82

سٹاک ایکسچینج حملے میں بھارت ملوث ، اپنے نظریے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرونگا، عمران خان

Spread the love

اسلام آباد ( صرف اردو آن لائن نیوز ) بھارت ملوث

وزیراعظم عمران خاننے کہا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکس چینج حملے میں بھارت ملوث ہے، کوئی

شک نہیں کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے کا منصوبہ بھارت میں بنایا گیا۔قومی اسمبلی سے خطاب میں

وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردوں کا منصوبہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ملازمین کو یرغمال بنانا

تھا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے ہیروز سب انسپکٹر افتخار، خدا یار، حسن علی کو خراج تحسین پیش

کرتا ہوں، ہمیں کوئی شک شبہ نہیں کہ یہ بھارت کی طرف سے ہوا ہے، ہم دہشت گردی کے

4 منصوبے ناکام بنا چکے ہیں، 2 اسلام آباد کے قریب دہشتگردی کے منصوبے تھے، انٹیلی جنس

اداروں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوںوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھ پر لاک ڈاؤن کے

حوالے سے تنقید کی گئی، ہم نے کورونا ایس اوپیز کے تحت معیشت کھولی، لاک ڈاؤن میں دیہاڑی

دار طبقہ متاثر ہوتا ہے، ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کو اپنایا تاکہ معیشت چل سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر

مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی سخت لاک ڈاؤن نہیں کرنے دیتا، آج دنیا سمارٹ لاک ڈاؤن کی

طرف گئی ہے، ہمیں ابھی بھی معاشی طورپر چیلنج کا سامنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاور سیکٹر

کا ساراقرضہ ماضی کی حکومتوں کا ہے، پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی، پی آئی اے میں

اب مافیا بیٹھا ہوا ہے، 11 برسوں میں 10 بار پی آئی اے کے سربراہ تبدیل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ

ہمیں اداروں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، سٹیل ملز پر آج 250 ارب روپے کا قرضہ چڑھ

چکا ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی حکومت نے پہلے سال 4 ہزار ارب روپے جمع کی یجن میں

سے 2 ہزار ارب قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیا، اب اداروں کی اصلاحات کے بغیر نہیں چل

روس نے بھارت کی دوڑ لگوا دی

سکتے، اداروں میں بڑے بڑے مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے

گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے یہاں کھڑے ہوکر کہا کہ یہ ہے وہ

دستاویزات جس سے لندن فلیٹس لیے، نواز شریف کی بدقسمتی ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ چلا گیا،

ملک کا سربرا ہ پیسہ چوری کرکے باہر لے کر جارہا تھا ایک صاحب کہتے میاں صاحب فکر نہ

کرو۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے قومی اسمبلی میں دستاویزات لہرائیں کہ یہ لندن فلیٹس کے ثبوت

ہیں، لیکن وہ جعلی دستاویز تھیں اور سپریم کورٹ میں پکڑی گئیں، نوازشریف میری اس چیئر پر

کھڑے ہوکر کہہ رہا تھا یہ ہیں وہ ذرائع، یہ صاحب یہاں کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب فکر نہ کریں

لوگ جلدی بھول جائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ جمہوریت پسند نہیں انہوں نے

جمہوریت کو بدنام کیا، ان کو کیا پتہ تھا کہ میں سپریم کورٹ جاؤں گا، سپریم کورٹ نے انہیں کرپٹ

قرار دے دیا، یہ کیسا وزیر خارجہ ہے کہ دبئی کی کمپنی سے15، 20 لاکھ تنخواہ لے رہا ہو ،وہ

تنخواہ نہیں کچھ اور لے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم دبئی کی کمپنی میں نوکری

کررہا تھا، 10 سالوں میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے تک گیا، یہ لوگ

چاہتے ہیں کہ حکومت جلد چلی جائے تاکہ ان کی چوری بچ جائے۔عمران خان نے کہا کہ ان کی

پوری کوشش ہے کہ مائنس ون ہوجائے، اگر ایسا ہوبھی جائے تو جو آئے گاوہ بھی ان کو نہیں

چھوڑے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ‘میں نے کبھی یہ نہیں کہا میری کرسی مضبوط ہے، آج نہیں تو کل

مجھے بھی جانا ہے’۔انہوں نے کہا کہ میں نے نہیں کہا کہ میری حکومت نہیں جانے والی ،میں نے

کبھی نہیں کہا کہ میری کرسی بڑی مضبوط ہے ، کرسی صرف اللہ دیتا ہے ، کبھی آپ کو کرسی

چھوڑتے ہوئے گھبرانا نہیں چاہیے ، کرسی آنے جانے والی چیز ہے، اپنے نظریے پر کوئی سمجھوتہ

نہیں کرنا۔انہوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا چینی مافیا کومشرف کنٹرول نہیں کرسکا، نوجوان

پارلیمینٹیرین کو کہتا ہوں کبھی بھی کرسی چھوڑنے سے گھبرانا نہیں، جدوجہد کے بعد پارٹی

چیئرمین نہ بنے تویہ ہوتا ہے، بارش زیادہ آتا ہے توپانی زیادہ آتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا

کہ جنرل مشرف کی حکومت بْری نہیں تھی لیکن این آراو دینا وہ ٹھیک نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں

کچھ پلان بنانا پڑے گا، حکومت کے وہ ادارے جو مسلسل نقصان کررہے ہیں انہیں ٹھیک کرناہوگا،

ان اداروں میں بجلی کے بقایاجات سب سے بڑا عذاب بنا ہوا ہے، ہم اداروں میں بڑی بڑی تبدیلیاں

کرنے کو تیار ہیں، جب بھی تبدیلیاں لائیں گے مزاحمت آئے گی، ان بہت سے اداروں میں مافیاز

بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک اصلاحات نہیں کریں گے ملک نہیں چلے گا، اس سے نہیں

ڈرناکہ ہڑتال ہوجائے گی۔عمران خان نے کہا کہ اسٹیل ملز میں 34 ارب روپیہ بند مل کے ملازمین

کو تنخواہوں کا دے دیا گیا، جس پیپلزپارٹی نے اسٹیل ملز تباہ کی وہ اس کی بحالی کی باتیں کرتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر اب فیصلے نہ لیے تو پھر وقت نہیں رہے گا، بڑی بڑی اجارہ

داریاں بنی ہوئی ہیں، جگہ جگہ شوگر کارٹل کی طرح کی کارٹل بنی ہوئی ہیں، جو پیسہ بنارہا ہے وہ

ٹیکس تو دے۔وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ میں امراء سے زکوٰۃلے کر غرباء کو دی جاتی تھی،

یہاں 29 ارب کی سبسٹسدی لیکر 9 ارب ٹیکس دیتے ہیں اور چینی بھی عوام کو مہنگی دیتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ لوگ پیسہ بنائیں مگر ٹیکس دیں، تمام مافیاز اور اجارہ

داروں کو قانون کے تابع کریں گے، یہ مافیاز نہیں چل سکتے تھے جب تک حکومتیں سرپرستی نہ

کریں۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور نوازشریف کی شوگر ملز کالے دھن کو سفید کرنے کے

لیے بنائی گئیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کو کشمیریوں پر ظلم اور حقوق سلب

کرنے سے روکنا ہوگا، بھارت کے اقدامات جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا میں نے اقوام

متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے رابطہ کیا، دنیا کے دیگر رہنماؤں سے بھی رابطے کر رہا ہوں،

بھارت نے پہلے مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی الحاق کوشش کی، اب بھارت مقبوضہ کشمیر میں ا

بادی کا تناسب بدل رہا ہے، 25 ہزار بھارتیوں کو کشمیر کا ڈومیسائل جاری کرنا غیر قانونی ہے۔

بھارت ملوث بھارت ملوث

اپنا تبصرہ بھیجیں