45

کوئی انڈین فوجی گرفتار ہی نہیں کیا تو رہائی کیسی ، چین

Spread the love

بیجنگ (صرف اردو آن لائن نیوز) انڈین فوجی گرفتار

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول

پر تعمیرات گرائیں، کئی بار احتجاج ریکارڈ کرانے کے باوجود بھار تی اشتعال انگیز جاری

رہی، بھارتی اقدامات نے دفاع پر مجبور کیا۔ترجمان چینی دفتر خارجہ نے سماجی رابطے

کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا بھارت نے 15 جون کو معاہد ے کی خلاف ورزی

کی، چین نے متعدد بار بھارت کو آگاہ کیا، احتجاج ریکارڈ کرایا، بھارت نے ایل اے سی

عبور کرنیوالے فوجیوں کی واپسی پر اتفاق کیا، دونوں ممالک فورسز کی مر حلہ وار

واپسی کا عمل طے کریں گے۔قبل ازیں ترجمان چینی وزارت خارجہ نے بھارتی میڈیا کا

دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا ہم نے کسی بھارتی فوجی کو تحویل میں نہیں لیا تھا ،

10 اہلکاروں جن میں 2اعلیٰ افسر اور 8اہلکار شامل ہیں کی رہائی بے بنیاد اور جھوٹا

دعویٰ ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا ہماری قید میں بھارتی فوج کا کوئی کوئی ایک بھی اہلکار

نہیں تھا۔ بھارت جھوٹے اور بے بنیاد دعوئوں سے باز رہے۔چینی وزارت خارجہ کے

ترجمان زاہو لیجیان نے میڈیا سے گفتگو میں 10 بھارتی فوجیوں کی رہائی کی خبروں پر

ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سچ اور جھوٹ نہایت واضح ہے، کوئی اہلکار ہماری قید ہی میں

نہیں تھا تو رہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بھارت پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوجیوں کی

رہائی کے دعوے کو درست ثابت کرنے کیلئے شواہد پیش کرے، الزامات کے بجائے بھارت

انسان کو مچھر کیوں کاٹتا ہے

خطے میں امن کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔واضح رہے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا

کہ چین نے لداخ میں جھڑپ کے دوران گرفتار ہونیوالے 10 بھارتی فوجیوں کو رہا کردیا

ہے اس جھڑپ میں بھارتی فوج کے 20 اہلکار ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

قبل ازیںچین نے بھارت کیساتھ سرحدی علاقے وادی گلوان کو اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے

گزشتہ دنوں ہونیوالی جھڑپ کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد کی ۔چینی وزارت خارجہ

کے ترجمان زاؤ لیجیان نے ہفتہ اور پریس بریفنگ کے دوران اس بات کو دہرایا کہ ’وادی

گلوان میں پیش آنیوالی سنگین صورتحال کا صحیح اور غلط واضح ہے اور اس کی تمام تر

ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔خیال رہے 15 جون کو بھارت اور چین کے درمیان

جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے تھے، یہ 45 سال

کے دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان سب سے خونریز جھڑپ تھی۔ وادی گلوان

چین اور بھارت کی سرحد کے مغرب میں لائن آف ایکچووَل کنٹرول (ایل اے سی) پر چینی

علاقے میں واقع ہے۔

چین

انڈین فوجی گرفتار

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...