104

چینی سکینڈل،ترین ، اومنی ،شریف،عمرشہریار سمیت6گروپ فراڈ میں ملوث

Spread the love

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز ) چینی سکینڈل

حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا

فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی جس کے تحت جہانگیر

ترین، مونس الٰہی، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے

ہیں۔فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی سیکنڈل میں ملوث افراد کیخلاف فوجداری مقدمات درج

کرنے اور ریکوری کرنیکی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ

ریکوری کی رقم گنے کے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔اس حوالے سے معاون

خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کہتے ہیں کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ دار

ریگولیٹرز کو قرار دیا ہے جن کی غفلت کے باعث بحران پیدا ہوا اور قیمت بڑھی، کمیشن

نے کیسز نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی ہے، عید کے بعد

وزیراعظم کی ہدایت پر سفارشات تیار ہوں گی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم

کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس

کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ کا آج بہت اہم دن ہے، پہلے کسی حکومت کی اتنی

ہمت نہیں تھی کہ ایسا کمیشن بنائے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے

انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس تاریخ ساز دن پر ہمیں سراہنا

چاہیے، ہم صحیح سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ

دار ریگولیٹرز کو قرار دیا ہے، جن کی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اور قیمت

بڑھی، کمیشن نے کیسز نیب، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور اینٹی کرپشن کو

بھجوانے کی سفارش کی ہے جب کہ کابینہ نے ریکوری کرکے پیسے عوام کو دینے کی

سفارش کی ہے اور وزیراعظم نے مجھے اس کی ذمہ داری سونپی ہے۔مشیر برائے

احتساب کا کہنا تھا کہ عید کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر سفارشات تیار ہوں گی، ابھی

کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر نہیں ڈالا گیا، کوئی تحقیقاتی ادارہ کہے گا

تو کابینہ نام ای سی ایل میں ڈالنے پر غور کرے گی۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ انکوائری

کمیٹی نے مفصل رپورٹ پیش کی ہے،رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ شوگرملز کسانوں کو

امدادی قیمت سے کم قیمت دیتے ہیں اور کسانوں کو گنے کے وزن میں 15 فیصد سے

زیادہ کٹوتی کی جاتی ہے،کچی پرچی اور کمیشن ایجنٹ کے ذریعے کم قیمت پر کسانوں

سے گنا خریدا جاتا ہے اور اس کی لاگت زیادہ دکھائی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ

وزیر اعظم آٹا، چینی بحران پران ایکشن، جہانگیر ترین برطرف

2019 میں گنا 140 روپے سے بھی کم میں خریدا گیا اور شوگر ملیں 15 سے 30 فیصد

تک مقدار کم کرکے کسانوں کو نقصان پہنچاتی رہیں جب کہ چینی کی قیمتوں میں 33 فیصد

اضافہ ہوا، 2018-2017 میں شوگر ملز نے چینی کی فی کلو لاگت 51 روپے رکھی جب

کہ اس عرصے میں فی کلو لاگت38 روپے تھی۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ 2019-2018 میں

اصل لاگت میں ساڑھے 12 روپے فی کلو کا فرق پایا گیاجب کہ 20-2019 میں چینی کی

فی کلو لاگت میں 16 روپے کا فرق پایا گیا، کسانوں کے ساتھ مل مالکان اَن آفیشل بینکنگ

بھی کرتے رہے ہیں۔مشیر برائے احتساب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کاروبار

کرنے والا سیاست میں بھی کاروبار کرے گا، وزیراعظم کی یہ بات سچ ثابت ہوگئی

ہے،انہوں نے بتایا کہ چینی کی قیمت میں ایک روپیہ اضافہ کرکے 5.2 ارب روپے منافع

کمایا جاتا ہے، پاکستان کی برآمد اور افغانستان کے درآمد ڈیٹا میں فرق آیا ہے،ایک ٹرک

15 سے 20 ٹن لے جاسکتا ہے،یہاں ایک ٹرک پر70 سے80 ٹن چینی افغانستان گئی۔ا

چینی سکینڈل

چینی ,سکینڈل

اپنا تبصرہ بھیجیں