54

کورونا کے بعد دنیا میں طاعون کا خطرہ

Spread the love

چین(صرف اردو آن لائن نیوز)(دنیا طاعون کا خطرہ) کورونا وائرس کے دوران چین میں

’بلیک ڈیتھ‘ نامی بیوبونک طاعون کی انتباہ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے

مطابق اس طاعون کی زد میں آنے والا مریض ایک چرواہا ہے اور اسے قرنطینہ میں رکھا

گیا ہے تاہم مریض کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے

کہ بیوبونک طاعون بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔یہ خطرناک ہوسکتے

ہیں، لیکن ان کا علاج موجود ہے، عام طور پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال

سے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔

پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی تفصیلات منظرعام پر نہیں آئی ہیں کہ متاثرہ شخص

کو یہ انفیکشن کہاں سے ہوا۔ اس حوالے سے چینی حکام نے تیسرے درجے کا انتباہ

جاری کر دیا ہے۔ چار سطحی انتباہی نظام میں یہ دوسرا کم سے کم خطرناک لیول

ہوتا ہے۔تیسری سطح کے انتباہ کے مطابق ان جانوروں کے کھانے پر پابندی ہو گی

جس سے بیوبونک طاعون پھیلنے کا خطرہ ہو گا۔

خیال رہے کہ بیوبونک طاعون کے معاملات پوری دنیا میں وقتا فوقتا سامنے

آتے رہتے ہیں اور اس نے چودھویں صدی میں سینکڑوں لوگوں کی جان لے لی تھی،

تا ہم اب پورے چین میں دوبارہ اس کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ دوسری

جانب ابھی تک پوری دنیا میں پھیلنے والا کورونا وائرس بھی ختم نہیں ہو سکا،

تک وہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلتا جا رہا ہے جس کے بعد اس کو کنٹرول کی

کوشش کی جا رہی ہے لیکن ابھی تک اس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے۔

بھارتی موبائل کمپنی ریلائنس جیو نے کشمیریوں کو 553 کروڑ کا چونا لگا دیا

دنیا بھر میں کورونا سے پھیلنے والی تباہی کا اندازہ لگایا جائے تو ابھی تک 1 کروڑ 15 لاکھ

سے زیادہ افراد کورونا کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد

5 لاکھ 37 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ تا ہم ابھی دنیا کورونا وائرس سے لڑ رہی ہے تو

دوسری جانب اب چین میں ’بلیک ڈیتھ‘ نامی بیوبونک طاعون کی انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔

دنیا طاعون کا خطرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...