Lahore college for women Universty 517

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

Spread the love
ڈاکٹر عظمت رباب
ایسوسی ایٹ پروفیسر اردو
لاہور کالج براے خواتین یونیورسٹی لاہور

Dr. Waheed Qureshi is the well known research scholar of Urdu, Persian and Punjabi. He is a prominent and outstanding personality of Oriental College Lahore School of Research. He has edited some classical texts like “Mansnivyat e Hassan”, “Deewan e Jahan Daar” and “Tazkira Hamaisha Bahar”. He has explained his principles and methods of research and editing in his articles included in his books “Maqaalaat e Tehqeeq” and “Classici Adab ka Tehqeeqi Mutalah”. These books comprise of articles both on theoretical and practical research methodology. His main focus of Research is History, Linguistics, Oriental Languages, Urooz and research methodology. In this research paper Dr. Azmat Rubab analysis the principles and methods of Dr. Waheed Qureshi giving examples from his books.(ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق)

(ڈاکٹر وحید قریشی ۱۴ فروری ۱۹۲۵ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد لطیف قریشی (۱۸۹۸ء۔ ۱۹۹۱ء)ہے اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔ اے (آنرز)، ایم۔ اے (فارسی)، ایم۔ اے (تاریخ)کے امتحانات پاس کیے۔ ۱۹۵۲ء میں فارسی میں پی ایچ ڈی اور ۱۹۶۲ء میں اردو میں ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔

اسلامیہ کالج گوجرانوالہ، اسلامیہ کالج لاہور اور پھر اوریئنٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اوریئنٹل کالج لاہور میں صدر شعبہ اردو، غالب پروفیسر، ڈین فیکلٹی علوم اسلامیہ و شرقیہ اور پرنسپل کے عہدوں پر فائز رہے۔ ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان کے سیکرٹری ، اقبال اکادمی کے ڈائریکٹراور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے چیئر مین بھی رہے ۔ جی سی یونیورسٹی لاہور میں ۶ اگست ۲۰۰۳ء کو ان کا تقرر تا حیات ممتاز پروفیسر (Distinguished Professor) کے طور پر ہوا ۔ ۱۷ اکتوبر ۲۰۰۹ء بروز ہفتہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ )

ڈاکٹر وحید قریشی نقاد، محقق، شاعر اور مدوِن ہیں۔ انھوں نے مقدمہ شعر و شاعری، مثنویاتِ میر حسن، ہمیشہ بہار، دیوانِ جہاں دار کی تدوین کی ہے ۔ ڈاکٹر وحید قریشی نے ان متون کی تدوین کرتے ہوئے اوریئنٹل کالج کی تدوینی خصوصیات کو برتاہے۔ وہ بے لاگ رائے رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ادب کے بڑے ناموں سے مرعوب نہیں ہوتے بلکہ حقائق کو بیان کرتے ہیں۔ مقدمہ شعر و شاعری کی ترتیب کے دوران میں حالی جہاں جہاں مغالطوں اور متضاد تصورات کا شکار ہوئے انھیں مقدمہ شعر و شاعری کے اقتباسات کے ذریعے واضح کیاہے۔ حالی کی شخصیت کے حوالے سے بھی بیان کیاہے کہ حالی کی وضع داری سے ان کے تقلیدی رجحان کی وضاحت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر وحید قریشی واقعات اور حقائق کو تاریخ کے حوالوں سے ثابت کرتے ہیں۔ مثلاً دیوانِ حالی کی پہلی اشاعت کے بارے میں شیخ محمد اسماعیل پانی پتی کی اس بات کو رد کیاہے کہ دیوان کانپور سے شائع ہوا تھا۔

مرتب کے بقول یہ دہلی سے چھپا تھا۔ متن سے متعلق معلومات کے حوالے سے یہ بہت اہم بات درج کی ہے کہ میر حسن کی مثنوی ’شادی آصف الدولہ‘‘ کو ایڈورڈ ہنری پامر نے اشعار میں ترمیم و حذف سے کام لے کر اسے اپنی تصنیف کے طور پر شائع کیا تھا۔ پامر کے اس متن کو ضمیمے میں درج کیا ہے۔ ڈاکٹروحید قریشی متعدد قلمی اور مطبوعہ نسخوں کو مدِ نظر رکھ کر تدوین کا کام انجام دیتے ہیں۔ وحیدنسخے کی صورت میں بھی وہ اپنے تاریخی حوالوں اور تحقیقی شعور کی بدولت متن اور صاحبِ متن کے بارے میں نئی معلومات مقدمے میں فراہم کر تے ہیں مثلاً دیوانِ جہاں دار کے متن کی بنیاد انھو ں نے وحیدنسخے پر رکھی ہے لیکن اس کے مقدمے کو بہت معلوماتی بنا دیاہے ۔

اردو تحقیق کو سائنس کا درجہ دلانے میں ڈاکٹر وحید قریشی کا اہم کردار ہے۔ انھوں نے نہ صرف اردو تحقیق کو نئے اصول و ضوابط دیے بلکہ عملی طور پر ان اصولوں کو اپنے مضامین میں لاگو بھی کیا۔ وہ تاریخ کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں استناد اور حوالوں کے طور پر تاریخی معلومات کو درج کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ املا اور لسانیات کاعلم بھی رکھتے ہیں۔ تحقیق کے سلسلے میں دیگر تحریروں کے علاوہ ایک حوالے کی کتاب ’’مقالاتِ تحقیق ‘‘ ہے جس میں نظری اور عملی تحقیق کے مضامین موجود ہیں۔ یہ کتاب پہلی بار مارچ ۱۹۸۸ء میں مغربی پاکستان اردو اکیڈمی لاہور سے شائع ہوئی اور اب تک اس کے متعدد ایڈیشن سامنے آچکے ہیں۔

ڈاکٹر وحید قریشی نے’’مقالاتِ تحقیق‘‘ کو چھ اجزا میں تقسیم کیا ہے۔ حصہ اول میں دو مضامین ہیں:

’’پاکستان میں ارد و تحقیق کے دس سال ۱۹۵۸ء۔ ۱۹۶۸ء‘‘ جس میں اردو تحقیق کی صورت حال، پس منظر اور وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

’’پنجاب یونیورسٹی کا ایک تحقیقی مقالہ ‘‘ میں ڈاکٹر رضیہ نور محمد کے پی ایچ ڈی مقالہ کا تجزیہ کیا گیاہے۔

دوسرے حصے میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی دو مدوَن کتب کا تجزیہ ہے۔

تیسرے حصے میں ڈاکٹر وحید قریشی نے میر حسن، سحر البیان، جہاندار شاہ اور مثنوی خوانِ نعمت کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ پیش کیاہے۔

اسی طرح چوتھے، پانچویں اور چھٹے حصے میں چند متنوع موضوعات پر مشتمل کتب کا تجزیہ وتبصرہ شامل ہے۔

یعنی ’’مقالاتِ تحقیق ‘‘ کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں :

الف۔ نظریاتی تحقیق

ب۔ عملی تحقیق

ج۔ تحقیقی و تنقیدی کتب پر تبصرے

پہلا حصہ نظریاتی تحقیق پر مشتمل ہے جس میں ڈاکٹر وحید قریشی نے تحقیق کی صورت حال بیان کی ہے اور اس کا دائرہ کار ابتدا سے تاحال رکھا ہے۔ اگرچہ مضمون کا عنوان ’’پاکستان میں اردو تحقیق کے دس سال ۱۹۵۸ء۔ ۱۹۶۸ء‘‘ لیکن اسے ایک منطقی ترتیب کے ساتھ نو (۹)حصوں میں تقسیم کیاہے۔ ابتدا میں تمہید کے طور پر اردو تحقیق کا آغازسرسید سے کرتے ہیں اور پھر بیسویں صدی میں اس کے باقاعدہ ہونے کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:

’’اردو میں ادبی تحقیق کا آغاز یوں تو دورِ سرسید سے ہوتاہے، حالی، شبلی، آزاد اور سرسید کے ہاں تصحیحِ متن اور مقالات میں تحقیق شعور کی کچھ جھلکیاں ملتی ہیں لیکن باقاعدہ طور پر اردو تحقیق کی روایت پہلی جنگِ عظیم سے شروع ہوتی ہے۔ ‘‘۱؎

ڈاکٹر زور ، عبدالسلام ندوی، سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالحئی، ڈاکٹر عبدالستار صدیقی، ڈاکٹر مولوی عبدالحق ، حافظ محمود شیرانی، پروفیسر محمد اقبال اور ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کو ابتدائی محققین میں شمار کیا ہے۔ انھوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان میں سے بیشترنے عربی اور فارسی میں تحقیق کی ہے۔ یوں ڈاکٹر وحید قریشی تحقیق و تدوین کے علم کا رشتہ مسلمانوں سے جوڑتے ہیں اور لکھتے ہیں:

’’متنوں کی ترتیب و تصحیح، تاریخِ ادب کے غیر معلوم گوشوں کی دریافت، زبان کے آغاز و ارتقا کی نشان دہی اور شعرا و ادبا کے حالاتِ زندگی کے تعین کے علاوہ ان علوم کی بازیافت اُن لوگوں کا حصۂ خاص ہے جو مسلمانوں کے علوم اور مسلمانوں کی معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ‘‘۲؎

ڈاکٹر وحید قریشی تحقیق و تدوین کی ابتدا، اس کی خصوصیات اور فوائد و اثرات کے ساتھ ساتھ اس کی خامیو ںکی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:

’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے ہماری تاریخِ ادب کی تدوین کا کام بہت کچھ آسان ہو گیا ہے لیکن تحقیق کو حقائق کی صحت سے آگے ان کی تاویل و تشریح اور فلسفیانہ توجیہہ تک لے جانے میں ان صاحبوں نے زیادہ توجہ نہیں کی۔ اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ آئندہ کے لیے تحقیق اور تنقید الگ الگ خانوں میں بٹ گئی اور اردو ادب میں تنقید تحقیق سے ایک بڑی حد تک بے نیاز ہو کر چلنے لگی۔ ‘‘۳؎

تحقیق کی اس ابتدائی روایت اور خصوصیات کے بعد ڈاکٹر وحید قریشی نے تحقیق کو مراکز اور دبستانوں میں تقسیم کر دیا۔ ان کے مطابق حیدر آباد دکن، اعظم گڑھ، لاہور، رام پور اور پٹنہ تحقیق کے اہم مراکز ہیں۔ ان مراکز کی تحقیقی خصوصیات و نظریات کو مختصراََ بیان کیا ہے۔ اس اختصار میں جو جامعیت ہے وہ ڈاکٹر صاحب ہی کا خاصہ ہے ۔ مثال کے طور پر انھوںنے دبستانِ پٹنہ کی تحقیقی خصوصیات کو یوں بیان کیا ہے :

’’پٹنہ کے دبستان میںقاضی عبدالودود، ڈاکٹر اختر اورینوی، ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو کے علاوہ ایک خاصا بڑا گروہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ ان میں قاضی عبدالودود سرخیل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان ہی کے اصولوں اور قواعد کی پابندی باقی محققین کے ہاں نظر آتی ہے۔ قاضی صاحب نے ثانوی مآخذ سے بالعموم صرفِ نظر کیا اور اپنی تحقیق و تدقیق کو معاصر مواد تک محدود کر دیا۔

حوالے میں احتیاط کا عنصر قاضی صاحب کے ہاں بہت ہے۔ دبستانِ لاہور کے مقابلے مں اس دبستان میں ایک کمی البتہ یہ نظر آتی ہے کہ مخففات کے بے دریغ استعمال سے تحریر کی روانی اور اسلوب کا حسن ماند پڑ گیا ہے۔ معاصر مواد سے مناسب حد تک نتائج اخذ کرکے حوالوں کو اپنی تحریر کا لازمی حصہ بنانے کا طریقہ ترک ہو گیاہے اور مواد کو عام صورت میں قارئین تک پہنچانے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ ترتیبِ متن میں البتہ ان محققین نے بہت کام کیا ہے اور متن میں جو معیار پٹنہ کی تصانیف میںملتا ہے، وہ لاہو رکے دبستان کی تصانیف سے کسی طرح کم نہیں ہے ۔ ‘‘۴؎

ان خصوصیات کے ساتھ ہی پہلے مضمون کا جزو اول مکمل ہو جاتا ہے۔ دوسرے حصے میں قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان اور بھارت میں تحقیق کی رفتار اور معیار کا ذکر کیا ہے۔ پاکستان کو قیام کے بعد درپیش ابتدائی مشکلات کا ذکر کیا ہے جس کے باعث یہاں تحقیق کی طرف توجہ نہیں دی جا سکی۔ پاکستان میںحکومتی سرپرستی اور امداد کا ذکر بھی کیا ہے۔ بھارت میں تحقیق کی رفتار کو سراہا ہے :
’’پاکستان میں تحقیقی کام کی رفتارسست رہی ہے۔ بھارت میں اردو دشمنی کی قوی لہر اور حکومت کی معاندانہ روش کے باوجود اردو تحقیق میں جس معیار کا کام ہوا ہے، ہمارے علمی سرمائے میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ‘‘۵؎

تیسرے حصے میں پاکستان میں تحقیق معیار کے بلند نہ ہونے کے اسباب بیان کیے ہیں۔ چوتھے حصے میں سہل انگاری کے مظاہر بیان کیے ہیں۔
پانچویںجزو میں تحقیق کے غلط رجحان بیان کیے گئے ہیں۔
چھٹے جزو میں مختلف تحقیقی ادارون کی سرگرمیاں بیان کی ہیں۔ ساتویں میں ناشروں اور جامعات کا ذکر کیا ہے۔ آٹھویں میں یونیورسٹی کمیشن رپورٹ کا ذکر کیا ہے۔ نویں حصے میں تمام معلومات کے نتائج اخذ کیے ہیں۔

دوسرے مضمون بعنوان ’’پنجاب یونیورسٹی کا ایک تحقیقی مقالہ ‘‘ میں ڈاکٹر رضیہ نور محمد کے مقالے ’’اردو زبان و ادب میں مستشرقین کی علمی خدمات ‘‘ کا تجزیہ کیا ہے اور اسے تنقیدی اعتبار سے ایک اعلیٰ پائے کا مقالہ قرار دیاہے۔ تمہید میں اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میںہونے والے چند اہم تحقیقی مقالات کا ذکر کیا ہے جن میں خواجہ محمد زکریا کا مقالہ اکبر الہ آبای، ڈاکٹر سلیم اخترکا مقالہ ’’نفسیاتی دبستان ‘‘ شامل ہیں۔ اور پھر اس پس منظر میں ڈاکٹر رضیہ نور محمد کا مقالہ کا تعارف، ابواب بندی اور خصوصیات درج کی ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’اردو زبان و ادب میں مستشرقین کی خدمات میں صحتِ واقعات کا اہتمام ہے اور ساتھ ہی تجزیاتی طریق کار کی مدد سے مستشرقین کے کارناموں کا ادبی، تدریسی اور علمی مرتبہ تعین کیا گیا ہے۔ انھوں نے تنقید کو ٹھوس حقائق پر استوار کیا ہے اور مستشرقین کے کارناموں کے پس پشت محرکات کی تلاش و جستجو کی ہے اور مختلف ادوار کا سماجی اور اقتصادی عوامل کے پس منظر میں تجزیہ کیا ہے۔ اس لحاظ سے ان کی تنقید کا مسلک سماجی حوالوں سے متعین ہوتاہے ۔ ‘‘۶؎

ابتدا میں ڈاکٹر صاحب نے اس مقالہ کو تحقیقی قرار دیاتھا، آخر میں اسے تنقیدی حوالے سے اہم قرار دیتے ہیں اور اس کی اشاعت کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں:

’’مجموعی طور پر مقالے کی بنیادی اہمیت تحقیقی سے زیادہ تنقیدی ہے اور یہ اس لحاظ سے اس قابل ہے کہ اسے شائع کر کے اردو ادب کی تاریخ کے بعض خلا پر کر دیے جائیں ۔ ‘‘۷؎

ڈاکٹر وحید قریشی کی تحقیق کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی ایک موضوع کو بیان کرنے سے پہلے فضا ہموار کرتے ہیں۔ تمہید باندھتے ہیں اور پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یہ تمہید بذاتِ خود تحقیق نکتہ کی حامل ہوتی ہے۔ مثلاً پہلے مضمون کے باقاعدہ آغاز سے قبل اردو تحقیق کی باقاعدہ روایت اور پھر دبستانوں اور مراکز میں اس کی تقسیم اور خصوصیات کو مختصرلیکن جامع انداز میں بیان کیا ہے اور پھر اس کے بعد اصل موضوع یعنی پاکستان میں اردو تحقیق کی صورتِ حال کو بیان کیا ہے۔

اس طرح دوسرے مضمون میں مقالے کی خصوصیات سے قبل جامعہ پنجاب میں اردو تحقیق کے معیار کو بیان کیا ہے۔ مشرقی علوم اور ادبیات کے تحقیقی ذخیرے کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے :

’’ایک حصہ تو بعض قدیم متنوں کی ترتیب اور تحشیے کا ہے۔ دوسرا اور تیسرا حصہ دراصل تحقیق کے طریق کار کی بنا پر الگ الگ شمار کیا جا سکتا ہے ۔ ‘‘۸؎

ان کے مطابق یونیورسٹی کے قواعد کے مطابق دو طرح کی تحقیق ممکن ہے۔ ایک یہ کہ محقق واقعاتی اور تاریخی حوالے سے کوئی نیا مواد دریافت کرے، دوسرا یہ کہ پہلے سے معلوم اور موجود مواد کی بنا پر سابقہ مواد کی نئی تعبیر اور تشریح کرے۔
مضمون ’’کدم رائو پدم رائو‘‘ کی خصوصیات سے قبل بھی تمہیداََ اردو کی ابتدائی کتب معراج العاشقین اور کربل کتھا اور مثنوی نظامی کو اردو ادبی روایت اور لسانی روایت کے حوالے سے اہم قرار دیاہے :

’’اردو ادب کی جب بھی کوئی تاریخ لکھی جائے گی نظامی دکنی کی مثنوی اور کربل کتھا دو اہم انکشافات شمار ہوتے رہیں گے اور ان کی بنیاد پر اردو ادب کی روایت کے علاوہ لسانی روایت کی شناخت کے مباحث بھی غور و فکر کی نئی راہیں کھولتے رہیں گے۔ ‘‘۹؎

میر حسن اور ان کی تصانیف ڈاکٹر وحید قریشی کا من پسند موضوع ہے۔ زیرِ نظر کتا ب میں پانچ مضامین اسی حوالے سے ہیں اور پانچوں تحقیقی اور تنقیدی اعتبار سے بھر پور معلومات کے حامل ہیں۔ تبصرے کے لیے ڈاکٹر صاحب نے جن کتب کا انتخاب کیا ہے وہ ادبی، تنقیدی اور تحقیقی حوالے سے اہم ہیں۔

ڈاکٹر وحید قریشی کے تحقیقی مضامین میں جا بجا ان کے اصولِ تحقیق موجود ہیں جو انھوں نے مختلف تحقیقی نکات بیان کرتے ہوئے درج کیے ہیں۔ انھیں اگر جمع کر دیا جائے تو ان سے ڈاکٹر صاحب کا نظریۂ تحقیق اور اصولِ تحقیق متعین کیے جا سکتے ہیں۔
۱۔ پاکستان میں تحقیق کی صورتِ حال پر بحث کرتے ہوئے تحقیق معیار کے نہ ہونے کی ایک وجہ فرصت اور علمی تگ و دو کو قرار دیتے ہیں جس کا ہونا اعلیٰ پائے کی تحقیق کے لیے ضروری ہے ورنہ تحقیق کا معیار قائم و برقرار نہیں رہ پاتا :

’’ذہنی سکون کے رخصت ہو جانے سے وہ فرصت اور علمی تگ و دو میں وہ انہماک باقی نہ رہا جو کسی اعلیٰ پائے کے علمی کام کے لیے ضروری ہے ۔ ‘‘۱۰؎

میعار کے معاملے میں ڈاکٹر صاحب کسی رو رعایت کے قائل نہیں ہیں، وہ اعلیٰ تحقیق کے سلسلے میں سختی اور محاسبے کے قائل ہیں۔ ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی ان کی اس خصوصیت کا ذکر اپنے ایک مضمون میں یوں کرتے ہیں:

’’ڈاکٹر صاحب کا علمی معیار بہت اونچا تھا اس لیے انھیں اپنی سطح سے کم درجے کی تحریریں پسند نہیں آتی تھیں۔ وہ اس اصول پر بھی کاربند تھے کہ شاگردوں کے کاموں کی تعریف سے ان کے بگڑنے کا اندیشہ ہوتاہے ۔ ‘‘۱۱؎

۲۔ لائبریریوں اور علمی سرمائے کی موجودگی کو بھی تحقیق کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں۔ ان کے بغیر علمی و تحقیقی کام کسی صورت ممکن نہیں ہے :

’’ادبی تحقیق اعلیٰ علمی سرمائے اور عمدہ لائبریریوں کے بغیر مشکل ہے ۔ ‘‘۱۲؎

۳۔ اعلیٰ پائے کی تحقیق کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں مواد کی فراہمی، فرصت، اطمینان اور مناسب مالی حوصلہ افزائی کو بہت اہمیت حاصل ہے :
’’ایک نوزائیدہ مملکت میں جہاں قوم کا ہر فرد جلبِ منفعت کی دوڑ میں مصروف ہو اس فرصت اور اطمینانِ قلب کا میسر آنا ممکن نہیں جو تحقیق کے لیے ضروری ہے ۔ ‘‘۱۳؎

۴۔ ڈاکٹر وحید قریشی محقق کے ساتھ ساتھ مدوِ ن بھی ہیں اس لیے وہ تدوین کی مشکلات و مراحل سے بخوبی آگاہ ہیں اور تجزیہ و تشریح اور تعبیر کرتے ہوئے وہ ان کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے بارے میں انھوں نے جو رائے دی ہے اس نے ایک اصول کی صورت اختیار کر لی ہے :

’’تصحیح میں جس محنت، ژرف نگاہی، احتیاط اور قدیم متون سے واقفیت کی ضرورت ہے جالبی صاحب نے اس کا لحاظ رکھا ہے ۔ ‘‘۱۴؎

۵۔ تحقیق کا ایک اصول یہ بھی بیان کیا ہے کہ مستند حوالہ نہ ہونے کے باعث مصنف یا شاعر کی اپنی تحریریں بنیادی مآخذ کا کام دے سکتی ہیں۔ میر حسن کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’اب لے دے کر میر حسن کی اپنی تحریریں ہیں جن پر زیادہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔ ‘‘۱۵؎

ڈاکٹر صاحب کے مطابق تحقیق کے کچھ بنیادی اصول ہیں جن سے رو گردانی ہمیشہ غلط نتائج تک پہنچاتی ہے۔ ’’لکھنئو کا دبستانِ شاعری ‘‘(ایک تحقیقی مطالعہ) کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’تحقیقی مقالے کے لیے ضروری ہے کہ واقعات و سنین کی درستی کے لیے معاصر شہادتوں پر بھروسہ کیا جائے۔ ‘‘۱۶؎

۶۔ ڈاکٹر وحید قریشی نے متعدد مضامین میں جو تجاویز و آرا دی ہیں ان سے بھی ان کے اصولِ تحقیق متعین کیے جا سکتے ہیں مثلاً املا سے واقفیت
۷۔ تاریخی شعور

۸۔ تاریخ گوئی کا علم

۹۔ تحقیق اور نتائج کا استخراج

۱۰۔ سہل انگاری سے گریز

۱۱۔ تنگ نظری اور سبقت لے جانے کی تگ و دو سے گریز

۱۲۔ تحقیق اور تنقید لازم و ملزوم ہیں اور ایک کے بغیر دوسرا نامکمل اور ناقص رہتاہے۔

ڈاکٹر وحید قریشی نے تحقیق کے دبستان اور ان کی خصوصیات درج کی ہیں۔ ان میں اوریئنٹل کالج لاہور کے دبستان کو چند خصوصیات کی بنا پر سائنسی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس ادارے سے تعلق رکھنے والے محققین ادب سے حاصل کردہ واقعات اور سنین کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں، ان محققین نے احتیاط کا اعلیٰ معیار قائم کیا، سہل انگاری اور حوالے کا محاسبہ سختی سے کیا، کھرے کھوٹے کی تمیز میں بے رحمی اور بے لحاظی کے عناصر کو ضروری گردانا۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق بھی دبستانِ اوریئنٹل کالج لاہور سے ہے، ان کی تحقیق میں بھی یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

تحقیق کی دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ ایک اہم عنصر تاریخی حالات و واقعات کو اسناد و حوالوں کے ساتھ پیش کرنے کی خصوصیات بھی ان کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ مثنوی نظامی، میر حسن کے حالات، سحر البیان کی خصوصیات، تہذیب ومعاشرت کی عکاسی، میر حسن کی مثنوی ’’خوانِ نعمت ‘‘، مثنویاتِ حسن، دیوانِ جہاندار وغیرہ کو تاریخی واقعات و حالات کے پس منظر میں تفصیل سے بیان کیاہے۔ میر حسن کے دیوان کے نسخوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’میر حسن کے دیوان کے ۲۴ نسخے معلوم ہیں اور ان میں سے کم از کم بیس نسخے آج تک موجود بھی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہ اعتبارِ قدامت موتی محل کا نسخہ(جو ۱۱۹۲ھ کا مکتوبہ ہے ) سب سے قدیم ہے۔ اس کے بعد کتب خانہ رام پور کا نسخہ (۱۲۵۳ھ) اور پھر علی گڑھ کے نسخے (۱۲۴۷ھ)ازاں بعد خدا بخش پٹنہ لائبریری (۱۲۵۴ھ) کا نمبر آتاہے۔ برٹش میوزیم کا نسخہ ۱۲۵۹ھ کا مکتوبہ ہے۔ علاوہ ازیں متن کی صحت کے اعتبار سے بھی مشکوک ہے۔ اس لیے اسے اہم نسخوں میں شمار کرنا صحیح نہ ہو گا۔ لٹن لائبریری کے نسخے کا متن بھی ہر جگہ قابلِ اعتماد نہیں ۔ ‘‘۱۷؎

ڈاکٹر وحید قریشی تحقیق اور تنقید کے باہمی ربط کو ایک دوسرے کے لیے لازم قرار دیتے ہیں۔ وہ تاریخ کی مثالوں کی مدد سے اس نکتے کو بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی محققین نے حقائق کی جمع آوری اور واقعات کی صحت کا خیال تو رکھا لیکن ادب کے تخلیقی عمل اور تنقیدی شعور سے کنارہ کش رہے کیونکہ :

’’نقادوں نے تحقیق کو تنقید کے مقابلے میں گھٹیا ذہنی عمل گردانا اور تحقیق و تنقید کے فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ تقسیمِ برصغیر کے بعد تنقید کو تحقیق کا دشمن قرار دے کر نقادوں نے پُر حقارت رویہ اپنا لیا۔ اس مغایرت اور نفرت آمیز رویے نے تحقیق کے لیے تنقید کی اور تنقید کے لیے تحقیق کی ضرورت کا ادراک نہ ہونے دیا۔ ‘‘۱۸؎

دیوانِ حسن شوقی کی تدوین کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی کو بطور نقاد اور محقق قرار دیاہے اور اس مطابقت پر انھیں سراہا ہے :

’’تحقیق و تصحیح کا یہ اہتمام جو انھوں نے کیا ہے اس کی توقع کسی نقاد سے نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے کہ تحقیق اور تنقید اردو میں اس طرح الگ الگ خانوں میں بٹ چکے ہیں کہ نقادوں کے نزدیک کسی ادب پارے سے تنقیدی نکات کا استخراج دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے ۔ ‘‘۱۹؎

مضمون’’کتابیاتِ تحقیق و تنقید پر ایک نظر ‘‘میں تحقیق و تنقید کے بُعد اور محققین و نقادوں کی ایک دوسرے سے منافرت کو یوں بیان کیا ہے :

’’تحقیق ایک صبر آزما، خشک اور بظاہرغیر تخلیقی عمل سمجھا جاتاہے، سبب شاید یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک مدت سے تحقیق اور تنقید کے دھارے ایک دوسرے سے الگ الگ بہتے رہے ہیں۔ تخلیقی فن کار تحقیق کی مشقت اور محنت سے خائف ہے اور اسے ایک خاص طرح کی معاندانہ سرگرمی سے وابستہ کرتا ہے۔ ‘‘۲۰؎

اردو ادب میں تحقیقی کام کے معیاری نہ ہونے کی جو وجوہات ڈاکٹر صاحب نے بیان کی ہیں ان میں سرِ فہرست مادیت پسندی کا رجحان ہے، ایسا معاشرہ جہاں قوم کا ہر فرد مادی اور منفعت بخش پیشوںکی تلاش میں ہو وہاں ادبی مشاغل کی اہمیت برقرار نہیں رہ سکتی۔ ایسے معاشرے اور ایسی صورت حال میں ڈاکٹر وحید قریشی لکھتے ہیں:

’’حکومت کی بیش از توجہ اور تحقیق کے لیے رقوم کی فراہمی کے باوجود مادی ترقی کی دوڑ میں وہی علوم و فنون پنپ سکتے ہیں جن سے کاروباری اور تجارتی مفادات وابستہ ہو سکیں۔ اور ظاہر ہے کہ تحقیقی ادب ان افادی پہلوئوں سے ایک بڑی حد تک خالی ہے ۔ ‘‘۲۱؎

درج بالا پہلوئوںکی وجہ سے جو غلط رجحان ہمارے یہاں فروغ پا رہے ہیں ان میں دو کا ذکر انھوں نے کیا ہے۔ اول یہ کہ متعدد اداروں اور جامعات میں ایک ہی موضوع پر کام ہو رہا ہے، سبقت لے جانے کے چکر میں ناقص کام سامنے آرہاہے۔ دوم یہ کہ ان تحقیقی کاموں کی مناسب رہنمائی اور چھان بین نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب سہل انگاری کے سخت مخالف ہیں۔ تحقیق جس محنت، دیدہ ریزی اور جاں کاوی کا تقاضا کرتی ہے وہ ہمارے محققین میں نہیں ہے جس کی وجہ سے تحقیق کا معیار روزبروز گر رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ مادی فوائد کا حصول اور جلد از جلد نتائج اخذ کرنا بھی ہیا ور یہ سہل انگاری کس کس طرح سامنے آتی ہے اسے ڈاکٹر وحید قریشی نے درج ذیل نکات کے ذریعے بیان کیا ہے۔ یہ نکات درحقیقت ہمارے معاشرے اور رویوں کے غماز بھی ہیں :

’’الف۔ حوالوں میں جعل سازی، یعنی متاخر کتب سے مواد لے کر معاصر کتب کا حوالہ درج کرنے کی رسم

ب۔ حوالوں کے قلم بند کرنے میں بے احتیاطی

ج۔ دوسروں کے کیے ہوئے کام کو معمولی رد و بدل سے (بغیر حوالے کے ) اپنی ہاں سمو لینے کا رواج

د۔ کتابیات کی ترتیب میں سائنٹفک طریق کار سے غفلت

ہ۔ متن کی تصحیح میں عدم احتیاط، غیر معیاری نسخوں کو بنیادی نسخے قرار دینے کی غلطی، اختلافِ نسخ کے قلم بند کرنے میں بے احتیاطی، پورے علمی ذخیرے کو سامنے رکھ کر کام شروع کرنے کی بجائے ناقص ذرائع پر بھروسہ، چھپائی اور پروف ریڈنگ میں غفلت۔ ‘‘۲۲؎

ڈاکٹر صاحب تحقیق و تنقید کی مختلف جہتیں بیان کرنے کے بعد ان کے نتائج بھی اخذکرتے ہیں۔ نظریاتی قسم کے مضامین میں عموماََ مضمون کے آخر میں جبکہ عملی تحقیق پر مبنی مضامین میں مختلف مقامات پر نتائج کا استخراج کیا ہے۔ مثلاً پہلے مضمون میں تحقیق کے چار اہم رجحانات کو درج کیا ہے اور لکھا ہے کہ انھی خطوط پر مستقبل میں کام ہو گا۔ وہ نکات درج ذیل ہیں :

ڈاکٹر جمیل جالبی کی تاریخ ادبِ اردو ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

الف ۔ قدیم ادبی سرمائے کی بازیافت اور متن کی مناسب تصحیح

ب۔ پاکستان کے قدیم اردو ادیبوں اور شاعروں کے کارناموں کی مناسب اشاعت

ج۔ اردو زبان کے لسانی رشتوں کا مقامی عناصر سے تعلق

د۔ تدوین لغت اور اصطلاحات سازی کی اہمیت‘‘۲۳؎

ڈاکٹر رضیہ نور محمد کے مقالے کا تجزیہ و خصوصیات درج کرنے کے بعد اسے تنقیدی قرار دیا ہے اور اس کی اشاعت پر زور دیاہے۔ دیوانِ حسن شوقی تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی کو نقاد بھی قرار دیا ہے اور اس بات کی تعریف کی ہے کہ ان کے کام میں تحقیق و تنقید دونوں عناصر پائے جاتے ہیں:

’’جمیل جالبی ایک نقاد کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ اس کتاب سے ان کے مزاج کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔ تحقیق و تصحیح کا یہ اہتمام جو انھوںنے کیا ہے اس کی توقع کسی نقاد سے نہیں کی جا سکتی تھی ۔ ‘‘۲۴؎
٭
ڈاکٹر صاحب کی تحقیق کا ایک اور زاویہ تقابل اور موازنہ ہے جس کی مدد سے وہ اپنے موضوع کو بیان کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حوالوں کی مدد سے دونوں کی خصوصیات بھی سامنے لے آتے ہیں مثلاً جمیل جالبی کی تحقیقی خصوصیات کو شیرانی کے مماثل قرار دیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ جمیل جالبی تحقیق میںپروفیسرشیرانی کے طریق کار سے بہت متاثر ہیں ۔ لسانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دکن کی تاریخ بھی ان کے پیشِ نظر ہے اور دونوں کی روشنی میں نتائج ترتیب دیتے ہیں۔ شیرانی صاحب کا یہ اثر صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ دلائل کی ترتیب میں بھی جاری و ساری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ شیرانی صاحب کی طرح ان دلائل کی ترتیب میں انھوںنے قیاسی اور غیر یقینی دلیلوں کو پہلے اور حتمی دلائل کو آخر میں جگہ دی ہے۔ قاری کو چونکا دینے والا یہ طریق کار شیرانی صاحب سے خاص ہے۔ ‘‘۲۵؎

گلستانِ سخن کے بارے میں یہ رائے درج کی ہے کہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ صہبائی کی تحریر ہے۔ دونوں کی تحریر کے تقابل اور تاریخی حوالوں کی مدد سے ڈاکٹر وحید قریشی نے ثابت کیا ہے کہ ابتدائی حصہ ہو سکتاہے کہ صہبائی کے قلم کا نتیجہ ہو لیکن گلستانِ سخن صابر کا اپنا تالیف کردہ ہی ہے۔ اس سلسلے میں ’’گلستانِ سخن ‘‘اور’’انتخاب دواوین‘‘ کے متن کی چند مثالیں درج کر کے اپنے دلائل یوں دیتے ہیں:

واسوخت اور لکھنوی معاشرت

’’ گلستانِ سخن کا اصل متن صہبائی کی اصلاح سے مزین تو ہو گا لیکن صابر کا اپنا تالیف کردہ ہی سمجھنا چاہیے۔ ہاں دونوں کے اسلوب میں مشابہت ضرور ہے اور اسلوب کی مشابہت کا سبب اصلاح ہو سکتا ہے لیکن نفس مضمون استاد اور شاگرد کا جدا ہے۔ ‘‘۲۶؎

’’لکھنئو کا دبستانِ شاعری ‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے انشا کے ذکر میں اس کا موازنہ ’’مجموعۂ نغز‘‘ کی تحریر سے کیا ہے اور ابواللیث صدیقی کی فارسی دانی پر ان الفاظ میں تنقید کرتے ہیں:

’’اب ’لکھنئو کا دبستانِ شاعری ‘ سے ایک طویل اقتباس پیش کیا جاتا ہے جس سے ڈاکٹر صاحب کی فارسی دانی پر روشنی پڑے گی۔ اس کے بالمقابل مجموعۂ نغز کی اصل عبارت بھی لکھی جاتی ہے تاکہ اصل حقیقت معلوم ہو سکے ۔ ‘‘۲۷؎

مضمون’’ مصحفی اور اس کا کلام‘‘ کے تجزیے میں بھی ڈاکٹر وحید قریشی استدلالی انداز میں اس کے نقائص بیان کرتے ہیں اور مصنف کو بھی نشانۂ طنز بناتے ہیں۔
’’صدیقی صاحب نصف درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور سال میں ان کی ایک آدھ کتاب ضرور چھپ جاتی ہے۔ مصنف بننے کی اس جلدی میں ہر کتاب میں فاش غلطیاں رونما ہو گئی ہیں ۔ ‘‘۲۸؎

دبستانِ لاہور کے محققین کی خصوصیات گنواتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ایک اصول یہ بتایا ہے کہ یہ بزرگ معیار پر بہت زور دیتے تھے، سہل انگاری اور صحافتی اندازِ بیان انھیں ناپسند تھا۔ ان اصحابِ کمال کے ہاں تحقیقی کام میں غفلت یا عدم احتیاط جرائم میں داخل تھی اور ایسے مواقع پر ان کی گرفت سخت ہوتی تھی۔ ڈاکٹر وحید قریشی کا تعلق خود بھی اسی دبستان سے تھا لہٰذا سہل انگاری، حوالوں کی عدم احتیاط، زبان او راملا سے ناواقفیت، عروض سے ناآشنائی ان کے لیے ایک ناقابلِ معافی جرم قرا رپاتا ہے :

راشد الخیری-طبقۂ نسواں کے غم خوار

’’کتاب کے گرد پوش سے ہمیں یہ خوش خبری بھی ملتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب اب ’’جرأت اور اس کا کلام ‘‘ شائع فرما رہے ہیں۔ اگر یہ انتخاب بھی اسی طرح کا ہوا تو ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہوں گے کہ علی گڑھ نے اردو ریسرچ کا کوئی اچھا معیار قائم نہیں کیا۔ ‘‘۲۹؎

’’یادگارِ غالب۔ ایک تحقیقی مطالعہ ‘‘ میں دیگر نکات کا تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب نے اس نکتے کو بھی بیان کیا ہے کہ حالی نے آبِ حیات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور کافی مواد اپنی کتاب میں سمویا ہے۔ سند کے طور پر یادگارِ غالب اور آبِ حیات کے اقتباسات دیے ہیں اور حالی نے انھیں مکمل طور پر اپنایا ہے۔ حالی پر آزاد کے اس اثر و نفوذ نے انھیں گہرے مطالعے اور مزید تگ و دو سے باز رکھا۔ اس امر پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں:

’’حیاتِ سعدی میں انھوں نے جس محنت اور دیدہ ریزی کا ثبوت دیا ہے، یادگار میں اگر اس کا تھوڑا حصہ بھی صرف کرتے تو ہمیں اس سے بہتر تصنیف بھی دے سکتے تھے ۔ ‘‘۳۰؎
٭
ڈاکٹر وحید قریشی عہد بہ عہد بدلتے ہوئے لسانی اور املائی ارتقا سے واقف ہیں اور ان پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اردو، پنجابی، سندھی اور انگریزی الفاط اور ان کے استعمال پر جو بحث مختلف مضامین میں کی ہے وہ ان زبانوں پر ان کی مہارت، قدرت اور استبداد کو ظاہر کرتی ہے۔ دیوانِ حسن شوقی میں فتح نامہ نظام شاہ کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی نے اس میں سندھی الفاظ کی اکثریت پر زور دیا ہے جبکہ ڈاکٹر صاحب نے اس میں پنجابی الفاظ کی موجودگی کو بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’یہ درست ہے کہ پنجابی اور سندھی میں ساخت کے اعتبار سے بعض عناصر مشترک ہیں لیکن جالبی صاحب اسے صرف سندھی سے مخصوص خیال کرتے ہیں حالانکہ پنجابی بھی اس عنصر سے خالی نہیں ۔ ‘‘۳۱؎

اسی طرح ’’میزبانی نامہ ‘‘ میں اسی (۸۰) فیصد الفاظ کو پنجابی کا قرار دیاہے۔ سندھی اور اردو زبان کی مماثلت کے ثبوت میں انھوں نے میزبانی نامہ کے ابتدائی سو اشعار میں سے سندھی کے مشترک الفاظ جدا کیے ہیں، ان الفاظ میں اسی فیصد پنجابی اور سندھی کے مشترک الفاظ ہیں لہٰذا انھیں صرف سندھی قرار دینا لسانی اعتبار سے بعض غلط نتائج کی طرف راہنمائی کر سکتاہے ۔ اس کے بعد پنجاب الفاظ کی فہرست دی ہے جو میزبانی نامہ میں موجود ہیں۔

کرشن چندر کی افسانوی کائنات

ڈاکٹر وحید قریشی نے معانی اور املا میں بھی ڈاکٹر جمیل جالبی سے اختلاف کیا ہے اور تاریخ کے حوالے سے اسے ثابت کیا ہے کہ حرفِ اضافت کے بجائے ’’ے ‘‘ کا استعمال ۱۲ ویں صدی ہجری کے وسط تک تھا۔ جمیل جالبی نے حرفِ اضافت کو متن میں بحال کر دیا ہے جو کہ تدوین اور املا کے نقطہ نظر سے درست نہیں ہے :

’’انھوں نے اپنے متن میں دورِ حاضرکے املا کی پابندی کرتے ہوئے حرفِ اضافت کو بحال کر دیا ہے ایک آدھ جگہ اگر ایسا نہیں ہو سکا تو یہ شاید کاتب کی زبردستی ہے ۔ ‘‘۳۲؎

اسی نظم میں سے چند الفاظ کی جانب نشاندہی کی ہے اور پھر ان کادرست تلفظ اور املامثالوں اور وضاحت کے ساتھ درج کیا ہے مثلاًمتن میں ایک لفظ ’’دڑ پڑا‘‘ درج کیا ہے جو کہ قریشی صاحب کے مطابق ’’درِبڑا‘‘ ہے۔ فرہنگ میں اس لفظ کا صحیح املا درج ہے لیکن معنی درست نہیں ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق ’’درِ بڑا اس سالن کو کہتے ہیں جس میں گھی کم ہو اور ملغوبہ سا بن جائے یعنی یہ لفظ گاڑھے مواد کے لیے مستعمل ہے ۔ ‘‘ فرہنگ محنت سے تیار کی گئی ہے لیکن انھوں نے چند مقام تصحیح طلب بتائے ہیں جن کے مطالب کو پس منظر کے ساتھ اچھے طریقے سے استعمال کر کے وضاحت کی ہے مثلاً

’’لیف ‘‘ کا مطلب بوریا بستر نہیں ’’لحاف ‘‘ ہے ۔

’’اڑ ‘‘ کا معنی غرور دیا ہے، ہٹ اور ضد کے معنوں میں اب بھی رائج ہے۔

’’انڈڑیاں ‘‘ کا مطلب انڈے دیاہے حالانکہ چھوٹے انڈوں کو ’’انڈڑیاں ‘‘ کہتے ہیں

’’بالن ‘‘ کا مطلب جلانا دیا ہے۔ بالن کا جلانا تو ہے لیکن بالن جلانے کی لکڑی کو کہتے ہیں۔

اسی طرح معانی کے ساتھ ساتھ فعل کے صیغوں کو مدِ نظر رکھ کر انھوں نے یہ تجویز پیش کی ہے :

’’فرہنگ میں بعض جگہ ماضی یا ماضی استمراری کے صیغوں مین لفظ درج ہیں لیکن معانی میں مصدری شکل اختیار کی گئی ہے اگر اس کا لحاظ کر لیا جاتا تو اچھا تھا۔ ‘‘۳۳؎

’’مثنوی چند ر بدن ماہیار ‘‘میں بھی پنجابی زبان کے استعمال کی نشاندہی کی ہے :

’’مثنوی میں بعض ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو دکن اور پنجاب میںپائے جاتے ہیں مثلاً گاجنا، سوں، میں، چگے(چنگے)، ھویا(ہوا)، ھیگی (ہے )، نمانہ (متوالا )، دنیاں (دنیا) وغیرہ۔ اسی طرح بعض ایسے الفاظ بھی ہیں جن کا تلفظ پنجابی اور دکن میں ایک ہے ۔ ‘‘۳۴؎

عہد بہ عہد بدلتے املا اور تغیرات پر بھی ڈاکٹر صاحب کی گہر ی نظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کسی متن پر بات کرتے ہیں تو اس کے املا کے خصائص بھی بیان کرتے ہیں اور تاریخی حوالے دے کر اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ مثنوی نظامی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نسخے کی املا گیارھویں صدی کے اوائل میں ہوئی ہو گی۔ یہ رجحان چھٹی صدی میں فارسی میں شروع ہوا ۔ ساتویں اور آٹھویں صدی تک بعض حروف کے دوائر کو حاشیے میں دور تک کھینچ کر لے جانے کا طریقہ عام تھا ۔

’’خوانِ نعمت۔ ایک محاکمہ‘‘ میں بھی املا کے خصائص اور اغلاط کی نشاندہی کی ہے۔ مثلاً ایک کے بجائے ’’اک ‘‘ کا اندراج، یاے معروف و مجہول کے جدید املا پر بھی اعتراض کیا ہے کیونکہ اسے اختیار کرتے ہوئے مرتب سے غلطی ہوئی ہے :
’’۔ ۔ ۔ بعض الفاظ کے معنی نہ جاننے کے سبب وہ غلطیاں کر گئے ہیں مثلاً دریائی کباب کو دریاے کباب بنا گئے ہیں۔ ‘‘۳۵؎

ڈاکٹر وحید قریشی کا اسلوب بیانیہ اور بول چال کی زبان کے قریب ہے۔ چونکہ وہ ایک استاد تھے لہٰذا تحقیق میں بھی ان کا انداز سمجھانے والا اور سکھانے والا ہوتاہے۔ وہ تحقیق میں جلد بازی اور غیر معیاری کام کے مخالف ہیں، اس طرح کے کام پر ناخوشگواری کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

پریم چند کے افسانوں میں حقیقت نگاری(ایک مختصر تعارف)

’’تحقیقی کام کی رفتار کا اندازہ بھی مشینی ترازو میں کیا جائے تو پھر تحقیق میں معیار کا مسئلہ کڈھب ہو جاتاہے۔ ہمارے ہاں یہ رجحان عام ہے کہ ہم ہر تحقیق کا نتیجہ فوری طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ شکر کے کارخانے جس طرح اپنی پیداوار (Production)کا عملی ثبوت مہیا کرتے ہیں اور ہر سال جنس کے انبار لگا کر اپنی افادیت ثابت کرتے ہیں اسی طرح تحقیقِ ادب میں بھی ہم معیار کے مقابلے میں مقدار کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ ‘‘۳۶؎

اس صورت حال کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی حقیقت پسندی سے اس کا تجزیہ بھی کرتے ہیں کہ جو محقق معیار کا ساتھ دیتے ہیں وہ دنیاوی سطح پر کس گھاٹے کا شکار ہوجاتے ہیں :

’’جو محققین اس تیز رفتاری کا ساتھ نہیں دیتے اور معیار کے پیچھے جاتے ہیں ان کے لیے عملی کام کے راستے مسدود ہونے کے امکانات بڑھتے ہیں۔ تحقیق سے رفتہ رفتہ جاں کاوی اور محنت کا عنصر خارج ہونے لگا ہے اور یہ کوئی خوش آیند بات نہیں ہے ۔ ‘‘۳۷؎

ڈاکٹر وحید قریشی کا انداز شگفتہ ہے۔ وہ طنزیہ گفتگو بھی اس انداز سے کرتے ہیں کہ ناگوار نہ گزرے اور قاری ان کے الفاظ کی دل کشی میں کھو کر رہ جاتاہے۔ ولی کے باوا آدم ہونے کے حوالے سے نقادوں پر ان الفاظ میں طنز کرتے ہیں:

’’نصرتی سے لے کر ولی تک شاعری کی جو روایت پروان چڑھی ہے اس کے بارے میں نقادوں میں خاصی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ولی کو عموماََ اس حیثیت سے پیش کیا جاتاہے کہ وہ ایک صبح بیدار ہوئے اور انھوں نے طے کیا کہ آئندہ سے فارسی اثرات کو قبول کرتے ہوئے شعر کہا کریں گے ۔ ‘‘۳۸؎

روزمرہ اور محاورات کے استعمال نے ان کے اسلوب کو دلچسپ بنا دیاہے :

’’دیباچے میں کہیں کہیں کاتب کا مال نظامی کے حساب میں جمع ہو گیاہے ۔ ‘‘۳۹؎

’’نقادوں کے نزدیک تحقیق محض ایک میکانکی عمل ہے اور محققین کے نزدیک کسی ادب پارے سے تنقیدی نکات کا استخراج دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے ۔ ‘‘۴۰؎

’’خوانِ نعمت۔ ایک محاکمہ ‘‘ میں ڈاکٹر عبادت بریلوی کی تحقیق پر طنزیہ انداز میں چوٹیں کی ہیں لیکن ان کی بنیاد بھی استدلال پر رکھی ہے :

’’ڈاکٹر صاحب میر حسن کی مثنویات دھڑا دھڑ چھاپ رہے ہیں ۔ ‘‘

’’ان کا دوسرا دعویٰ بھی حقائق کے خلاف ہے ۔ ‘‘

’’جہاں فورٹ ولیم کالج کی کتابوں کی مطبوعہ کتابوں کو کاتب کے حوالے کردینے کا نام تدوینِ متن سمجھا جاتا ہو وہاں نسخے کے اصل متن کا عکس شریکِ اشاعت کرنا اس لیے بھی ناگزیر ہو جاتا ہے کہ مرتب کی محنت اور عرق ریزی کا صحیح اندازہ تقابلی مطالعے ہی سے ممکن ہے ۔ ‘‘۴۱؎

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے مقالے ’’لکھنئو کا دبستانِ شاعری ‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے تاریخی حوالوں اور تحقیقی نقائص کی طرف ان الفاظ میں نشاندہی کرتے ہیں۔
’’تاریخی معلومات کے بعد اب شعرا کے حالات کو لیجیے تو اس میں بھی ڈاکٹر صاحب کی تحقیق و تدقیق پوری آب و تاب سے دکھائی دیتے ہیں ۔ ‘‘۴۲؎

’’مقدمۂ کلامِ آتش۔ تحقیقی جائزہ ‘‘ میں ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی کی مخصوص انداز میں تعریف کی ہے تاہم جو نقائص اور خامیاں ہیں انھیں بھی بطور تجویز پیش کر دیا ہے۔ ساتھ ہی ترقی پسند نقادوں کو بھی اپنی طنز کا نشانہ یوں بناتے ہیں :

’’وہ ان ترقی پسند نقادوں میں سے نہیں ہیں جو محض رٹے رٹائے جملوں کی مدد سے شاعرکو اپنے ذاتی عقائد کی تبلیغ کا ذریعہ بناتے ہیں ۔ ‘‘۴۳؎

آصف الدولہ کی شادی کا تذکرہ، آتش کی پیدائش کے بیان اور نواب محمد تقی خاں ترقی کے انتقال کے حوالے سے اپنی تحقیق درج کی ہے اور آخر میں اعظمی کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے :

’’۔ ۔ ۔ وہ تنقیدی بصیرت بھی رکھتے ہیں، قدیم ادب سے انھیں لگائو بھی ہے اور اس ماحول کو بھی سمجھتے ہیں جس میں ہمارے شاعری زندگی بسر کرتے تھے۔ انھیں موازنے کا وہ شوق بھی نہیں ہے جو غالب کو گوئٹے اور نظیر اکبر آبادی کو شیکسپیئر سے ٹکرا دیتاہے اس لیے اس کے نتائج بڑی حد تک صحیح ہیں۔ تنقیدی اصولوں کے بارے میں ان کا ذہن بہت سے نقادوں کے مقابلے میں صاف ہے۔ ‘‘۴۴؎
ضر ب الامثال اور محاوروں کا دلچسپ استعمال ڈاکٹر صاحب کی تحقیقی آرا کو مزید دلچسپ بناتاہے اور اس میں دلکشی پیدا کرتا ہے۔ چند مثالیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں جس سے ان کی ذکاوت کا انداز ہ آسانی سے کیا جا سکتاہے :

’’یہ وہ بھاری پتھر تھا (اس کتاب کے ابتدائیہ نگارنواب زادہ جمیل الدین عالی نے بھی اس کا اقرار کیا ہے ) اکثر محققوں نے چوم کر چھوڑ دیا تھا ۔ ‘‘۴۵؎

’’ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ تحقیق الہ دین کا چراغ نہیں کہ اسے گھسا کر فوراََ مطلب کی چیز برآمد کر لی جائے۔ ‘‘۴۶؎
’’۔ ۔ ۔ ۔ اپنے مال کو بازار میں لگا کر دوسروںپر سبقت لے جانے کی خواہش میں محققین ’کاتا اور لے دوڑی ‘پر عمل کر کے تحقیق کے معیار کو پست سے پست کر بیٹھتے ہیں ۔ ‘‘۴۷؎

’’اب دونوں دیوان زادے گھوڑ دوڑ کے میدان میں اتر چکے ہیں ۔ ‘‘۴۸؎

’’محقق گلی سڑی ہڈیوں کے تاجر قرار پائے اور سماجی مرتبے کے سنگھاسن پر صرف تنقید کو جگہ ملی ۔ اس افراتفری نے اردو ادب کے بعض اہم محقق کھو دیے۔ بعض نے تحقیق سے توبہ کر کے تنقید کو اپنا لیا کیوں کہ تنقید کی مارکیٹ زیادہ بلند سماجی مرتبے کی ضامن تھی ۔ ‘‘۴۹؎

’’بے چارہ پراٹھا منہ تکتا رہ گیاہے، اس کی جگہ پوری براجمان ہے، پنیر اور قورمہ کی حکومت ہے ۔ ‘‘۵۰؎

نظریات اور عملی ہر دو تحقیق میں جہاں ڈاکٹر وحید قریشی نے تحقیق کی خوبیوں اور خامیوں کی جانب توجہ دلائی ہے وہیں وہ تحقیق کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے تجاویز بھی دیتے ہیں۔ یہ تجاویز عملی اور عقلی بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں۔ ان کی حیثیت خیالی نہیں بلکہ قابلِ عمل ہے۔ ’’بنیادی اردو ‘‘ کے لیے یہ تجویز دی ہے کہ اس کا ذخیرۂ الفاظ مختلف طبقاتِ قوم سے لیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کی معاشرتی زندگی کا صحیح نقشہ سامنے آسکے۔ اسی طرح قدیم فہرستوں کی نئے سرے سے سائنسی بنیادوں پر ترتیب کی ضرورت پر زور دیاہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی مدوَن کتب میں چند اغلاط کی نشاندہی کر کے تجاویز دی ہیں۔

ڈاکٹر وحید قریشی اردو تحقیق کے دبستانِ اوریئنٹل کالج لاہور کے نمائندہ محقق ہیں۔ انھوںنے اس دبستان سے وابستہ خصوصیات کو اپنی تحقیقی تحریروں میں لاگو کیا ہے اور اردو ادب اور تحقیق کو سائنسی اصول دیے ہیں ۔ ڈاکٹر وحید قریشی نے اوریئنٹل کالج کی تحقیقی روایت کی اساس رکھنے اور اسے مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

حوالہ جات
۱۔ ڈاکٹر وحید قریشی، مقالاتِ تحقیق، لاہور : مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، طبع اول مارچ ۱۹۸۸ء
۲۔ ایضاً
۳۔ ایضاً، ص ۹، ۱۰
۴۔ ایضاً، ص ۱۱، ۱۲
۵۔ ایضاً، ص ۱۳
۶۔ ایضاً، ص ۲۵
۷۔ ایضاً، ص ۲۹
۸۔ ایضاً، ص ۲۳، ۲۴
۹۔ ایضاً، ص ۳۱
۱۰۔ ایضاً، ص ۱۲
۱۱۔ ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی، کیا عمارت قضا نے ڈھائی ہے، مشمولہ مجلہ راوی ۲۰۱۰ء، مجلہ جی سی یونیورسٹی لاہور، ص ۱۳۲
۱۲۔ مقالاتِ تحقیق، ص ۱۳
۱۳۔ ایضاً، ص ۱۵
۱۴۔ ایضاً، ص ۳۹
۱۵۔ ایضاً، ص ۴۷
۱۶۔ ڈاکٹر وحید قریشی، کلاسیکی ادب کا تحقیق مطالعہ، لاہور : کلاسیک، پہلی بار ۱۹۶۵ء، ص ۴۰
۱۷۔ مقالاتِ تحقیق، ص۱۰۰
۱۸۔ ایضاً، ص ۱۸
۱۹۔ ایضاً، ص ۳۹
۲۰۔ ایضاً، ص ۲۵۸
۲۱۔ ایضاً، ص ۱۴
۲۲۔ ایضاً، ص ۱۶
۲۳۔ ایضاً، ص ۲۲
۲۴۔ ایضاً، ص ۳۹
۲۵۔ ایضاً، ص ۴۱
۲۶۔ ایضاً، ص ۲۲۴
۲۷۔ کلاسیکی ادب کا تحقیقی مطالعہ، ص ۶۴
۲۸۔ ایضاً، ص ۷۷
۲۹۔ ایضاً، ص ۸۸
۳۰۔ ایضاً، ص ۲۹۹
۳۱۔ مقالاتِ تحقیق، ص ۴۱
۳۲۔ ایضاً، ص ۱۳
۳۳۔ ایضاً، ص ۴۵
۳۴۔ ایضاً، ص ۳۴
۳۵۔ ایضاً، ص ۱۰۳
۳۶۔ ایضاً، ص ۱۵
۳۷۔ ایضاً
۳۸۔ ایضاً، ص۴۰
۳۹۔ ایضاً، ص ۳۴
۴۰۔ ایضاً، ص ۳۹
۴۱۔ ایضاً، ص ۳۲
۴۲۔ کلاسیکی ادب کا تحقیقی مطالعہ، ص ۴۹
۴۳۔ مقالاتِ تحقیق، ص ۱۷۴
۴۴۔ ایضاً، ص ۱۸۰
۴۵۔ ایضاً، ص ۳۲
۴۶۔ ایضاً، ص ۱۵
۴۷۔ ایضاً، ص ۱۵
۴۸۔ ایضاً، ص ۱۸
۴۹۔ ایضاً، ص ۱۸، ۱۹
۵۰۔ مقالاتِ تحقیق، ص ۲۴۰

اپنا تبصرہ بھیجیں