فیصل M. Fasyal 59

وینٹی لیٹر پر پڑی انسانیت

Spread the love

ایم فیصل

مختلف انواع کے جانوروں اور پرندوں کے انسان کے ساتھ وقت گزرنے کے ساتھ کسی حد

تک مانوسیت کا پیدا ہو جانا ایک عام سی بات ہے۔ مفید مویشیوں کے علاوہ کچھ دوسرے

جانور بھی ہیں جو بظاہر تو بھیڑ بکریوں اور بھینسوں کی طرح کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے

لیکن انسان کی قربت میں رہنے کی وجہ سے مانوس ضرور ہونے لگتے ہیں۔ جیسا کہ بلی

اور کتے کی مختلف اقسام جن کو اکثر پالتو جانوروں کے طور پر گھروں میں شوقیہ اور

چوکیداری کی غرض سے بھی رکھا جاتا ہے۔(وینٹی لیٹر پر پڑی انسانیت)

یہ جانور زیادہ عرصے تک صحبتِ انسان میں رہنے کے نتیجے میں بعض اوقات ایسی

حرکات و سکنات بھی کرنے لگتے ہیں جو انسانی افعال سے بہت حد تک مشابہت

رکھتی ہیں۔ جیسے طوطا ہماری زبان بولنے لگتا ہے۔ بندر ہمارے جیسی چالیں چلنے لگتا ہے۔

ویسے تو ہمارے ہاں کسی بھی الٹی سیدھی حرکت پہ انسان کو بندر کے ساتھ نسبت

دی جاتی ہے کہ “تم بندروں والی حرکتیں کر رہے ہو۔” بہرحال دنیا کے مختلف حصوں میں

اس طرح کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو انسانی عقل کو دنگ کرنے کے لئے

کافی ہیں۔ حال ہی میں فلوریڈا میں ایک کار کو دائرے کی شکل میں ریورس گیئر میں

مسلسل کافی دیر تک چلتے ہوۓ دیکھا گیا۔ پتا چلا کہ وہ گاڑی گھمانے والا ٹیلنٹڈ ڈرائیور

کوئی انسان نہیں بلکہ ایک کتا تھا۔

کچھ اسی طرز کا ایک اور انوکھا واقعہ جارجیا میں دیکھنے کو ملا۔ جارجیا

(Georgia) یورپ اور ایشیا کے بارڈر پہ واقع ایک ملک ہے جو کسی زمانے میں سوویت سوشلسٹ

ریپبلک کہلاتا تھا اور سال 1991ء تک سوویت یونین کا حصہ رہا۔ اس واقعہ میں بھی

اتفاق سے مرکزی ہیرو ایک پالتو کتا ہی ہے۔

اس کتے کا نام کوپاتا(Kupata) ہے۔ جارجیا کے علاقے

بھارتی موبائل کمپنی ریلائنس جیو نے کشمیریوں کو 553 کروڑ کا چونا لگا دیا

باٹومی(Batumi) کی ایک سڑک پہ چوک میں لگے کیمروں میں اچانک ایک غیر معمولی سا منظر اس

دیکھا گیا جب یہ کوپاتا شہر کی اس مصروف سڑک پہ تن تنہا بڑے جذبے اور

رعب کے ساتھ ایک ذمہ دار ٹریفک وارڈن کا کردار نبھاتا ہوا پایا گیا۔

کوپاتا سکول جاتے بچوں کے ایک گروپ کو گاڑیاں روک کر زیبرا کراسنگ لائنوں

کو عبور کروا رہا تھا۔ جونہی بچے سڑک عبور کرنے کےلئے سڑک کے پاس آ کر

رکتے تو یہ کتا زور زور سے بھونکتا ہوا سڑک کے بیچ گاڑیوں کے سامنے آن کھڑا

ہوتا ہے اور آنے والی ٹریفک کو وکنے کے لیے اپنے طور پر انہیں دہشت زدہ کرتا ۔

اس طرح بچے آرام سے باحفاظت سڑک عبور کر کے دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔

کوپاتا اس دوران رکی ہوئی ٹریفک پہ کڑی نگاہ رکھے ہوئے تھا کہ کوئی گاڑی آگے

آنے کی کوشش نہ کرے۔ ماننا پڑے گا کہ کتے کی اس ساری مشق کا مقصد بلا

شک و شبہ وہی ہے جو ایک انسان ٹریفک وارڈن کا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پہ یہ چُست مددگار نیا وارڈن بہت پسند کیا جانے لگا۔ لوگوں کی طرف سے

طرح طرح کے تعریفی کلمات بھی جاری ہوئے۔ کسی نے لکھا کہ “چھوٹا سا پیارا ڈوگ

جس نے زندگی میں اپنا مقصد ڈھونڈ لیا اور وہ اپنی جاب سے محبت کرنے والا ہے۔

” یہ تعریف واقعتاً ایک کھرا سچ لگتی ہے۔ ایک اور صارف نے تو اس وارڈن کے

لئے باقاعدہ رہائش کا بندوبست کرنے کا مطالبہ بھی کر ڈالا۔ کہا، “کیا ہی حیرت انگیز

کتا ہے۔ کسی کو چاہئے کہ اس کو زندگی بھر کے لئے ایک گھر دے دے۔ بچوں کا اس

سے اچھا محافظ شاید کوئی اور نہ ہو سکے۔

اس قدر خوشگوار اور منفرد عوامی ردعمل کو بڑی اہمیت دی گئی۔ کوپاتا کے اس

طرزعمل کو خدمتِ خلقِ خدا کا جذبہ رکھنے والے تمام حلقوں میں خوب سراہا گیا۔

عوامی مطالبات کے پیشِ نظر اور اس کے غیرمعمولی عمل کے اعتراف میں الگ

سے ایک اعزازی گھر بھی الاٹ کیا گیا جس میں وہ رہے گا۔ نہ صرف یہ بلکہ کوپاتا

کو “پیپلز چوائس سٹار” کا خطاب بھی دیا گیا۔


پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

انسانی عقل کی حیرت کا اندازہ لگانا اس وقت واقعی مشکل ہو جاتا ہے کہ دماغ اور

عقل کے ساتھ سوچنے اور سمجھنے کی تمام تر صلاحیتیں تو ہمیشہ سے انسان کی

میراث رہی ہیں۔ تو یہ ایک کتا جانوروں کے نچلے ترین درجے میں سے نکل کے

اس خوبی اور وصف میں بھلا کیسے اشتراک کر سکتا ہے۔ بہرحال اس سوال کو

فی الوقت سوال ہی رہنے دیتے ہیں اور اصل بات اور مسئلے کی طرف واپس آتے ہیں۔

دیکھنے، سننے اور پڑھنے کوکسی کے لیے تو یہ محض ایک انوکھا واقعہ ہو اور

شاید کسی کےلیے یہ ایک بے وقعت کہانی بھی ہو سکتی ہے لیکن غور کیا جائے

اور سوچ بچار کے دریچے کھولے جائیں تو اپنے اندر ایک گہری اور سنجیدہ فکر

لئے ہوئے ہے۔ ایک جانور کا سڑک پہ آنا، بچوں کو دیکھنا اور بھانپ لینا کہ بچوں

کے قریب خطرہ منڈلا رہا ہے۔ پھر بیچ سڑک کے آکر گاڑیوں کے سامنے اپنی

مخصوص زبان اور انداز میں پرزور اعلان کرنا کہ رک جاؤ ، رک جاؤ، ننھے بچوں

کو پہلے گزرنا جانے دو۔

سوچنے کی بات ہے کہ آج انسان کہاں کھڑا ہے اس کو کسی خطرے کا ادراک

نہیں ہے۔ اگر اپنے گرد نواح میں نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ہم بے حسی کے ایک

سمندر میں بہتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنے سوا کے کے بارے میں کچھ فکر کرنے

یا سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ مادہ پرستی اور ہوس نے ہمارے قلب و اذہان

کو اس طرح قابو کر لیا ہے کہ ہماری ہر صلاحیت پر ہمارے لالچ غالب آچکے ہیں ۔ آج ہم

ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسانیت بیدار کرنے کے لیے ایک کتے کی مثال

پیش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اللہ نے سڑک پر گاڑی چلانے والے ہر شخص کو دو

آنکھیں اور عقل و شعور عطا کیا ہے پھر بھی انہیں سڑک پر چلتے چھوٹے چھوٹے

تک نظر نہیں آتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت وینٹی لیٹر پر اپنے آخری سانس لے رہی ہے۔

وینٹی لیٹر پر پڑی انسانیت وینٹی لیٹر پر پڑی انسانیت

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...