22

فاشسٹ مودی کی مسلم دشمنی

Spread the love

کولکاتا(صرف اردو ڈاٹ کام آن لائن نیوز)(فاشسٹ مودی مسلم دشمنی)بھارت کے بدنام زمانہ

تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پوچھ گچھ کے نام پر ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت

کولکاتا سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مسلم خاتون کو 10 روزکے لیے اپنی تحویل میں لیا ہے۔

اس پر الزام ہے کہ وہ لشکر طیبہ کی ہینڈلر ہے اور وہ مبینہ طور پر وہ مختلف سم کارڈز اور

واٹس ایپ جیسے دیگر چینلزکے ذریعے متعدد پاکستانی ہینڈلرز سے رابطے میں تھی ۔

این آئی اے کولکتہ کی 22سالہ مسلم خاتون سے تفتیش

این آئی اے نے پروین کو 10 دن کی تحویل میں لیا ہے جہاں انسداد دہشت گردی کی

تحقیقات کرنے والی ایجنسی کی ٹیم کولکاتاکے دفتر میں اس سے پوچھ گچھ کرے گی۔

تانیہ پروین کو 20 مارچ 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا اور 14 دن کی پولیس تحویل میں

بھیج دیا گیا تھا۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ تانیہ پروین اصل میں

ایک بنگلہ دیشی شہری ہے جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرکے10 سال قبل

ہندوستان آئی تھی۔ اس نے کولکتہ کے ایک کالج میں ایم اے کی تعلیم حاصل کی ۔

اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے تدارک کیلئے خصوصی اقدامات

اطلاعات کے مطابق ، پولیس نے الزام لگایا ہے کہ تانیہ پروین لشکر طیبہ کے ساتھ

سرگرم عمل رہی ہیں اور اسے دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے حوالہ نیٹ ورک کے

ذریعہ بھی رقم ملی تھی۔ تانیہ ہندوستان میں ایک اسلامی ریاست کی خواہاں ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ گرفتاری مودی کی زیرقیادت فاشسٹ بھارتی حکومت کی

مسلم دشمنی کا ایک حصہ ہے۔ تاہم بھارتی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش میں

خفیہ ایجنسیوں نے اسے کشمیری مجاہدین کے لئے کام کرنے کے جھوٹے کیس میں پھنسایا ہے۔

پی ڈی ایف کتب ڈانلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...