baloch 58

لیاری گینگ وار سرغنہ عزیر بلوچ پر فرد جرم عائد

Spread the love

کراچی (کورٹ رپورٹر)(عزیر بلوچ پر فرد جرم) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تاجر

کے اغواء برائے تاوان اور قتل کے مقدمے میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ پر

فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کردیا کیا ہے۔

عزیربلوچ کوسخت سیکیورٹی میں چہرہ ڈھانپ کراور ہتھکڑی لگا کرپیش کیا گیا عدالت

میں پیشی کے دوران فاضل جج نے مجرم کو فرد جرم پڑھ کر سنائی‘فرد جرم کے

مطابق عزیر بلوچ پرعبدالصمد کے اغواء برائے تاوان اور قتل کا الزام ہے ملزم نے

10 لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور70ہزارروپے لینے کے باوجود مغوی کوقتل کیا جج نے

استفسار کیا کہ کیا آپ جرم قبول کرتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی کورونا کے خلاف اقدامات پر پاکستان کی تعریف

کٹہرے میں موجود عزیر بلوچ نے نفی میں سرہلا کرصحت جرم سے انکارکر دیا عدالت

نے ملزم کے انکار پر آئی اواور گواہان کونوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر

گواہان کو پیش کرنے کا حکم دیا‘ملزم کی پیشی کے موقع پر سینٹرل جیل میں قائم

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں رینجرز کی بھاری تعینات تھی مذکورہ مقدمے میں

عزیر بلوچ کا بھائی زبیر بلوچ ودیگر گرفتار ہیں، دیگر ملزمان پر پہلے ہی فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔

خیال رہے کہ عزیر بلوچ کو30 جنوری 2016 میں رینجرز نے گرفتار کیا تھا

ستمبر 2013 میں کراچی آپریشن شروع ہوا تو عزیر بلوچ علاقے سے فرار ہوگیا تھا

عزیر بلوچ سے تحقیقات کے لیے 6 افسروں پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم

(جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ملٹری کورٹ نے بھی اپریل2020 میں عزیر بلوچ کو 12سال قید کی سزا سنائی تھی‘

عزیر بلوچ کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت بھی 12سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

چند روز قبل 36صفحات کی جے آئی ٹی انکوائری رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں

لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بابا لاڈلہ اور

جبار لنگڑا کے ذریعے رزاق کمانڈو کے بھائی کو 2010 میں قتل کرایا تھا۔

عزیر بلوچ نے کراچی کی شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں لسانی بنیادوں پر قتل اور جبار لنگڑا کے ذریعے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں 11 افراد کو قتل کرانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے شیر شاہ کباڑی

مارکیٹ میں قتل عام مخالف سیاسی جماعت کو بھتہ دینے کے شبے پر کیا

عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے

مارچ 2013 میں ارشد پپو کو قتل کرایا، اس کا کہنا ہے کہ پولیس افسران اور

گینگسٹرز کی مدد سے اس نے ارشد پپو کو قتل کرایا تھا

ملزم کا کہنا ہے کہ ارشد پپو کے قتل میں کئی پولیس انسپکٹرز کی مدد لی تھی،

ارشد پپو کو اغوا کرنے کیلئے پولیس موبائل کا بندوبست انسپکٹر یوسف بلوچ نے کیا تھا۔

جے آئی ٹی میں بتایا گیا ہے کہ ارشد پپو اور دیگرمغویوں کو آدم ٹی گودام میں لایا گیا

جہاں اسے 2 ساتھیوں سمیت قتل کر کے نعش جلا دی گئی اور پھر راکھ گٹر میں بہا دی گئی

رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے 2012 میں لیاری آپریشن کے دوران اپنے کارندوں

کو پولیس کے خلا ف مزاحمت کا بھی حکم دیا تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں عزیر بلوچ،

گینگ گروپ اور ایم کیوایم کے درمیان رابطوں کا بھی انکشاف ہوا ہے اس کے علاوہ

عزیر بلوچ کا ارشد پپو ،غفار ذکری گروپ پر حملوں اور شہریوں کے جاں بحق

ہونے کا اعتراف بھی سامنے آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...