muslim dushmani 46

امریکہ میں سیاہ فام شہری کا قتل،ہنگاموں میں شدت

Spread the love

واشنگٹن(صرف اردو آن لائن نیوز) سیاہ فام شہری قتل

صدر ٹرمپ نے ریاستی گورنروں کو ’’کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر زور دیا ہے کہ وہ

پر تشدد مظاہروں میں شریک افراد کے ساتھ زیادہ سختی سے پیش آئیں، منی سوٹا میں سیاہ

فام قیدی جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس حکام کے ہاتھوں25مئی کو ہونے والی ہلاکت پر

ملک گیر احتجاجی مظاہرے سوموار کو آٹھویں روز داخل ہو گئے جب صدر ٹرمپ نے

ایک ویڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے گورنروں سے خطاب کیا۔ان کا موقف یہ تھا کہ

ترک سائنسدانوں کا کورونا وائرس تلف کرنیوالے ماسک بنانے کا دعویٰ

ریاستوں میں مناسب ردعمل کا مظاہرہ نہ کرنے اور شرانگیز افراد کو گرفتار نہ کرنے سے

صورت حال زیادہ بگڑ گئی ہے۔اس دوران حکمران ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے

سابق سپیکر نیوٹ گنگرچ نے ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ مظاہروں کی پشت پناہی

کرنے والی تنظیم’’انتیفا‘‘ کو صدر ٹرمپ کی طرف سے دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے بہتر

نتائج پیدا ہوں گے اور اب یہ تفتیش ہونا ضروری ہے کہ اسے کون فنڈ فراہم کر رہا ہے

انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار

جوبیڈن کی انتخابی مہم کی طرف سے گرفتار مظاہرین کی ضمانتیں کرائی جا رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گورنروں سے خطاب کے دوران انہیں ہدایت کی کہ وہ امن و امان قائم

کرنے کے لئے نیشنل گارڈز کی اس طرح خدمات حاصل ریں جس طرح منی سوٹا کی

ریاست میں ہو رہا ہے جہاں فساد شروع ہوا تھا۔انہوں نے گورنروں سے کہا کہ انہیں

شرپسندوں کو پکڑ کر کئی سالوں کے لئے جیلوں میں ڈالنا ہو گا تاکہ انہیں دوبارہ ایسی

حرکتیں کرنے کا موقع نہ ملے۔ادھر امریکی سیکرٹ سروس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان

کے خاندان کے تحفظ کے بارے میں اتنی تشویش تھی کہ اس نے مظاہرین کے وائٹ ہائوس

پر دھاوا بولنے کے وقت انہیں فوراً زیر زمین حفاظتی پناہ گاہ میں منتقل کر دیا۔25مئی کو

میناپولیس کے شہر میں ایک سیاہ فام قیدی جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسروں کے

ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک گیر ہنگامے پھوٹنے کے بعد وائٹ ہائوس بھی پر تشدد مظاہرین

کی زد میں آ گیا تھا۔ جمعہ کی شب یہاں مظاہرین اور پولیس اور سکیورٹی حکام کے درمیان

جھڑپیں ہوئی تھیں جس کی تفصیلات چھپ چکی ہیں تاہم نیو یارک ٹائمز نے اپنی تازہ

اشاعت میں رپورٹ کیا ہے کہ اس دوران وائٹ ہائوس کے اندر کیا کچھ ہوتا رہا۔ اخبار کے

مطابق جب سینکڑوں مظاہرین وائٹ ہائوس کے باہر جمع ہو گئے تو سکیورٹی حکام نے

وہاں رکاوٹیں کھڑی کر دیں جس کے بعد مستقل مظاہرین نے خالی بوتلیں اور دیگر اشیاء

سکیورٹی حکام پر پھینکنا شروع کر دیں جس کے جواب میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے

لئے سرخ مرچوں کا سپرے کیا گیا۔ اس دوران سیکرٹ سروس نے مناسب یہ سمجھا کہ

صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو زیر زمین حفاظتی پناہ گاہ میں منتقل کر

دیاجائے۔ انہیں فوری طور پر اس پناہ گاہ میں پہنچا دیا گیا جسے ’’صدارتی ایمرجنسی

صدارتی آپریشنز سنٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نائن الیون کے حملے کے وقت

سابق صدر جارج بش اور سابق نائب صدر ڈک چینی کو اس پناہ گاہ میں چھپایا گیا تھا۔ اس

کے بعد اس زیر زمین پناہ گاہ کو مزید مضبوط بنا دیا گیا تھا تاکہ وہ کسی طیارے کے

عمارت سے ٹکرانے کی صورت میں دبائو برداشت کر سکے۔نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا

ہے کہ صدر ٹرمپ اور خاتون اول مظاہرین کے اتنا قریب آنے پر بہت پریشان تھے۔ ہفتے

کی صبح اپنے ٹوئیٹر پیغام میں صدر ٹرمپ نے لکھا تھا کہ پناہ گاہ میں جانے کے بعد وہ

اپنے آپ کو بہت محفوظ محسوس کرتے تھے انہوں نے مزید لکھا تھا کہ اگر مظاہرین وائٹ

ہائوس میں داخل ہو جاتے تو انہیں خونخوار کتوں کا سامنا کرنا پڑتا اور ان پر گولی بھی

چلائی جا سکتی تھی۔

سیاہ فام شہری قتل

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...