27

امریکہ کیساتھ معاہدہ اسلامی نظام کے نفاذ کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے،طالبان

Spread the love

کابل (صرف اردو آن لائن نیوز) امریکہ کیساتھ معاہدہ

افغان طالبا ن کے سربراہ مولوی ہبت اللہ اخونذادہ نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے

وعدوں پر مستحکم رہے ،دونوں فریقین کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد میں کسی کو

رکاوٹ نہ بننے دیا جائے ، امریکہ کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد ہمارے ملک اور امریکہ

کیلئے جنگ کے خاتمہ ،ملک میں داخلی امن کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کا بہترین

طالبان امن بھی جنگ سے قائم کرنا چاہتے ہیں، زلمے خلیل زا

ذریعہ بن سکتا ہے،جلد قیدیوں کی حفاظت اور رہائی کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے چا

ہئیں،مخالف صف میں کھڑے افراد اگر مخالفت سے دستبردار ہوجائیں،ہماری طرف سے

عام معافی کا اعلان ہے ، ملکی اور بیرونی حلقے سویلین ہلاکتوں کی روک تھام کیلئے

مؤثر اقدامات کریں۔پڑوسی ممالک سے اچھے ہمسائے اور خطے اور دنیا بھر کے تمام

ممالک کیساتھ مفید تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ بدھ کو عید الفطر پر اپنے پیغام میں

افغان طالبان کے سربراہ نے کہاکہ جہاد میں عوام اور مجاہدین نے جو قربانیاں دیں اور جو

تکالیف اور مصائب جھیلے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔وہ طبقات یا شخصیات جو جارحیت

کے خاتمہ کے بعدمستقبل کے نظام کے متعلق خدشات کا شکار ہیں، ایک بار پھران سب کو

یقین دلاتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کی پالیسی انحصارطلب نہیں ہے، انہوںنے کہاکہ چند وہ

عناصر جو بیرونی انٹیلی جنس حلقوں کی جانب سے دئیے جانیوالے منصوبے کی مطابق

اپنے مذموم اہداف اور اقتدار تک پہنچنے کیلئے ملک میں لسانی، قومی، مذہبی اور دیگر

بنیادوں پر تنازعات اور تعصبات کو بھڑکا نا چاہتے ہیں۔امریکہ کیساتھ تاریخی معاہدے پر

دستخط اور اس کے نتیجے میں جارحیت کا خاتمہ امارت اسلامیہ اور تمام افغان ملت کے

لیے ایک عظیم کامیابی سمجھا جاتا ہے اور اگر اس پر نیک نیتی سے عمل درآمد کیا جائے

تویہ تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکی حکام سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں

کسی بھی طبقے کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان جو

معاہدہ ہوا ہے اور جسے عالمی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ہے ، اس معاہدے پر عمل درآمد میں

رکاوٹ بنیں ، اس میں تاخیری حربے ڈالیں اور آخرکار اسے ناکامی سے دوچار کریں۔

مخالف فریق کی جانب سے باربار عام شہریوں اور گھروں کو فضائی بمباری، میزائل

حملوں اور بھاری ہتھیاروں کا نشانہ بنایا جاتاہے، جو پریشان کن عمل ہے۔

امریکہ کیساتھ معاہدہ

اپنا تبصرہ بھیجیں