دوران تقریبا 53 لاکھ پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں مدد

کی۔

افغان پناہ گزینوں میزبان

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...