46

امریکہ میں ہنگامے350شہروں تک پھیل گئے

Spread the love

واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز) امریکہ میں ہنگامے

واشنگٹن ڈی سی اور نیو یارک سمیت متعدد شہروں میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج

فلائیڈ کی ہلات کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران

شرپسند عناصر توڑ پھوڑ اور دکانوں کو لوٹنے میں بھی مصروف رہے اوران پر قابو پانے

کی کوشش کرنے والے کم ازکم پانچ پولیس افسروں پر گولی چلائی گئی اور حملے ہوئے

جنہیں ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نیم فوجی دستے نیشنل گارڈز

ریاستی انتظامیہ کی مدد کرنے کے لئے متعدد ریاستوںمیں پہنچ گئے ہیں تاہم ڈیمو کریٹک

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پٹرولیم مصنوعات سستی کر دیں

پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر نیشنل گارڈز کی مدد لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

سوموار کی شام واشنگٹن ڈی سی کے قابو سے باہر ہونیوالے مظاہرین کو منتشر کرنے کے

لئے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔ نیو یارک کے سٹوروں میں وسیع لوٹ مار کے

واقعات کے بعد صدر ٹرمپ نے گورنر کومو کو ہدایت کی کہ وہ شرپسندوں پر قابو پانے

کیلئے نیشنل گارڈز کو متحرک کریں۔ ٹیلی ویژن کی نشریات میں بتایا گیا ہے کہ نیویارک

میں جہاں کچھ مظاہرین پرامن رہے وہاں متعدد شرپسند عناصر نے راک فیلر سنٹر کے

قریب دکانوں کے شیشے توڑ دیئے اور 39ویں سٹریٹ پر مشہور ڈیپارٹمنٹل سٹور ’’میسی‘‘

کے اندر گھس کر قیمتی سامان لوٹ کر لے گئے۔ نیو یارک ریاست کے شہر بفیلو میں ایک

بڑی گاڑی پولیس افسروں پر چڑھ دوڑی جن میں سے تین شدید زخمی ہوگئے۔ صدر ٹرمپ

کو ڈیموکریٹک گورنر کومو سے شکایت ہے کہ وہ جان بوجھ کر نیشنل گارڈ کو متحرک

نہیں کر رہے تاکہ بدامنی کی فضا برقرار رہنے سے وفاقی حکومت کو مشکلات میں اضافہ

ہو۔ تاہم گورنر کومو نے تسلیم کیا کہ ان کی پولیس لوٹ مار کو روکنے میںناکام رہی ہے۔

انہوںنے پورے ملک میں مظاہرین سے نمٹنے کی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر بھی شدید نکتہ

چینی کی۔ گورنر نے خرابی کی ذمہ داری نیویارک کے میٹریل ڈی بلالیو پر ڈالتے ہوئے

کہاکہ انہیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے کم ازکم 38 ہزار پولیس فورس استعمال کرنی

چاہئے تھی۔ واشنگٹن ڈی سی میں فوجی ہیلی کاپٹر مظاہرین کے سروں پر سو سے تین سو

فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے رہے جس سے مظاہرین میں خوف و ہراس پیدا ہوا اور منتشر

ہونے لگے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوموار کی شب وائٹ ہائوس کے قریب مظاہرین کو منتشر

کرنے کے لئے فوجی دستوں نے ان پر آنسو گیس پھینکی۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ ہزاروں

فوجی دستوں کو واشنگٹن ڈی سی میں امن و امان کے قیام کے لئے پوزیشن سنبھالنے کا

حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ ’’میں لاء اینڈ آرڈر صدر ہوں‘‘ ادھر ٹیکساس ریاست کے اٹارنی

جنرل نے اعلان کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے جو مظاہرین دوسری ریاستوں سے تعلق

رکھنے والے پائے گئے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمے چلائے جائیں گے۔ میڈیا کی اطلاع

کے مطابق پورے ملک کے 350 سے زائد شہروں میں ہنگامے پھوٹے ہیں جبکہ ان میں

سے 23 شہروں میں صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نیشنل گارڈز ریاستی انتظامیہ کی مدد کر

رہے ہیں۔

امریکہ میں ہنگامے

ہنگامے

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...