پاکستان لانے کی درخواست 114

چینی انکوائر ی کمیشن کیس ،حکومت کو کارروائی کی اجازت

Spread the love

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) چینی انکوائر ی کمیشن

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس پر حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے

تمام اداروں کو چینی رپورٹ پر کارر و ائی کی اجازت دیدی۔ چیف جسٹس اسلام آباد

ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر فیصلہ میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کی چینی

رپورٹ پر کاروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی ۔ دو صفحات پر مشتمل جاری

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار سمیت کوئی بھی فریق ہو اس کا فیئر ٹرائل کا

حق متاثر نہیں ہونا چاہیے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائیگا۔فیصلے میں مز ید کہا

گیا کہ وفاقی حکومت کا نیب کوکیس بھیجنا درست ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے چھٹی کے

دن چارگھنٹے تک دلائل سنے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختصر فیصلے کے مطابق

انکوائری کمیشن کی تشکیل درست تھی، قیمت کا تعین کرنا ہمارا نہیں ایگزیکٹوکا اختیارہے۔

وفاقی وزراء فیصلے پر بیان بازی نہیں کرینگے۔فیصلے میں چینی کمیشن پر عملدرآمد

کیلئے وزیراعظم کے معاو ن خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر کو تفویض

کردہ اختیارات غیرقانونی قرار دیئے گئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا

کہ وفاقی کابینہ کا شہزاد اکبر کو اپنے اختیارات تفویض کرنا خلاف قانون ہے، کابینہ کا

شہزاد اکبر کو اختیارات دینا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔اس سے قبل

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنر ل خالد جاوید خان نے دلائل کا آغاز کرتے

ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ رواج بن چکا ہے، شوگر ملز کے طاقت ور طبقات

حکومت میں موجود ہوتے ہیں، یہ کہنا غلط ہو گا کہ انکوائر ی کمیشن سیاسی مخالفین سے

انتقام کیلئے بنایا گیا، انکوائری تو حکومت کے اپنے مضبوط اتحادیوں اور دوستوں کیخلاف

بھی ہو رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کسی تعصب پر مبنی کا ر ر وائی نہیں۔خالد

جاوید خان نے کہا کہ کمیٹی میں آئی ایس آئی کے ممبر کی شمولیت کا اعتراض آیا تھا اس

کی وضاحت کردوں، سپریم کورٹ نے پانامہ اور فیک اکاونٹس کیس میں بھی جے آئی ٹی

تشکیل دی، اس میں بھی مختلف اداروں کے افسران کو شامل کیا گیا تھا، انکوائری کمیشن

نے ایسے ٹی او آرز کے تحت کام کیا کہ شوگر انڈسٹری کے تمام پہلوسامنے آسکیں، ایک

لحاظ سے یہ رپورٹ مکمل ان کیخلاف بھی نہیں بلکہ اس میں غیر قانونی اقدام کی نشاندہی

کی گئی ہے۔کیس کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شوگر

ملز کا مسئلہ حکومتی پریس کانفرنسز بھی ہیں، جو حکومت میں ہیں ان کو تو اس طرح کی

پریس کانفرنسز کرنے کی ضرورت ہی نہیں، ایسی پریس کانفرنسز دوسرے فریق کے

حقوق متاثر کرتی ہیں، انکوائری اور تفتیش کے شروع میں ایسی پریس کانفرنسز نہیں ہونی

چاہئیں۔شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے حکم امتناع میں توسیع کی درخواست کی

اورکہا کہ چینی کیس کاروباری افراد کے بنیادی آئینی حقوق کا مقدمہ ہے،، تاہم اسلام آباد

ہائی کورٹ نے شوگر انکوائری رپورٹ پر مزید اسٹے آرڈر دینے سے انکار کردیا۔شوگر

بحران پیدا کرنیوالے مافیا کو کسی صورت نہیں چھوڑینگے، وزیراعظم

ملز ایسوسی ایشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کرکٹر سلیم

ملک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹر پر آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف

ورزی کا الزام تھا اور انہوں نے پاکستان میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تھی

لیکن ان پر جو الزام تھا اس سے متعلق پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں تھا ،اسلئے

انکوائری کمیشن بنایا گیا، لہٰذا شوگر کے معاملے پر تمام متعلقہ قوانین ملک میں موجود ہیں،

حکومتی انکوائری کمیشن کی ضرورت نہیں تھی ۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگرتعصب پر

مبنی اس کارروائی پر ٹرائل ہو جائے تو ناانصافی ہو گی، ٹرائل میں ساری عزت نفس،

کاروبار مجروح ہونے کے بعد اپیل میں کہیں انصاف ملا بھی تو کیا ملا۔

چینی کمیشن کیس

چینی انکوائر ی کمیشن

اپنا تبصرہ بھیجیں