42

نیب کے شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے چھاپے

Spread the love

لاہور (صرف اردو آن لائن نیوز ) شہباز شریف گرفتاری

قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے چیئرمین کے حکم پر میاں شہباز شریف کو گرفتار

کرنے ان کی ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ 96 ایچ چھاپہ مارا لیکن کافی دیر بعد انھیں بتایا گیا کہ

اپوزیشن لیڈر یہاں موجود نہیں ہیں۔ جس کے بعدنیب کی ٹیم اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف

کو گرفتار کرنے جاتی امراء چلی گئی وہاں بھی نہب کی ٹیم شہباز شریف کو گرفتار کرنے

میں ناکام رہی ۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد

شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ روزنیب کے

طلبی کے نوٹس پر پیش نہ ہوئے تاہم انہوں نے اپنے نمائندے کے ذریعے جوابات بھجوائے

۔ شہباز شریف کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ وہ 69 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور

لاہور کے8 زونز خطرناک قرار

کینسر کے مریض بھی ہیں جبکہ لاہور سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس بھی پھیل رہا

ہے ،کرونا خدشات کے باعث میں پیش نہیں ہوسکتا ،نیب نے اپنی جوتحقیقات کرنی ہیں تو

مجھ سے ویڈیو لنک اور سکائپ کے ذریعے نیب جواب لے سکتا ہے ۔نیب کی مشترکہ

تحقیقاتی ٹیم نے شہباز شریف کے جواب کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد اجلاس منعقد کیا

جس میں تمام تر صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ بعد ازاں نیب کی ٹیم پولیس کی بھاری نفری

کے ہمراہ شہباز شریف کی ماڈل ٹائون میں واقع رہائشگاہ96ایچ پر پہنچ گئی تاہم سکیورٹی

گاررڈز کی جانب سے مرکزی دروازے کو بند رکھا گیا ۔ متعلقہ پولیس اسٹیشن سے پولیس

کی بھاری نفری اور اینٹی رائیٹس فورس کے دستے بھی ماڈل ٹائون پہنچ گئے جنہوں نے

شہباز شریف کی رہائشگاہ کی طرف آنے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا ۔ مسلم

لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب، رانا مشہود، عظمیٰ بخاری، ملک محمد احمد خان،

سمیع اللہ خان ، خواجہ عمران نذیر سمیت دیگر رہنما بھی شہباز شریف کی رہائشگاہ پہنچ

گئے ۔ لاہور کے مختلف علاقوں سے (ن) لیگ کے کارکن بھی ماڈل ٹائون پہنچے تاہم

پولیس نے انہیں آگے جانے سے روکدیا جس پر انہوں نے پولیس سے تلخ کلامی بھی کی

تاہم پولیس نے انہیں آگے نہ جانے دیا جس پر کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیدیا

اور حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی ۔ رانا مشہود اور دیگر رہنمائوں نے نیب

کی ٹیم سے وارنٹ گرفتاری اور سرچ وارنٹ دکھانے کا مطالبہ کیا جس پر نیب کی جانب

سے انہیں دستاویزات دکھا ئی گئیں ۔ بعد ازاں نیب کی ٹیم شہباز شریف کی رہائشگاہ کے

اندر داخل ہو گئی ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ نیب کی ٹیم

نے فیملی سیکشن میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف

کے گھر میں داخل ہونے والے افسران کے مطابق انہیں چائے پیش کی گئی تاہم کسی نے

بھی فیملی سیکشن میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ نیب کی ٹیم تقریباً ایک گھنٹہ تک

شہباز شریف کی رہائشگاہ کے اندر موجود رہی اور بعد ازاں خالی ہاتھ واپس لوٹ گئی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہبز شریف کے ماڈل ٹائون کے گھر میں موجود نہ ہونے کے

باعث نیب کی ایک ٹیم جاتی امراء رائے ونڈ بھی گئی ۔ علاوہ ازیں پولیس اور نیب کی ٹیم

نے رکن اسمبلی سہیل شوکت بٹ کے ڈیرے پر بھی چھاپہ مارا ۔ مگر وہ شہباز شریف کو

گرفتار کرنے میں ناکام رہی دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا

ہے کہ ہم اس سیاسی انتقام سے بھاگنے والے نہیں ہیں، کل ہائیکورٹ میں پیش ہونگے۔مریم

اورنگزیب نے الزام عائد کیا کہ تمام چیزیں وزیر اعظم کے حکم پر ہو رہی ہیں۔ پوری قوم

انتقامی کارروائی سے واقف ہے۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی کارروائی سیاسی انتقام پر مبنی

ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی نیب کارروائیوں کو کارروائیاں بدنیتی قرار دیا تھا۔ان کا کہنا تھا

کہ بلین ٹری سونامی اور چینی چوری ہوئی لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ چینی چوری

رپورٹ پر نیب کا نوٹس کدھر گیا؟ چینی چور وزیراعظم کو ہاتھ لگانے کی کسی میں جرات

نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نیب میں پیش ہوتے رہے ہیں، انہوں نے ہر پیشی پر

سوالنامہ جمع کرایا۔ شہباز شریف نے نیب کو خط میں بتایا کہ نیب کے افسران کو کورونا ہو

گیا ہے، اس لیے پیش نہیں ہو سکتے۔

شہباز شریف گرفتاری

شہباز شریف گرفتاری

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...