41

شرح سود میں ایک فیصد کمی،7فیصد مقرر، سٹیٹ بنک

Spread the love

کراچی (صرف اردو آن لائن نیوز) سٹیٹ بنک

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کردی جس کے بعد ملک میں شرح

سود 7 فیصد پر آگئی جو دوسال کی کم ترین سطح ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے ملک میں کورونا

وائرس کی وبا کے بعد تین ماہ کے دوران شرح سود میں پانچویں بار کمی کی گئی ہے۔16 اپریل کو

اسٹیٹ بینک نے کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے باعث شرح

سود میں 2 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا جس کے ساتھ ہی شرح سود 9 فیصد ہو گئی تھی۔اس کے بعد

مئی میںسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کی جس کے بعد شرح سود 8 فیصد ہو

گئی تھی۔مارچ سے اب تک اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 6.25 فیصد کی کمی کی

جاچکی ہے۔۔واضح رہے کہ رواں سال 28 جنوری کو سٹیٹ بینک ا?ف پاکستان کے گورنر باقر رضا

نے شرح سود کو 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سرمایہ کاروں کی

طرف سے حکومت سے اپیل کی گئی تھی کہ شرح سود میں کمی کی جائے۔اس دوران ملک بھر میں

کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے

مارچ کی 17 تاریخ کو شرح سود میں 0.75 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد شرح سود

12.50 فیصد ہو گئی تھی۔ ٹھیک ایک ہفتے کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر شرح

سود میں بڑی کمی کرتے ہوئے 1.5 فیصد کمی کی، 24 مارچ کو شرح سود 11 فیصد پر پہنچ گئی

آج کا دن کیسا رہے گا

تھی۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک ماہ سے قبل کم عرصے

کے دوران ایک مرتبہ پھر شرح سود میں دو فیصد کمی کر دی ہے جس کے بعد یہ شرح سنگل

ڈیجیٹ 9 فیصد پر آ گئی تھی۔رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران سٹیٹ بینک کے

جاری مانیٹری پالیسی بیان میں کہا ہے کہ شرح سود 8 سے کم کرکے 7 فیصد کرنے کے بروقت

فیصلے سے کاروبار کو فروغ ملے گا۔رپورٹ کے مطابق کورونا کے باعث معیشت اور کاروبار کو

ہوئے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک پر عزم ہے تاہم مستقبل میں معاشی بحالی کا

انحصار کورونا کی صورتحال پر پوگا۔اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پٹرول و ڈیز ل سستا

ہونے سے مہنگائی کی رفتار میں کمی دیکھی جارہی ہے جبکہ حالیہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منجمد رکھنے اور کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ بھی مہنگائی کو

لگام دینے میں معاون ہوگا۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ قرضوں کی واپسی کے باعث زرمبادلہ ذخائر کم

ہوئے ہیں تاہم ورلڈ بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک سے رواں ہفتے 1 ارب ڈالر سے زائد موصول

ہوئے ہیں اور مزید 50 کروڑ ڈالر جلد ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے ملنے کی امید ہے

سٹیٹ بنک

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...