بھوک بیماری عمران خان 44

جواب ان سے لیں جنہوں نے ملک کو اس حال تک پہنچایا ،عمران خان

Spread the love

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز ) عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار سنبھالا تو

اکانومی کے برے حالات تھے۔ جو لوگ ملک کو برے حال میں چھوڑ کر گئے، جواب ان سے مانگا

جائے۔وقمی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمیں حکومت ملی تو ملک

قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، گیس، بجلی اور دیگر معاہدے ہم نہیں ہم سے پہلے حکومتیں کرکے گئیں،

ہمیں بڑے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا، یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس ملک کی سابقہ قیادت کی وجہ

سے تھا، ہم مجبور ہو کر دنیا کے پاس پیسے مانگنے گئے، میں نے30 سال سے سب سے زیادہ فنڈ

ریزنگ کی، کبھی اسپتالوں، یونیورسٹیز کے لئے پیسے مانگنے لیکن کبھی شرم نہیں آئی، جب ہم

ملک کے لئے غیروں کے آگے گئے تو بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی، اس کے باوجود ملک کو

دیوالیہ سے بچانے کے لئے دنیا کے ملکوں میں پیسے مانگنے گئے تھے۔اب جواب ان سے مانگا

جائے جنہوں نے ملک کو قرضوں مین ڈبو دیا اور اس حال تک پہنچایاوزیراعظم عمران خان کا نے

کہا کہ کہ بھارت اور ایران سے ٹڈی دل آنے کا خطرہ ہے۔ یہ پاکستان کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے،

اس لئے اس اہم معاملے پر 31 جنوری سے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ اس کے خاتمے کیلئے پورا

زور لگائیں گے، این ڈی ایم اے کو اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔کورونا وائرس کی صورتحال پر بات

کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں نے خود ہی اس وبا کیخلاف اقدامات کیے۔ ہمیں خدشہ تھا

کہ لاک ڈاؤن سے مزدور طبقہ متاثر ہوگا۔ ہم نے لاک ڈاؤن کیساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی

بچانا ہے۔ قوم سے کہتا ہوں کہ اس مشکل مرحلے میں ہمت نہیں ہارنی۔ان کا کہنا تھا کہ سخت لاک

ڈاؤن نہ کرنے کی وجہ سے بڑی تنقید کی گئی، اس حوالے سے بڑا پریشر تھا۔ میں نے پہلے دن سے

کہا کہ ملکی حالات کو دیکھ کر فیصلے کریں گے لیکن بار بار کہا جا رہا ہے کہ حکومتی فیصلوں

میں کنفیوڑن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اگر کسی حکومت میں کنفیوڑن نہیں تھی تو ہماری تھی۔

تیرہ مارچ سے لے کر اب تک ایک بیان بتا دیں جس میں تضاد ہو۔عمران خان نے کہا کہ انڈٰین

حکومت کیساتھ موازنہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا جا رہا تھا بھارت کی طرح لاک ڈاؤن

کرو لیکن امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ وہاں سخت پابندیوں کی وجہ سے غریب کچلا

گیا مگر اس کے باوجود کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ

لاک ڈاؤن سے نقصان ہوا۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اتنے سخت اقدامات برداشت نہیں کر سکے۔ ہم نے

اس کے مقابلے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا۔ ابھی تک اللہ کا کرم بڑا کرم ہے، تاہم اگلا فیز مشکل ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ عوام ایس او پیز پر عمل کریں کیونکہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ہسپتالوں پر

پریشر بڑھے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی کی وجہ سے پاکستان میں چار ہزار

اموات ہو چکی ہیں۔ ہمارے پاس صرف دو راستے ایک احتیاط اور دوسرا بے احتیاطی کا ہے۔ ہم سب

پر لازم ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرائیں۔ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم

نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو اکانومی کے برے حالات تھے، 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، اس کے

علاوہ درآمدات اور برآمدات میں بھی تضاد تھاجبکہ مہنگائی کا بھی مسئلہ تھا۔ اس کیساتھ کورونا کی

آج کا دن کیسا رہے گا

وجہ سے بھی اسے فرق پڑا۔ عجیب لگا جب کہا گیا کہ اس معاملے میں حکومت کورونا کے پیچھے

چھپ رہی ہے۔ آج آئی ایم ایف نے بیان جاری کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کی اکانومی کو بارہ

ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ سو سال کے اندر یہ بڑا بحران آیا ہے۔

اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قرضہ اس لیے مانگ رہے تھے

کیونکہ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا۔ یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا، یہ ملک کی بد قسمتی تھی کہ سابق

حکومتوں کی وجہ سے قرضے مانگے۔ اپنے ملک کے ہسپتال بنانے کے لیے پیسے مانگتے ہوئے

مجھے شرم نہیں آتی، مجھے شرم تب آئی جب دوسرے ملکوں سے قرضہ مانگا۔حکومت سنبھالی تو

1200 ارب کا سرکلر ڈیٹ تھا۔ سابق حکومتوں میں توانائی کے منصوبوں کے معاہدے ہوئے لیکن ہم

پھنس گئے۔ اس بوجھ کے ساتھ مجھے پاکستان ملا تھا لیکن جواب مجھ سے مانگا جا رہا ہے، جو اس

حال میں ملک کو چھوڑ کر گئے، ان سے جواب مانگا جائے۔

عمران خان

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...