De silva 44

ورلڈ کپ 2011ء کی تحقیق کرنی چاہئے :اروندا ڈی سلوا

Spread the love

کولمبو (سپورٹس ڈیسک صرف اردو ڈاٹ کام)(ورلڈ کپ 2011 تحقیق) سابق سری لنکن

بیٹسمین اروندا ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ لوگوں کو جھوٹ بولنے کیلئے کھلا نہیں چھوڑ

سکتے لہٰذا آئی سی سی، بھارتی اور سری لنکن کرکٹ بورڈز کو ورلڈ کپ 2011ء کی

تحقیق کرنی چاہئے جس کے متعلق سابق سری لنکن وزیر کھیل مہندا آنندا الوتھ گماگے کی

پی ڈی ایف کتابیں ڈانلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فائنل سری لنکا نے بھارت کے ہاتھوں فروخت کر

دیا تھا۔2011ء میں چیئرمین آف سلیکٹرز کے عہدے پر فائز 53 سالہ اروندا ڈی سلوا نے

آئی سی سی،کرکٹ سری لنکا اور بی سی سی آئی سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے

کی فوری تحقیقات کی جائیں کیونکہ ایسے لوگوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا جو ہمیشہ جھوٹ

بولتے ہیں اور سچن ٹنڈولکر کو اس احترام سے محروم نہیں کیا جا سکتا جو انہوں نے

طویل جدوجہد کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ جیت کر حاصل کیا تھا۔

طیارہ حادثہ،پائلٹ،ایئر ٹریفک کنٹرولر ذمہ دار

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سری لنکن پلیئرز عالمی کپ کی ٹائٹل فتح پر سراہے جاتے

ہیں اسی طرح سچن ٹنڈولکر بھی ساری زندگی اپنے کارنامے پر سراہے جائیں گے اور

بھارتی کرکٹ بورڈ کا فرض ہے کہ وہ سچن ٹنڈولکر اور لاکھوں بھارتی شائقین کے

مفاد کی خاطر اس معاملے کی غیر جانبدار انکوائری کرائے کہ کیا واقعی بھارت نے

فکسڈ ورلڈ کپ جیتا تھا۔اروندا ڈی سلوا کا کہنا تھا کہ اس قسم کے سنجیدہ الزامات سے

بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں اور یہاں بھی سلیکٹرز،پلیئرز،ٹیم انتظامیہ اور ٹائٹل

جیتنے والے بھارتی الزامات کی زد میں آ گئے ہیں۔

ورلڈ کپ 2011 تحقیق

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...