عازب یعقوب 63

شرط (افسانہ) انتون چیخوف، ترجمہ عازب یعقوب

Spread the love

شرط (افسانہ) انتون چیخوف

ترجمہ: عازب یعقوب

یہ ذکر ہے خزاں کی ایک اندھیری رات کا۔ بوڑھا ساہوکار بے چینی سے اپنے کمرہ مطالعہ میں ادہر اْدہر ٹہلہتے ہوئے، یاد کر رہا تھا کہ کس طرح، پندرہ سال پہلے، اس نے خزاں کی ایک شام دعوت منعقد کی تھی۔ اس دعوت میں اس نے پڑھے لکھے اور ذہین لوگوں کو مدعو کیا ، اور ان کے درمیان کافی دلچسب گفتگو بھی ہوئی۔ ان بہت سی باتوں میں انہوں نے سزائے موت کے موضوع پر بھی بات کی۔ مہمانوں کی اکثریت، جن میں زیادہ تر صحافی اور عاقل انسان تھے، ان سب نے سزائے موت کی مذمت کی۔ ان کے خیال میں یہ سزا فرسودہ، غیر اخلاقی، اور عیسائی ریاستوں کے لیے نا مناسب تھی۔ ان میں سے کچھ کے خیال میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دینا چاِئیے تھا۔ “میں اس دعوت کا میزبان ساہوکارنے کہا’’میں تم سے اتفاق نہیں کرتا۔ بذات خود میں عمر قید یا سزائے موت دونوں کی حمایت نہیں کرتا، لیکن اگر آپ عدل کی آنکھ سے دیکھیںتو معلوم ہوگا کہ عمر قید کی نسبت سزائے موت زیادہ اخلاقی اور انسانی سزا ہے۔ سزائے موت آدمی کو ایک ہی بار مارتی ہے، لیکن عمر قید اس موت کو انتہائی سست رفتار بنا دیتی ہے۔ کون سا جلاد زیادہ رحم دل ہوگا، وہ جو چند منٹ میں آپ کو مار دے یا پھر وہ جو آپ کے اندر سے زندگی آہستہ آہستہ گھسیٹ کر سالوں تک نکالتا جائے؟‘‘(ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی)

میکسم گورکی کا شہرہ آفاق ناول ماں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

دونوں ہی برابر کے غیر اخلاقی عمل ہیں،’’ ایک مہمان نے کہا، کیونکہ دونوں کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے یعنی کسی کی زندگی کا خاتمہ کر دینا۔ ریاست خدا نہیں ہے۔ اس کو یہ حق ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ایسی چیز کسی سے چھین لے جو وہ مستقبل میں کسی طور بحال نہ کر سکے۔‘‘

مہمانوں میں پچیس برس کا یایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ جب اس سے اس کی رائے پوچھی گئی، تو اس نے کہا:
“سزائے ’’موت اور عمر قید دونوں ہی برابر کی غیر اخلاقی سزائیں ہیں، لیکن اگر مجھے ان میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جائے، میں یقیناً عمر قید کا انتخاب کرنا پسند کروں گا۔ جینا جیسا بھی ہو مر جانے سے کہیں بہتر ہے۔‘‘
ایک گرما گرم بحث شروع ہو گئی۔ ساہوکار، جو کہ ان سب میں جوان اور ان دنوں کچھ گھبرایا ہوا بھی تھا، وہ جوش سے اچانک آپے سے باہر ہونے لگا، اس نے میز پر زور سے مکا مارا اور وکیل کی طرف متوجہ ہو کر چلایا:

’’یہ قطعی درست نہیں ہے! میں بیس لاکھ کی شرط لگاتا ہوں کہ تم جیل میں پانچ سال بھی زندہ نہ رہ پاوگے‘‘۔

نوجوان لڑکے نے کہا ’’اگر تم سنجیدگی سے یہ چاہتے ہو، میں یہ شرط قبول کرتا ہوں لیکن میں پانچ سال نہیں، بلکہ پندرہ سال قید میں رہوں گا‘‘۔
“پندرہ پندرہ سال؟ چلو ٹھیک ہے! ’’ساہوکار نے چلا کر کہا۔ ’’معزز مہمانوں، میں بیس لاکھ کی رقم داو پر لگاتا ہوں!‘‘

میں اتفاق کرتا ہوں! تم اپنے لاکھوں داو پر لگاو اور میں اپنی آزادی داو پر لگاتا ہوں! نوجوان لڑکے نے کہا۔

اور پھر یہ بے مقصد، اور احمقانہ شرط طے پا جاتی ہے۔ وہ رات کے کھانے پر جوان آدمی کا مذاق اْڑاتا ہے، اور کہتا ہے:

اے لڑکےتم اچھی طرح سوچ بچار کر لو، کیونکہ ابھی تمہارے پاس وقت ہے۔ میرے لیے بیس لاکھ ایک معمولی سی رقم ہے، لیکن تم اپنی زندگی کے تین یا چار سال کھو دو گے۔ میں نے تین چار سال اس لیے کہا کیونکہ اس سے پہلے ہی تم مر جاو گے۔ یہ بھی مت بھولو، نا خوش انسان، کہ رضاکارانہ قید برداشت کرنا قید ِجبر سے قدرےمشکل ہے۔ تمہارا حق ہے کہ کسی بھی لمحے تم باہر آ کر آزادی حاصل کرسکو، صرف یہ ہی سوچ تمہارے سارے وجود کو زہر آلود کر دیگی۔ مجھے تم پر افسوس ہے۔

پی ڈی ایف کتب ڈانلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اور اب ساہوکار، ادھر اْدھر ٹہل رہا تھا، اور اپنے آپ سے سوال کر رہا تھا: ’’اس شرط کا مقصد کیا تھا؟ کسی شخص کی زندگی کے پندرہ سال ضائع کرنے کا اور میرے بیس لاکھ پھونکنے کا؟ کیا یہ سب ثابت کر سکتا ہے کہ سزائے موت اچھی یا بری شہ ہے نسبتاً عمر قید کے؟ نہیں، کسی طور نہیں۔ یہ سب بہت احمقانہ اور بے معنی تھا۔ میری طرف سے ایک امیر زادے کی اچانک خواہش اور اْس کی طرف سے پیسوں کی لالچ‘‘

پھر اسے یاد آیا کہ اس شام کو بعد میں کیا ہوا۔ یہ طے پایا کہ جوان آدمی قید کے سال اس کی زیر نگرانی اْس کے باغ میں واقع ایک چھوٹے سے گھر میں گزارے گا۔ یہ بھی طے پایا کہ وہ کسی طور پندرہ سال اس گھر سے باہر نہیں نکلے گا، نہ ہی کسی انسان کو دیکھ یا سن سکے گا، اور نہ اخبار تک اس کو رسائی دی جائے گی اور نہ ہی وہ کوئی خطوط حاصل کر سکے گا۔ اس کو ایک آلہ موسیقی، کتابیں، خطوط ارسال کرنے، اور شراب اور تمباکو نوشی کی اجازت ہوگی۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق، باہر کی دنیا سے اس کا تعلق بس گھر میں نصب کھڑکی کی مدد سے ہی ممکن ہو سکے گا جو کہ اسی مقصد کے لیے بنائی گئی تھی۔ وہ کوئی بھی چیز کسی بھی مقدار میں منگوا سکتا تھا کتابیں، موسیقی، شراب، وغیرہ ۔ اسے ایک حکم نامہ لکھنا تھا، اور اسے وہ چیز بذریعہ کھڑکی موصول ہوجاتی۔ اس معاہدے میں ساری تفصیل درج تھی جس سے اس کی قید کو سختی سے قید تنہائی بنایا گیا تھا، اور نوجوان لڑکے کو پندرہ سال وہاں رہنے کا پابند قرار دیا گیا تھا، ٹھیک 14 نومبر 1870ء شب بارہ بجے یہ قید شروع ہونی تھی اور اس کا اختتام 14 نومبر 1885 شب بارہ بجے ہونا تھا۔ اگر اْس نے مقررہ مدت کے آخری دو منٹ میں بھی اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ساہوکار بیس لاکھ ادا کرنے کا پابند نہیں رہے گا۔

اس کی قید کے پہلے سال میں، جتنا کہ اس کہ رقم شدہ مختصر دستاویز کو دیکھ کر بتایا جاسکتا ہے، قیدی کو دن اور رات انتہائی تنہائی اور پژمردگی برداشت کرنا پڑی۔ اس کے گھر سے دن اور رات پیانو کی آوازیں با آسانی سنی جاسکتی تھی۔ اس نے تمباکو نوشی اور شراب نوشی ترک کردی۔ اس نے یہ لکھا کہ شراب، خواہشات کو بھڑکاتی ہے، اور خواہشات ایک قیدی کے لیے بدترین دشمن ہوتی ہیں، اور اس کے علاوہ، اس سے بے لطف کیا چیز ہوگی کہ شراب نوشی کے بعد کسی کا ساتھ میسر نہ ہو۔ اور تمباکو اس کے کمرے کی آب و ہوا کو بدبودار کر دیتا۔ پہلے سال اس نے جو کتابیں منگوائیں بنیادی طور پر سادہ رومانوی ناولز تھے جن میں بہت عمدہ اور دلچسب کہانیاں تھیں۔

دوسرے سال پیانو کی آواز خاموشی میں بدل چکی تھی، اور قیدی صرف پرانی کتابیں طلب کرنے لگا۔ پانچوے سال میں موسیقی کی آواز دوبارہ اس کے کمرے سے آتی سنی جا سکتی تھی، اور اس نے شراب کا مطالبہ بھی شروع کر دیا تھا۔ جن لوگوں نے اسے کھڑکی سے دیکھا وہ کہتے یہ کچھ نہیں کرتا اور اپنا وقت کھاتے پیتے اور اپنے بستر پر لیٹ کر گزارتا ہے۔ اب وہ کتابیں نہیں پڑھ رہا تھا۔ کبھی کبھار وہ راتوں کو کچھ لکھنے بیٹھ جاتا، اور کئی کئی گھنٹے لکھنے میں صرف کرتا، اور رات کا لکھا ہوا سب کچھ صبح پھاڑ دیتا۔ کئی مرتبہ اس کے رونے کی آوازیں آتیں۔

چھٹے سال کہ آخری حصے میں اس نے پر جوش طریقے سے فلسفہ، تاریخ اور مختلف زبانیں سیکھنا شروع کر دیں۔ وہ اتنا پر جوش تھا کہ ساہوکار کو کتابیں خریدنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ چار سال کے عرصے میں، کوئی 6 سو کتاب اس کی درخواست پر حاصل کی گئی۔ اسی دوران ساہوکار کو قیدی کی طرف سے یہ خط موصول ہوا:

میرے پیارے جیلر، میں یہ سطریں 6 مختلف زبانوں میں لکھ رہا ہوں۔ اس خط کو ان لوگوں سے پڑھوایا جائے جن کو ان زبانوں پر عبور حاصل ہو۔ اگر وہ لوگ اس میں کوئی غلطی تلاش نہ کر پائیں تو آپ سے درخواست ہے کہ باغ میں کھڑے ہو کر ہوا میں ایک گولی چلادینا۔ اس سے مجھے پتہ چل جائیگا کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔ یہاں ہر طرح کے عالم فاضل لوگ رہتے تھے جو مختلف زبانوں پر عبور بھی رکھتے تھے۔ ’’آہ، کاش تمہیں علم ہوتا کہ میری روح کس قدر مطمئن ہے کہ میں اب ان ذہین لوگوں کو سمجھنے کے قابل ہوں‘‘ جن لوگوں نے اس خط کو پڑھا انہیں اس جملے میں ایک ہی طرح کی حدت محسوس ہوئی۔

قیدی کی خواہش پر عمل درآمد ہوا، ساہوکار نے اپنے خدمتگاروں سے کہہ کر ہوا میں دو گولیاں چلوا دیں۔

پھر دسویں سال کے بعد، وہ بے حرکت اپنی میز کے آگے بیٹھ کر صرف انجیل پڑھتا رہتا۔ یہ ساہوکار کے لیے باعث حیرت تھا، کہ جو آدمی چار سال کے قلیل عرصے میں 6 سو کتاب پڑھ کر ان پر مہارت پا چکا ہو، اب کے برس وہ ایک پتلی اور آسان فہم کتاب پر ضائع کرنا چاہتا ہے۔ انجیل کے بعد دینیات اور تاریخ کا آغاز ہوا۔

قید کے آخری دو سالوں کے دوران قیدی لا تعداد کتابیں پڑھنے لگا۔ کبھی قدرتی سائنس کی کتابوں میں مصروف تو کبھی شیکسپئر اور بائرون کی کتابوں کا مطالبہ۔ ایسے بھی خطوط تھے جن میں اس نے ان سب کتابوں کے علاوہ کیمیا، قدرتی دواوں، ناول، فلسفے اور دینیات پر مقالے کی درخواست کی۔ اس کا مطالعہ دیکھ کر ایسا لگتا کہ کوئی انسان اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی کے درمیان تیر رہا ہو، اور اپنی جان بچانے کے لیےکبھی حریصانہ انداز میں جہاز کا مستول ایک ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو تو کبھی دوسرے ہاتھ سے۔

بوڑھے ساہوکار کو یہ سب یاد تھا، اس نے سوچا:

کل شب بارہ بجے اُسے آزادی مل جائیگی۔ ہمارے معاہدے کے مطابق مجھ پر بیس لاکھ کی ادائیگی لازم ہو جائیگی۔ اگر میں اُسے ادائیگی کرتا ہوں، تو میں کنگال ہوجاوں گا۔ مکمل برباد ہوجاو ں گا۔

پندرہ سال پہلے، اس کے پاس بے شمار دولت تھی اب اسے اپنے آپ سے پوچھتے ڈر لگ رہا تھا کہ اُس کے اثاثوں کی تعداد زیادہ تھی یا اُس کے قرضوں کی۔ بازارِ حِصص کے علاوہ بے دریغ جوے بازی، بے وقوفانہ قیاس آرائیوں کی مد میں سب اُڑا دیا، ان قرضوں سے وہ اگلے کئی سالوں تک آزاد نہیں ہوسکتا تھا، آہستہ آہستہ اس کا سارا خزانہ ختم ہونے لگا اور جو پہلے مغرور، بے خوف، اور خود اعتماد رئیس تھا، اب ایک محض ایک معمو،لی ساہوکار رہ گیا تھا، اب وہ سرمایہ کاری کے ہر چھوٹے موٹے نفع نقصان پر لرز جاتا۔ ’’کمبخت شرط!‘‘ بوڑھا بڑبڑایا، مایوسی نے جیسے اس کا سر جکڑ لیا ’’یہ آدمی مر کیوں نہیں گیا؟ ابھی وہ صرف چالیس سال کا ہی ہے۔ وہ مجھ سے میری ایک ایک پائی چھین لے گا، وہ پھر شادی کرے گا، زندگی کے مزے اُڑائے گا، جبکہ میں اُس کو فقیروں کی طرح حسد سے دیکھوں گا، اور اس سے روز یہ جملہ سنوں گا، میں اپنی زندگی کی تمام خوشیوں کے لیے تمہارا مقروض ہوں، مجھے اپنی مدد کرنے دو! نہیں، یہ نہیں ہو سکتا! دیوالیے اور ذلت سے بچنے کا بس اب یہ ہی ایک راستہ ہے، اُس آدمی کی موت!‘‘

گھڑی نے تین بجائے، سب گھر میں سورہے تھے اور باہر سوائے ٹھنڈی ہوا سے پیدا ہونے والی درختوں کی سرسراہٹ کے کوئی آواز نہیں سنی جا سکتی تھی۔ کسی طرح کا شور نہ مچانے کی کوشش کے ساتھ، ساہوکار اپنی تجوری سے پندرہ سال سے بند دروازے کی چابی نکال کر اوورکوٹ کی جیب میں ڈالی اور انتہائی خاموشی کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔

چونکہ بارش ہو رہی تھی اس لیے باغ میں اندھیرا اور ٹھنڈ تھی۔ ساہوکار نے اپنی آنکھوں پر زور ڈال کر دیکھنے کی کوشش کی، لیکن اسے نہ گھر دکھتا ہے، نہ ہی درخت۔ اندازے سے نوجوان کے گھر پہنچ کر، اس نے دو بار چوکیدار کو آواز دی مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ ظاہر ہے خراب موسم کی وجہ سے اس نے کسی سایہ دار جگہ پر پناہ لی ہوگی، اور اب شاید باورچی خانے یا پودوں کی کیاریوں کے قریب کہیں سو رہا ہوگا۔

بوڑھے نے سوچا کہ اگر اس کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی تو تمام تر شک چوکیدار کی طرف ہی تو جائے گا۔

وہ اندھیرے میں احتیاط کے ساتھ قدم اٹھاتا قیدی کے گھر کےقریب پہنچا۔ پھر راستہ ٹٹولتے ہوئے ایک گزرگاہ میں آ کر دیا سلائی روشن کی۔ وہاں کوئی ذی روح دکھائی نہیں دیا۔ ایک بغیر بستر کا پلنگ موجود تھا اور ایک کونے میں لوہے کا سیاہ چولہا رکھا تھا۔ قیدی کے کمرے کے دروازے پر لگی مہر من و عن موجود تھی۔

جب دیا سلائی بجھی تو بوڑھا، جذبات سے کانپنے لگا،اس نے چھوٹی کھڑکی سے اندر جھانکا۔ قیدی کے کمرے میں ایک موم بتی کی مدھم سی روشنیمیں دیکھا کہ وہ میز کے قریب بیٹھا ہوا ہے۔ میز، دو کرسیوں کے علاوہ قالین پر بھی کھلی ہوئی کتابیں بکھری پڑی تھیں۔

پانچ منٹ گزرجانے کے بعد بھی قیدی نے کسی قسم کی کوئی حرکت نہ کی۔ پندرہ سالوں کی قید نے اسے سیدھا بیٹھنا سکھا دیا تھا۔ ساہوکار نے اپنی انگلیوں کی مدد سے کھڑکی بجائی، اور قیدی کی طرف سے کسی قسم کا کوئی ردِ عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ پھر ساہوکار نے احتیاط سے دروازے پر لگی مہر توڑی اور دروازے میں لگے قفل میں چابی ڈال کر گھمائی۔ زنگ آلود دروازہ ایک چرچراہٹ کے ساتھ کھل گیا۔

ساہوکار کو امید تھی کہ اس کو یہاں حیرت زدہ رونے کی آواز کے ساتھ قدموں کی آہٹ سنائی دے گی لیکن تین منٹ گزرجانے کے بعد بھی کمرے میں سناٹا چھایا رہا۔ ساہوکار کمرے میں داخل ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکا تھا۔

میز کے پاس ایک شخص بے حس و حرکت بیٹھا تھا۔ وہ ایک ڈھانچہ سا تھا، جس کی کھال اس کی ہڈیوں پر مضبوطی سے کھینچی ہوئی تھی، اور عورتوں کی طرح گھنگریالے بال اور گھنی داڑھی۔ وہ جس میز پر سر رکھے سو رہا تھا اس کے سامنے ہی انتہائی خوشخط عبارت سے مزین ایک کاغذ کا ٹکڑا پڑا تھا۔

ساہوکار سوچ رہا تھا کہ سوتے ہوئے یہ لازمی طور پر لاکھوں کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اور مجھے بس اس ادھ مرے شخص کو پلنگ پر پٹخ کر، تکیہ سے ہلکا سا دم گھوٹنا ہے، اور کوئی بھی اس کی موت کا اندازہ نہیں کر سکے گا اس نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے پرچے پر لکھی عبارت پڑھنے کا فیصلہ کیا۔

ساہوکار نے میز پر سے پرچہ اُٹھایا،اس پر یوں تحریر تھا

کل رات بارہ بجے مجھے اپنی آزادی اور دوسرے لوگوں سے ملنے کا حق مل جائے گا، لیکن میرے اس کمرے کو چھوڑ کر جانے، اور سورج کی پہلی کرن دیکھنے سے پہلے، میں لازمی سمجھتا ہوں کہ آپ کے لیے چند لفط کہوں۔ میں صاف دل سے، خدا کو حاضر ناضر جانتے ہوئے، یہ رقم کرتا ہوں کہ مجھے آزادی، زندگی اور تندرستی سے نفرت ہوگئی ہے، اور ان سب چیزوں سے بھی جو آپ کی کتابوں میں دنیاوی اچھی چیزیں کہی جاتی ہیں۔

گزشتہ پندرہ برسوں میں نے بغور دنیاوی زندگی کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ میں اس عرصے کسی انسان سے نہیں ملا، نہ ہی دنیا دیکھی، لیکن آپ کی دی گئی کتابوں سے میں نے خوشبودار شراب پی، گانے گائے، بارہ سنگھوں اور جنگلی سوروں کا شکار کیا، عورتوں سے محبت کی، خوبصورت بادلوں کی طرح، جو کہ آپ کے شاعروں اور داناوں کی تخلیق تھیں۔ آپ کی کتابوں میں میں نے مونٹ بلاونک اور البرز کے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کیں، اور وہاں سے سورج کو چڑھتے، شام میں ڈھوبتے ہوئے سورج کو آسمان اور سمندر میں طغیانی پھیلاتے دیکھا، اور یہ سورج پہاڑوں کی چوٹیاں سونے کی مانند کر دیتا۔ میں نے سبز جنگلات، دریا، نہریں، اور کئی قصبے دیکھے۔

آپ کی کتابوں نے مجھے دانائی بخشی۔ تمام بے چین سوچیں جو انسانوں نے سالوں تخلیق کیں وہ میرے دماغ میں ایک چھوٹے قطب نما کی مانند پنہاں ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ میں آپ سب سے زیادہ عقلمند ہوں۔

اور آپ کی کتابیں مجھے اس لئے نا پسند ہیں، مجھے دانائی سے نفرت ہے اور دنیاوی رحمتوں سے۔ یہ سب ناکارہ، عارضی، پر فریب، اور گمراہ کن ہیں، بالکل سراب کی طرح۔ ہوسکتا ہے کہ آپ خالصتاً ایک دانشور ہوں، لیکن موت دنیا سے آپکا نام و نشان مٹادیگی، جیسا کہ آپ کی اوقات زمین پر رینگتے ایک چوہے کی مانند ہو، اور آپ کی اولاد، تاریخ، اور لافانی دانشمندی جل کر یا پھر جم کر اپنے آپ کو کرۂ عرض میں ملا دے گی۔

آپ نے اپنا شعور کھویا اور غلط راستے کا انتخاب کیا۔ آپ نے جھوٹ کو سچ سمجھا، ہولناکی کو خوبصورتی جانا۔ آپ حیران ہو جائیں اگر قسمت کی ستم ظریفی سے، سیب اور نارنجی کے بجائے اچانک سے درختوں پر مینڈک اور چھپکلیاں اگنے لگیں، یا پھر پھول پسینے سے لت پت گھوڑے کی مانند ہنہنانے لگیں۔ پھر مجھے آپ پر حیرت ہو گی کہ آپ نے دنیا کو جنت کا متبادل خیال کیا۔ میں آپ کو مزید جاننا نہیں چاہتا۔

آپ کو عملاً ثابت کرتا ہوں کہ آپ جس طرح زندگی گزارتے ہیں، مجھے نا پسند ہے، اسی لیے جن بیس لاکھ کے کبھی میں نے خواب دیکھے اور انہیں جنت کا راستہ جانا، مجھے وہ اب نا پسند ہیں اور میں ان سے دستبردار ہوتا ہوں۔ اپنے آپ کو پیسوں کے حق سے محروم کرنے کے واسطے میں یہاں سے پانچ گھنٹے پہلے روانہ ہوجاونگا، اور پھر معاہدہ ٹوٹ جائیگا۔”

جب ساہوکار نے یہ پرچہ پڑھ لیا تو اس نے اس کو میز پر رکھ دیا، اور اس عجیب شخص کے سر پر ایک بوسہ دیا، اور پھر وہاں سے باہر آکر، رونے لگا۔ کبھی بھی، اس نے زندگی میں بے تحاشا نقصان اُٹھایا تھا مگر زنگی بھر اپنے لیے اس قدر حقارت کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بستر پر لیٹ گیا لیکن اس کے جذباتی آنسووں نے اسے گھنٹوں جگائے رکھا۔

اگلی صبح چوکیدار بھاگتا ہوا آکر بتاتا ہے کہ اس نے گھر میں مقیم آدمی کو کھڑکی سے پہلے باغ میں آتا دیکھا، پھر وہ داخلی دروازےنکل کر غائب ہو گیا۔ ساہوکار جلدی سے چوکیدار کو لے کر گھر تک پہنچا، اور قیدی کو وہاں سے فرار دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔ فضول گفتگو سے بچنے کے لیے، اس نے میز پر سے وہ پرچہ اُٹھایا جس میں لاکھوں کی دستبرداری تحریر تھی، اس نے گھر پہنچ کر اس پرچے کو اپنی تجوری میں محفوظ کر لیا۔

ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی ساہوکار بوڑھا چوکیدار قیدی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...