ماں قسط نمبر10 Mother novel 128

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 14

Spread the love

وہ خاموشی سے اس کے سامنے جھکی۔ اس کا دل ایماندار سنجیدہ نوجوانوں کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوا تھا جو جیل جاتے ہیں لیکن ہونٹوں پر مسکراہٹ لئے ہوئے، اور اس کا دل ایک ماں کی محبت اور رحم سے معمور ہو گیا۔ کارخانے سے واپسی پر اس نے دن کا باقی وقت ماریا کے ساتھ گزارا، اس کے کام میںمدد کرتی رہی اور اس بک بک سنتی رہی۔ شام کو بڑی دیر میں وہ اپنے سرد، ویران، اداس مکان میں واپسی آئی۔ بہت دیر تک ایک جگہ سے دوسری جگہ چکر لگاتی رہی لیکن اسے سکون نہ ملا اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ وہ اس بات سے پریشان تھی کہ تقریباً رات ہو گئی تھی اور یگور ایوانووچ وہ چیز یں نہیں لایا تھاجن کاوعدہ کیا تھا۔(ماں ساشا یگور سماوار)

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 13

کھڑکی کے باہر خزاں کے زمانے کی برف کے بھورے بھورے گالے گر رہے تھے، وہ کسی شیشے پر آہستہ سے چپک جاتے اور پھر پگل کر اپنے پیچھے پانی کی لکیر چھوڑتے ہوئے بہ جاتے۔ وہ اپنے بیٹے کے بارے میں سوچنے لگی۔ ۔۔

دروازے پر بہت احتیاط سے کسی نے دستک دی۔ ماں نے جلدی سے جاکر کنڈی کھولی۔ ساشا داخل ہوئی۔ ماں نے ایک مدت سے اسے نہ دیکھا تھا اور اس کا پہلا تاثر یہ تھا کہ وہ غیر فطری طور پر کچھ موٹی ہو گئی ہے۔

’’آداب ‘‘ اس نے کہا۔ وہ خوش تھی کہ کوئی تو آیا اور کم سے کم رات کو تھوڑی دیر تک وہ تنہا نہ رہے گی۔ ’’بہت زمانے سے تمہیں دیکھا ہی نہیں، کہیں باہر گئی تھیں۔ ‘‘

’’نہیں، میں جیل میں تھی ‘‘ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

پی ڈی ایف کتب ڈانلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

’’نکولائی ایوانووچ کے سا تھ۔ یاد ہے نا وہ؟‘‘

’’ ہاں ہاں یاد کیوں نہیں! ‘‘ ماں نے کہا۔ ’’ یگور ایوانووچ نے کل مجھے بتایا کہ اسے چھوڑ دیا گیا ہے لیکن مجھے تمہارے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔۔۔کسی نے نہیں بتایا کہ تم بھی وہیں تھیں۔ ۔۔‘‘

’’کو ئی بات نہیں۔ ہاں، یگور ایو انووچ کے آنے سے پہلے مجھے لباس تبدیل کر نا ہے ‘‘ اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔

’’تم با لکل بھیگی ہوئی ہو۔ ۔۔‘‘

’’ میں اخبار اور پرچے لائی ہوں۔ ۔۔‘‘

’’ لائو مجھے دو، مجھے دو!‘‘ ماں نے بڑے اشتیاق سے کہا۔

لڑکی نے اپنا کوٹ ڈھیلا کر کے اپنے جسم کو جھکولے سے دئے اور درخت کے پتوں کی طرح اخبار اور پرچے نیچے ڈھیر ہو گئے۔ ماں انہیں سمیٹنے ہوئے ہنسی۔

’’میں نے تمہیں دیکھا تو سوچ رہی تھی کہ اتنی موٹی کیسے ہو گئی ہو۔ میں سمجھی تم نے شادی کر لی ہے اور تمہارے بچہ ہونے والا ہے۔ باپ رے! کتنے بہت سے پرچے لائی ہو!پیدل چل کر آرہی ہو ؟‘‘

’’ہاں‘‘ ساشانے کہا۔ وہ ایک بار پھر بلند قامت اور نازک اندام نظر آنے لگی۔ ماں نے دیکھا کہ اس چہرہ کھنچا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں پہلے سے بھی زیادہ بڑی معلوم ہورہی تھیں اور ان کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔

نیر سلطانپوری۔ فکر و فن

’’قید سے چھوٹنے کے بعد تمہیں آرام کی ضرورت تھی۔ لیکن اس کے بجائے تم یہ کر رہی ہو!‘‘ماں نے ٹھنڈا سانس بھر کر سر کو ہلاتے ہوئے کہا۔

’’کرنا ہی پڑتا ہے‘‘۔ لڑکی نے سردی سے کانپتے ہوئے کہا۔’’پاویل میخائلووچ کے بارے میں سنائو۔ گرفتاری کے وقت بہت پریشان تھا کیا؟‘‘

یہ سوال کرتے وقت ساشانے ماں کی طرف نہیں دیکھا۔وہ سر جھکائے کانپتی ہوئی انگلیوں سے اپنے بال ٹھیک کر رہی تھی۔

’’کچھ زیادہ نہیں‘‘ ماں نے جواب دیا۔ ’’وہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے والا آدمی نہیں ہے۔‘‘

’’صحت تو اچھی ہے ؟‘‘ لڑکی نے آہستہ سے دریافت کیا۔

’’ زندگی میں کبھی بیمار نہیں ہوا‘‘ ماں نے جواب دیا۔

’’لیکن تم تو سر سے پائوں تک کانپ رہی ہو! ٹھہرو میں تمہارے لئے چائے اور رس بھری کا جام لاتی ہوں۔‘‘

یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن تمہیں تکلیف بہت ہوگی۔ اتنی دیر ہو گئی ہے۔ٹھہرو میں خود ہی کر تی ہوں۔ ‘‘

’’اتنی تھکن کے بعد بھی؟‘‘ ماں نے سماوار چڑھاتے ہوئے سرزنش کے انداز میں جواب دیا۔ ساشا بھی باورچی خانے میں چلی گئی اور دونوں ہاتھ سر نے پیچھے رکھ کر ایک بنچ پر بیٹھ گئی۔

’’جیل واقعی آدمی کو تھکاڈالتا ہے‘‘ اس نے کہا۔’’کمبخت بیکاری! اس سے بد تر اور چیز ہو سکتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ کتنا کام کرنے کو پڑا ہے جانوروں کی طرح پنجرے میں بند بیٹھے رہنا۔۔۔‘‘

’’تمہیں اس کا صلہ بھی کبھی کوئی دے سکے گا؟‘‘ماں نے دریافت کیا۔

پھر ایک ٹھنڈا سانس بھر کر اس نے خودہی جواب دیا:

’’سوائے خدا کے اور کوئی نہیں! لیکن شاید تم خداپر بھی یقین نہیں رکھتیں ؟‘‘

’’نہیں‘‘ لڑکی نے سرہلاتے ہوئے مختصر سا جواب دیا۔

’’مجھے تمھاری باتوں کا یقین نہیں آتا‘‘ ماںنے جذباتی انداز میں کہا۔ پھر اپنے پیش بند سے ہاتھوں کی کوئلے کی کالک صاف کرتے ہوئے بولی: ’’تم خود اپنے اعتقاد سے واقف نہیں۔ اگر خدا پر یقین نہ ہوتا تو پھر ایسی زندگی تم لوگ کیسے گزار سکتے تھے ؟‘‘

دفعتا ًکوئی شخص ڈیوڑھی میں کچھ بڑبڑاتا ہوا داخل ہوا۔ ماں اچھل پڑی اور لڑکی ایک دم سے کھڑی ہو گئی۔

’’دروازہ مت کھولنا‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔’’ اگر پولیس والے ہوں کہ تم مجھے نہیں جانتیں۔ میں اندھیرے میں مکان بھول گئی تھی اور دروازے پربے ہوش ہو کر گر گئی تھی تم نے میرے کپڑے بدلے اور یہ پرچے تمہیں ملے۔سمجھیں؟‘‘

’’ہائے رے معصوم سی جان! میں یہ سب کیو ں کہوں؟ ‘‘ماں نے متاثر ہو کر دریافت کیا۔

’’ذراٹھہرو‘‘ ساشا نے دروازے پر کان لگا کر سنتے ہوئے کہا۔’’غالباً یگور ہے۔۔۔‘‘

وہ یگور ہی تھا، سر سے پائوں تک بھیگا اور تھکن سے ہانپتاہوا۔

’’آھا!تو سماوار چڑھاہواہے!تازہ دم کرنے کے لئے سماوار سے اچھی کوئی چیزنہیں ماں! تم آگئیں ساشا؟‘‘

اپنا بھاری کوٹ آہستہ آہستہ اتارتے ہوئے وہ بغیر رکے بات کرتارہا۔ باورچی خانے میں اس کے زور زور سے سانس لینے کی آواز بھری ہوئی تھی۔

’’سرکاری عہدہ دار ان محترمہ کو پسند نہیں کرتے ماں۔ جب جیلر نے انہیں پریشان کرناچاہا تو انہوں نے بھوک ہڑتال کر دی اور اس سے معافی کا مطالبہ کیا۔ آٹھ دن تک انہوں نے کچھ کھایا ہی نہیں جس کی وجہ سے بس مرتے مرتے بچی ہیں۔ چلو ٹھیک ہی ہوا کیوں؟ لیکن میری طرح بھی کسی کا پیٹ دیکھا ہے؟

دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے وہ اپنے مضحکہ خیز قسم سے نکلے ہوئے پیٹ کو تھا مے رہا اور دروازہ بند کرنے کے بعد بھی باتیں کرتاگیا۔

’’کیا سچ مچ تم نے آٹھ دن تک کھانا نہیں کھایا؟‘‘ ماں نے تعجب سے پوچھا۔

’’اس سے معافی منگوانے کے لئے مجھے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا‘‘ لڑکی نے کا نپتے ہوئے کہا۔ لڑکی کے لہجے کی سختی اور سکون میں ماں کو ملامت کا شائبہ نظر آیا۔

’’کیا لڑکی ہے!‘‘ اسنے دل میں سوچا، پھر بہ آواز بلند پوچھا ’’او ر اگر تم مر جاتیں تو؟ ‘‘

’’تو کیا کیا جاسکتا تھا؟‘‘ لڑکی نے آہستہ سے جواب دیا۔

’’لیکن اس نے معافی مانگ لی۔ لوگوں کو یہ تو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ہمارے حقوق کو پامال کر کے ہم پر قابو پائیں۔ ‘‘

’’ہوں۔ ہو نہ! ــ۔۔‘‘ماں نے آہستہ آہستہ کہا۔ ’’مرد تو بس یہی کرتے ہیں۔ ساری عمر یہ لوگ ہم عورتوں کے حقوق کو پامال کر کے ہم پر قابو حاصل کرتے ہیں۔ ‘‘

’’میں نے اپنا بار ہلکا کر دیا ‘‘ یگورنے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔’’سماوار تیار ہو گیا؟ٹھیرو میں اٹھاتا ہوں۔ ‘‘

دوسرے کمرے میں سماوار کو لے جاتے ہوئے اس نے کہا:

’’میرے پیارے وہ تہتر برس کی عمر تک بڑی آرام سے رہی اور صحت اچھی رہی، وزن پورے دو سو اٹھاسی پائونڈ تھا اور واسکری سینسک کے قصبے میں نائب پادری کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔۔۔‘‘

’’تم فادر ایوان کے بیٹے ہو؟‘‘ ماں نے دریافت کیا۔

’’ہاں میں ان ہی کا بیٹا ہوں! اور تم میرے والد بزرگوار سے کس طرح واقف ہو؟‘‘۔

’’میں بھی واسکری سینسک کی رہنے والی ہوں!۔۔۔‘‘

’’میرے وطن کی؟ کس کی بیٹی ہو تم؟‘‘

’’تمہارے پڑوسی سریوگین کی!‘‘

’’لنگڑے نیل کی بیٹی؟ میں تو انہیں بہت اچھی طرح جانتاہوں۔ ان سے تو ایک سے زیادہ بار مجھے گوشمالی کرانے کی سعادت نصیب ہوئی ہے!‘‘

وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہنس رہے تھے اور ہزاروں سوال کررہے تھے۔ چائے بناتے ہوئے ساشا مسکرائی۔ پیالیوں کی آواز ماں کو پھر اس ماحول میں لے آئی۔

’’ارے معاف کرنا!میرے دماغ سے تو ایک ایک بات نکل گئی۔ اپنے کسی ہم وطن سے مل کر کتنی خوشی ہوتی ہے!‘‘

’’معافی تو مجھے مانگنی چاہئے کہ میں نے ہر چیز پر قبضہ جمالیاہے لیکن اس وقت گیارہ بج چکے ہیں اور مجھے بہت دور جاناہے۔ ‘‘

’’کہاں جارہی ہو؟ بہت اندھیرا اور نمی ہے اور تم اس قدر تھکی ہوئی ہو۔ رات یہیں رہ جائو یگور ایوانووچ باورچی خانے میں سو سکتے ہیں اور ہم تم یہاں۔ ‘‘

’’نہیں،مجھے جاناہی چاہئے‘‘ لڑکی نے سادگی سے کہا۔

’’بد قسمتی سے ان نوجوان خاتون کو جانا ہی ہو گا۔ وہ لوگ انہیں پہچانتے ہیں۔ کل سڑکوں پر انہیں نظر نہ آناچاہئے‘‘یگور نے کہا۔

’’لیکن کیسے؟ تن تنہا؟‘‘

’’ہاں، تن تنہا‘‘یگور نے ہنس کرکہا۔

لڑکی نے اپنے لئے ایک پیالی چائے بنائی اور سیاہ روٹی کے ایک ٹکڑے پر نمک لگا کر ماں کی طرف متفکرانہ انداز میں دیکھتے ہوئے اس نے کھاناشروع کیا۔

’’تم لوگ کیسے کر لیتی ہو یہ۔ تم اور نتاشا۔میں تو کبھی نہیں کر سکتی، مجھے توڈر لگے ‘‘پلا گیا نے کہا۔

’’ڈر تو انہیں بھی لگتا ہے‘‘ یگور نے کہا۔ ’’تمہیں ڈر لگتا ہے نہ ساشا؟‘‘

’’یقینا لگتا ہے‘‘ لڑکی نے جواب دیا۔

ماں نے اس کی طرف اور یگور کی طرف دیکھا۔

’’کتنے سخت ہو تم لوگ! ‘‘اس نے کہا۔

چائے ختم کر کے ساشا نے خاموشی سے یگور سے مصا فحہ کیا اور باورچی خانے میں چلی گئی، ماں اسے باہر سلام کہہ دینا‘‘ ساشانے کہا۔ ’’بھول مت جانا!‘‘

وہ دروازے کے کنڈے پر ہاتھ رکھ چکی تھی کہ دفعتاً مڑی اور بولی:

’’تمہیں پیار کر سکتی ہوں؟‘‘

ماں نے خاموشی سے اسے سینے سے لگا لیا اور محبت سے پیار کیا۔

’’شکریہ ‘‘لڑکی نے کہا اور سر کو جبنش دیتے ہوئے وہ باہر چلی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں