121

ترک سائنسدانوں کا کورونا وائرس تلف کرنیوالے ماسک بنانے کا دعویٰ

Spread the love

استنبول(صرف اردو آن لائن نیوز) ترک سائنسدان

ترک ماہرین نے کورونا سمیت مختلف اقسام کے وائرس کو تلف کرنیوالا برقی ماسک بنایا

ہے جو ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد 12 گھنٹے تک کام کرتا ر ہتا ہے۔ اکسارے

یونیورسٹی کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کا تیارکردہ ماسک وائرس، جراثیم اور نئے

ٹوئٹر نے صارفین کیلئے ٹویٹ شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرا دیا

کورونا وائرس کو تلف کرسکتا ہے۔ اس طرح کورونا سمیت کئی طرح کے جراثیم اور

وائرس کو ختم کیا جاسکتا ہے جس سے انسان محفوظ رہ سکتا ہے یا کم ازکم اس کا دعویٰ

کیا گیا ہے۔اس طرح ماسک پہننے والے کو صاف اور وائرس سے پاک ہوا ملتی رہتی ہے۔

یہ ماسک دو ماہرین نے اپنے ایک منصوبے کے تحت تیار کیا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر

طارق یِلماز اور ان کے ساتھی نے پورے لاک ڈاؤن کے دوران اس ماسک پر کام شروع کیا

ہے اور دن رات کی محنت کے بععد اس کا پہلا نمونہ (پروٹوٹائپ) تیار کیا ہے۔ڈاکٹر طارق

اور ان کے ساتھیوں نے نوٹ کیا کہ کورونا وبا شروع ہوتے ہی ترکی میں عوام اور خود

ڈاکٹروں کے لئے ماسک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ اسی بنا پر انہوں نے خود تحقیق

کرنے کا فیصلہ کیا اور ماسک بنانے کا فیصلہ کیا جس میں بطورِ خاص الٹراوائلٹ روشنی

کا انتظام کیا گیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ الٹراوائلٹ یا بالائے بنفشی شعاعیں کئی طرح کیجراثیم

اور وائرس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن کورونا وائرس سے بچنے کے لیے

اسے براہِ راست انسانی جلد پر نہیں ڈالا جاسکتا کیونکہ الٹراوائلٹ شعاعیں جلد کے لیے

خطرناک اور سرطان کی وجہ بھی بن سکتی ہیں۔ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ ایک سو سال سے

ہم جانتے ہیں کہ الٹراوائلٹ شعاعیں کئی طرح کے وائرس اور جراثیم کو تباہ کرنے کی

زبردست صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی بنا پر انہوں نے ماسک کے اندر بالائے بنفشی روشنیاں

لگائی ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین نے ماسک کے اندر چاندی کے اوراق اور پرتیں لگائی ہیں

کیونکہ جراثیم کو ختم کرنے میں چاندی کی افادیت بھی صدیوں سے مسلمہ ہے۔ اس طرح

یہ ماسک ایک طرح کا برقی فلٹر بن گیا ہے جو وائرس کو جسم میں داخل ہونے سے قبل

ہی مارڈالتا ہے۔دوسرے سائنسداں ایمرے ارسلان نے بتایا کہ دو ماہ کی مسلسل محنت کے

بعد یہ ایجاد ممکن ہوئی ہے۔ اس ماسک کو پاور بینک سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔ان

ماہرین نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اس ماسک کی ا?زمائش کہاں کی ہے اور پہننے والوں

کو الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچانے کا کیا انتظام کیا گیا ہے۔

ترک سائنسدان

اپنا تبصرہ بھیجیں