ماں قسط نمبر10 Mother novel 167

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 13

Spread the love

’’تم ہو!‘‘ پلاگیا نے کسی وجہ سے دفعتاً خوش ہوکر کہا۔ ’’یگور ایوانووچ؟‘‘(ماں گورکی قسط 13)

’’ بالکل وہی!‘‘ اس نے اپنے بڑے سے سر کو جھکاکر جواب دیا۔ اس کے سر کے بال کسی مناجات خواں کی طرح لمبے تھے، اس کے چہرے پرمسکراہٹ تھی اور چھوٹی بھوری آنکھیں نرمی اور شفقت سے ماں کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ وہ بالکل سماوار کی طرح تھا۔ گول اور پستہ قد گردن موٹی اور ہاتھ چھوٹے چھوٹے۔

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 12

اس کے چہرے پر چمک تھی اور وہ زور سے سانس لیتا تھا اور اس کے سینے کی گہرائی میں کوئی چیز خرخر کرتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔

’’ تم لوگ دوسرے کمرے میں جائو تب تک میں کپڑے بدل لوں ‘‘ ماں نے کہا۔

’’ ہمیں تم سے کچھ دریافت کرناہے‘‘ سموئلوف نے اسے ابروئوں کے نیچے سے دیکھتے ہوئے بڑی بے صبری کے ساتھ کہا۔

یگور ایوانووچ دوسرے کمرے میں چلاگیا اور وہیں باتیں کر نے لگا۔

’’ آج صبح کو نکو لائی ایوانووچ جیل سے آگیا ماں۔ شاید تم جانتی ہو اسے؟‘‘ اس نے بات شروع کی۔

’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ بھی جیل میں ہے‘‘ ماں نے ٹوکا۔

’’دو مہینے گیارہ دن کے لئے۔ وہاں خوخول سے ملاقات ہوئی تھی اس نے تمہیں سلام کہا ہے اور پاویل نے بھی۔ اور اس نے کہا کہ تم گھبرانا نہیں۔ اس نے یہ بھی کہلایاہے کہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے کو جو بھی اختیار کرے گا اس پر جیل میں چند دن کی چھٹیاں گزارنے کی عنائتیں اکثر وبیشتر کی جائیں گی۔

ہمارے آقائوں کی مہربانی سے اتنی بات تو پکی ہو گئی ہے۔ اور اب ذرا کام کی بات کرناہے ماں۔ تمہیں معلوم ہے کہ کل کتنے لوگ گرفتار ہوئے ؟‘‘

ارسطو کی کتاب ’’بوطیقا‘‘ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

’’ کیوں۔ کوئی اور بھی تھا پاویل کے علاوہ؟‘‘ ماں نے دریافت کیا۔

’’ وہ تو انچاسواں تھا‘‘ یگورایوانووچ نے آہستہ سے کہا۔

’’اور منتظمین غالباً ایک درجن کو اور گرفتار کرادیں گے۔ مثال کے طور پر یہ نوجوان۔‘‘

’’ ہاں، مجھے بھی ‘‘ سموئلوف نے پر مژدہ انداز میں کہا۔

پلاگیا کو محسوس ہوا کہ کسی وجہ سے اس کے لئے سانس لیناآسان ہو گیا ہے۔

’’ کم سے کم وہ تنہا تو نہیں ہے ‘‘ اس کے ذہن میں یہ بات آئی۔

لباس تبدیل کرنے کے بعد وہ مہمانوں کے پاس آئی۔ اس وقت وہ بہت ھشاش بشاش تھی اور ان لو گوں کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔

’’اتنے لوگوں کو پکڑا ہے تو میرا خیال ہے بہت دنوں تک نہیں رکھیں گے۔‘‘

’’تمہارا خیال صحیح ہے!‘‘ یگور ایوانووچ نے کہا۔’’ اور اگر ہم ان کا یہ تماشہ ختم کر سکیں تو انہیں دم دباکر بھاگنا پڑے گا۔ نکتہ یہ ہے کہ اگر کارخانے میں ہم پرچے تقسیم کرنا بند کر دیں تو پولیس والوں کے ہاتھ ایک موقع آئے گا اور وہ اسے پاویل اور دوسرے ساتھیوں کے خلاف استعمال کریں گے جو قید کی تنگی اور تکلیف اٹھا رہے ہیں ‘‘

’’ تمہارا مطلب کیا ہے ؟‘‘ ماں نے خوفزدہ ہو کر دریافت کیا۔

’’ بہت سیدھی سی بات ہے‘‘ یگورایوانووچ نے آہستہ سے کہا۔’’ کبھی کبھی پولیس والے بھی منطقی انداز میں سوچتے ہیں۔ تم خود ہی سوچو: پاویل آزاد تھا تو اخبار اور پرچے تقسیم ہوتے تھے۔ پاویل گرفتار ہو گیا تو نہ اخبار ہیں نہ پرچے۔

صاف بات ہے اس کے معنی یہ ہوئے کہ اخباروں اور پرچوں کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ ہے نا یہی بات ؟اور لوگ ان سب کو ہڑپ کرنے کی کوشش کریں گے۔

خفیہ پولیس والوں کی عادت ہے کہ لوگوں کو اس طرح نگلتے ہیں کہ سوائے ریزے بھوروں کے اور کچھ باقی نہیں رہتا۔‘‘

’’میں سمجھی‘‘ ماں نے افسردگی سے کہا۔’’ افوہ! لیکن ہم اس کے متعلق کیا کر سکتے ہیں ؟‘‘

’’تقریباً ہر شخص کو تو پکڑلے گئے، خداانہیں غارت کرے! ‘‘سموئلوف کی آواز باروچی خانے میں سے آئی۔ ’’اب ہمیں کام کو نہ صرف اپنے مقصد کے لئے بلکہ بہت سے ساتھیوں کو بچانے کے لئے بھی جاری رکھناہے۔‘‘

’’ اور کام کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے‘‘ یگور نے مختصر سی ہنسی ہنس کر کہا۔ ’

’ ہمارے پاس کچھ بہت ہی اچھے پرچے اور اشتہار وغیرہ ہیں، سب میرا ہی کیا ہوا ہے،

لیکن اسے کارخانے سے کس طرح بھیجا جائے۔ یہ سوال اب تک حل نہ ہو سکا! ‘‘

’’پہلے ہی پھاٹک پر ہر شخص کی تلاشی لی جانے لگی ہے‘‘ سموئلوف نے کہا۔

ماں نے بھانپ لیا کہ یہ لوگ اس سے کسی بات کی توقع کر رہے ہیں۔

’’ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ کس طرح ؟ ‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا۔

سموئلوف دروازے میں نمودار ہوا۔

’’ تم خوانچے والی کار سونوواسے واقف ہو، پلا گیانلوونا؟‘‘اس نے دریافت کیا۔

’’ہاں۔ لیکن اس سے کیا؟‘‘

’’ذرا اس سے بات کرو، ممکن ہے وہ ان چیزوں کو لے جائے۔‘‘

ماں نے ناپسند یدگی کااظہار کرتے ہوئے سر ہلایا۔

’’ ارے نہیں! وہ بڑی باتونی ہے! ان لوگوںکو فوراً ہی خبر ہو جائے گی کہ اسے یہ

سب کچھ مجھ سے ملا ہے، یہ سب چیزیں اس گھر سے آئی ہیں۔ ‘‘

پھر اس نے دفعتاً جھنجھلاکر کہا:

’’مجھے دیدو وہ ساری چیزیں۔ مجھے! میں انتظار کروں گی۔کوئی طریقہ نکال لوں گی!

میں ماریا سے کہوں گی کہ مجھے اپنی مدد کے لئے رکھ لے۔ مجھے اپنی روزی تو

کسی نہ کسی طرح کمانا ہی ہے، توکھانا بیچنے کیلئے کار خانے جایا کروں گی۔ سب ٹھیک کر لوں گی!‘‘

سینے پر اپنے ہاتھوں کو دباتے ہوئے اس نے جلدی جلدی ان لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ

ہر چیز بہت اچھی طرح کرے گی اور لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بنے گی۔

آخر میں اس نے بڑے وجد وانبساط کے عالم میںکہا:

’’انہیں معلوم ہو جانا چاہئے کہ پاویل کے ہاتھ جیل سے یہاں پہونچ جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہو جانا چاہئے!‘‘

تینوں خوش ہو گئے۔ یگور نے ہاتھ ملے اور مسکراتے ہوئے کہا:

’’بہت خوب ماں! تمہیں نہیں معلوم کہ کتنی بہتریں بات ہوئی ہے یہ۔ ایک دم الشان!‘‘

’’اگر یہ تجویز کارگر ہوئی تو میں تو جیل ایسے جائوں گا جیسے بستر پر سونے جاتا ہوں

‘‘سموئلوف نے بھی اپنے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔

’’تم تو دنیا کی حسین ترین خاتون ہو!‘‘یگور بیٹھی ہوئی آواز میں چلایا۔

ماں مسکرائی، اس پر یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر کارخانے میں پرچے تقسیم ہوتے رہے

تو منتظمین اس کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر نہ ڈال سکیں گے۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کام کو پورا کرنے کے قابل ہے، اور خوشی سے اس کی بوٹی بوٹی پھڑکنے لگی۔

’’جب تم پاویل سے ملنے جیل جائو تو کہہ دینا کہ تمہاری ماں بہت اچھی ہے‘‘ یگور نے کہا۔

’’پہلے میں ہی جائوں گا‘‘ سموئلوف ہنسا۔

’’اس سے کہنا کہ جو کام کرنے کے ہیں میں وہ سب کروں گی۔ اسے یہ ضرور بتا دینا!

’’اور اگر سموئلوف کو ان لوگوں نے جیل نہ بھیجا تو؟‘‘یگور نے پوچھا۔

’’تو مجبوری ہے‘‘ اسنے کہا۔

دونوں مرد ہنس پڑے اور جب اس نے اپنی غلطی محسوس کی تو وہ بھی کچھ ندامت اور

کچھ چالاکی سے ہنسنے لگی۔

’’اپنے غم کے آگے دوسروں کا غم ذرا مشکل سے نظر آتا ہے‘‘ اس نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔

’’بالکل فطری بات ہے‘‘ یگور بولا۔ ’’اور دیکھو، پاویل کی وجہ سے افسردہ اور فکر مند مت ہو۔

وہ جیل سے کچھ بہتر ہی حالت میں واپس آئے گا۔ وہاں اچھا خاصا آرام اور پڑھنے کا

وقت ملتا ہے اور ہم جیسے لوگ جب باہر رہتے ہیں تو ان میں سے ایک چیز کی بھی

فرصت نہیں ملتی۔ میں تین بار جیل جا چکا ہوں اور گو یہ بات میریلئے کوئی خاص باعث

مسرت نہ تھی مگر ہر بار میرے دل ودماغ کو کافی فایدہ پہونچا۔‘‘

’’تمہیں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے‘‘ ماں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’اس کی ایک خاص وجہ ہے‘‘ اس نے ایک انگلی اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔ ’’توپھر

میں سمجھوں کہ ہر چیز طے ہو گئی ایک دفعہ چلنے لگے گی اور صدیوں کی تاریکی

کو پیس کر رکھ دے گی۔ آزادئی تقریر زندہ باد اور ماں کا دل پایندہ باد! اچھا رخصت،سلام۔‘‘
ٍ
’’خدا حافظ ‘‘ سموئلوف نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔

’’میں تو ایسی تجویز اپنی ماں کے آگے نہیں پیش کر سکتا تھا۔‘‘

سب لوگ ایک دن سمجھ جائیں گے‘‘ پلا گیا نے اس کا دل بڑھانے کے لئے کہا۔

جب وہ لوگ چلے گئے تو اس نے دروازہ بند کیا اور کمرے کے وسط میں گھٹنوں کے

بل جھک گئی اور اس نے اپنی دعا کو بارش کی آواز کے ساتھ ہم آھنگ کر دیا۔ بغیر الفاظ

کے وہ دعا مانگتی رہی۔ اس وقت اس کے دل میں ان لوگوں کے متعلق مجتمع تشویش تھی جنہیں پاویل نے اس کی زندگی میں داخل کر دیا تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ لوگ اس کے اور سادے انسان جو ایک دوسرے سے بے انتہا نزدیک تھے اور پھر بھی اتنے تنہا۔

صبح سویرے ہی وہ ماریاکار یا کار سونووا سے مہنے چلی گئی۔ خوانچے والی نے جو

ہمیشہ کی طرح چکنائی میں غرق اور بکواسی تھی، اس کی ہمدردی سے استقبال کیا۔

’’ بہت افسردہ ہو ‘‘ اس نے ماں کے کاندھے پر اپنا چکنا ہاتھ ر کھتے ہوئے پوچھا۔ہمت نہ ہارو!پکڑ کر لے گئے نا؟ تو پھر کیا ہوا! اس میں کوئی شرمانے کی بات نہیں۔ پہلے تو لوگوں کو چوری کی

وجہ سے جیل میں ڈالا جاتاتھا لیکن آج کل لوگوں کو اپنے حق پر اڑنے کی وجہ سے

جیل بھیج دیتے ہیں۔ ممکن ہے پاویل نے بالکل وہ نہیں کہا جو اسے کہنا چاہئے تھا،

لیکن اس نے جو بھی کہا وہ سب کے لئے کہا اور ہر شخص اس بات کو جانتا بھی ہے۔ تو

پھر تم کو پریشان نہ ہونا چاہئے ہوگ منہ سے نہ کہیں تب بھی ہر شخص اچھے برے

کی تمیزتو رکھتا ہی ہے۔ میں تم سے ملنے آنا چاہتی تھی لیکن وقت ہی نہیں ملتا۔

بس سا را دن پکائو اور پھیری کرو۔ لیکن تم لکھ رکھو کہ مروں گی میں فقیر کی موت! مجھے تو یہ عاشق کھائے جاتے ہیں۔

بے انتہا بری طرح! کبھی یہاں دانت مارا کبھی وہاں دانت مارا۔ جیسے کاکروچ روٹی کو

کھاتے ہیں! جب بھی دس ایک روبل میں نے جمع کر لئے تو کو ئی حرامزدہ آدھمکتا ہے

اور ساری رقم ہضم کر جاتا ہے۔ عورت ہونابھی کیا مصیبت ہے! خدا کسی کو بھی عورت نہ بنائے! تنہا رہو۔ مگر کس لئے ؟ مرد کرو۔ چلو قصہ تمام! ‘‘

’’ تم سے یہ کہنے آئی ہوں کہ مجھے اپنی مددگار کی حیثیت سے رکھ لو ‘‘ پلاگیانے

اس کی بک بک میں مداخلت کرتے ہوئے کہا۔

’’مطلب کیا ہے؟ ‘‘ ماریانے پوچھا۔جب پلا گیا نے سمجھایا تو ماریا راضی ہو گئی۔

’’ ضرور‘‘ اس نے کہا۔ ’’ یاد ہے نا جب تم مجھے میرے مرد سے چھپایا کرتی تھیں ؟ اب میں

تمہیں بھوک سے پناہ دوں گی۔ ہر شخص کو تمہاری مدد کرنا چاہئے کیونکہ تمہارا بیٹا لوگوں

کی بھلائی کے لئے پکڑاگیا ہے۔ہے بڑا اچھا لڑکا، ہر شخص یہی کہتا ہے، اور ہر دخص

کو اس کا افسوس ہے۔

میں تو کہتی ہوں کہ مالکوں کو ان گرفتاریوں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ دیکھو کارخانے کی حالت کیا ہے، بہت ہی بری حالت ہے۔ یہ مالک سمجھتے ہیں کہ کسی کے ٹھوکر ماریں گے تو وہ دوڑنا چھوڑ دے گا۔ لیکن ہوتا کیا ہے کہ ایک درجن کو مارتے ہیں تو سو اٹھ کھڑے ہوتے ہیں! ‘‘

اس گفتگو کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے دن دوپہر میں ماں ماریا کے کھانے کے خوانچے اٹھائے کار خانے پہونچ گئی اور خوانچے والی خود کھانا بیچنے بازار چلی گئی۔

مزدوروں نے فوراً ہی نئی خوانچے والی کو پہچان لیا۔

’’ یہ دھندا شروع کر دیا پلاگیا؟ ‘‘ انہوں نے اپنے سر کی جنبش سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔

چند لوگوں نے اسے یہ یقین دلانا ضروری سمجھا کہ پاویل بہت جلد ہی چھوٹ جائے گا۔ دوسروں نے اپنی ہمدردی کے اس دل موہ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے ڈائرکٹر اور پولیس والوں کو بری بری گالیاں دیں اور یہ گویا اسی کے دل کی بات تھی۔ ایسے بھی لوگ تھے جو اس کی طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے وہ اس کی حالت سے بہت خو ش اور مطمئن ہوں اور ٹائم کیپر ایسائی گوربوف نے دانت بھینچ کر دھیرے سے کہا:

’’اگر میں گورنر ہوتا تو تمہارے بیٹے کو پھانسی پر لٹکا دیتا!لوگوں کو بہکانے کی یہی سزاہے!‘‘

اس خوفناک دھمکی نے اس کے جسم جیں جھر جھر ی پیدا کر دی۔ اس نے ایسائی کو کوئی جواب نہیںدیا صرف اس کے چھوٹے، چھائیوں والے چہرے پر نگاہ ڈالی اور ٹھیڈا سانس بھر کر اپنی نظریں نیچی کر لیں۔

کار خانے میں بے اطمینانی کا دور دورہ تھا۔ مزدور چھوٹے چھوٹے حلقوں میں جمع ہو گئی اور آپس میں سر گوشیاں کرنے لگے تھے۔ گھبرائے ہوئے فورمین ہر طرف دوڑے دوڑے پھر رہے تھے۔ گالیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی اور تمسخر آمیز قہقہے بلند ہورہے تھے۔ دو پولیس والے سموئلوف کو پکڑ کر ماں کے نزدیک سے گئے۔ وہ ایک ہاتھ جیب ڈالے ہوئے دوسرے سے اپنے سرخ بال پیچھے کرتے ہوئے چل رہا تھا۔

تقریباًسو مزدور ان کے پیچھے پیچھے پولیس والوں کو گالیاں دیتے اور فقرہ بازی کرتے ہوئے ساتھ ہولئے۔

’’ چھٹی پر جارہے ہو سموئلوف ؟ ‘‘ کسی نے پکار کر کہا۔

آج کل یہ لوگ ہمارے ساتھیوں کی بڑی عزت افزائی کر رہے ہیں ‘‘ کسی دوسرے نے کہا۔’’ ہم ٹہلنے جاتے ہیں تو سنتریوںکو ہمارے ساتھ کر دیتے ہیں۔ ‘‘

اس کے بعد اس نے ایک بری سی گالی دی۔

’’ معلوم ہوتا ہے آج کل چوروں کو پکڑنے میں کو ئی فائدہ نہیں ہوتا‘‘ ایک لمبے کا نے مزدور نے فقرہ کسا۔ ’’ اسی لئے ایماندارلو گوںکو پکڑنا شروع کر دیاہے!‘‘

’’ ہم سمجھتے تھے کہ ان میں اتنی شرافت تو ہے کہ لو گوں کو کم سے کم رات میں پکڑیں گے ‘‘مجمع میں سے ایک آواز آئی۔ ’’ لیکن دن دھاڑے لئے جارہے ہیں، حرامزادے!‘‘
ٍ
پولیس والوں نے تیور یاں چڑھائیں لیکن تیزی سے چلتے رہے گویا کسی چیز کو دیکھ ہی نہیں رہے اور نہ وہ فقرے سن رہے تھے جو ان پر چست کئے جارہے تھے۔ تین مزدور لوہے کی ایک بڑی سی چادر اٹھائے ہوئے ان کے راستے میں آگئے۔

’’ راستہ دو مچھیرو!‘‘وہ چلائے۔

گزرتے ہوئے سموئلوف نے ماں کو سر سے اشارہ کیا۔

’’جارہے ہیں ہم!‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ماں گورکی قسط 13 ماں گورکی قسط 13 ماں گورکی قسط 13 ماں گورکی قسط 13 ماں گورکی قسط 13 ماں گورکی قسط 13

اپنا تبصرہ بھیجیں