90

پشاور ہائیکورٹ، فوجی عدالتوں سے سزایافتہ 200 افراد کی سزا کالعدم قرار

Spread the love

رہائی پانے والے افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر

کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی گئی تھی

اعترافی بیانات پر سزاہوئی شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا، ریمارکس، مزید 100افراد

کے کیسز کا ریکارڈ نہ ہونے پر سماعت ملتوی


پشاور (صرف اردو آن لائن نیوز)پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزایافتہ 200

افراد کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔پشاورہائی

کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کے کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی

کورٹ وقار احمد سیٹھ اور جسٹس نعیم انور نے کی۔عدالت نے 200 افراد کی سزا کو کالعدم

قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا اور ریمارکس دئیے کہ اعترافی بیانات

لاہور کے61علاقے مکمل بند

پر ملزمان کو سزاہوئی اور انہیں شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے

مزید 100 افراد کے کیسز کا ریکارڈ نہ ہونے پر سماعت ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر

ریکارڈ پیش کرنے کاحکم دیا۔خیال رہے کہ پشاور ہائی کورٹ سے بری ہونے والے ان

200 افراد کو دہشت گردی کے الزامات پرملٹری کورٹس نے سزائیں سنائی تھیں جس پر ان

افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے معافی

کی درخواست کی گئی تھی۔

پشاور ہائیکورٹ

پشاور ہائیکورٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں