فیصل M. Fasyal 66

کتاب خطرناک دشمن

Spread the love

ایم فیصل

کتاب کے ساتھ انسان کا رشتہ صدیوں کا ہے اور اس کو عموماً انسان کےلئے بہترین دوست(کتاب خطرناک دشمن)

سمجھا جاتا ہے۔کتاب ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ جہاں بہت سے لوگوں

کےلئے مطالعہ کا مقصد وقت گزاری اور تفریح ہوتا ہے وہیں لاتعداد ایسے قارئین بھی ہیں

جو کسی نہ کسی تلاش اور سنجیدہ تحقیق کی غرض سے کتاب سے رجوع کرتے ہیں۔ دیگر

الفاظ میں مختلف پڑھنے والے ایک ہی کتاب کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔

پڑھنے والا جو کچھ بھی پڑھتا ہے وہ ایک طرح سے اس کی ذات میں سما جاتا ہے۔

پڑھے گئے مواد پہ منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس قسم سے تعلق رکھتا ہے اور قاری کے

ذہن پہ کیسے نقوش چھوڑ گیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی تحریر بےاثر رہے۔

کتابیں پسند ہیں تو یہاں کلک کریں

کتاب اور انسان کی دوستی کو دیکھا جائے تو جیسے مختلف نفسیات کے حامل لوگ

مختلف سطح کے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ کوئی مخلص تو کوئی مطلبی اور خود غرض۔

کتاب کے معاملے میں بھی بالکل ایسا ہی کہا جا سکتا ہے۔ کتاب کو انسان کا بہترین دوست

مان کر اکثر اس رشتے میں انسان دوستی پہ فوقیت کے درجے پہ رکھا جاتا ہے، اور اس نکتے

پر تمام اہلِ علم کی اکثریت یکساں طور پر متفق بھی ہیں۔ لیکن شائد ہی آج تک کسی نے

اس پہلو کی طرف کان دھرنے کی کوشش کی ہو کہ کتاب دوست کے ساتھ ساتھ دشمن بھی

ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہر انسان ایک جیسا دوست ثابت نہیں ہو پاتا۔

اسی طرح اس جہاں میں موجود لاتعداد کتابیں بھی اپنی اپنی انفرادیت اور قسم سے

تعلق رکھتی ہیں۔ تمام موضوعات اور علوم کے بارے میں بے شمار ترتیب شدہ مجموعوں کی

شکل میں علم کے لامتناہی سمندر سے انسان خود کو سیراب کر سکتا ہے۔

ہر ایک کتاب کی تالیف و ترتیب اور اشاعت میں مخصوص مقاصد و مطالب پنہاں ہوتے ہیں

جو کہ اکثر و بیشتر اس کے پڑھنے والے پہ عیاں ہوتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ

کتاب سمندر کی بل کھاتی لہروں اور سنسناٹی ہوئی ہوا کے جھونکوں کی مانند ہوتی ہے

جس میں قاری کا غرق ہونا لازم ہو جاتا ہے۔ قاری کتاب کے ہر ایک حرف کے ساتھ

مسلسل سفر کرتے ہو۔ لکھاری کی مختص کردہ منزل پہ پہنچتا ہے۔ یہ منزل اس کی سوچ

کےلئے ایک نئی راہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کتاب اپنے پڑھنے والے کی فکر اور لاشعور پہ گہرا

اثر چھوڑتی ہے۔ ایک کتاب آپ کی ذات میں تحریک پیدا کر کے آپ کی شخصیت کو اچانک

بدل سکتی ہے۔ کسی بھی انسان کی ظاہری سوچ، رویے اور فکری رجحان سے اس کے

لاشعوری علم کی قسم کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

تخریب کار: تحریر ہاچن, امریکہ

قاری کی سوچ اور غور کے زاویہ کا دار و مدار کافی حد تک اس کے مطالعہ پر ہے۔

کیونکہ مطالعہ انسان کے نفسیاتی اور شعوری ارتقا کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کتاب ہمیشہ اپنے لکھنے والے کی سوچ اور نکتۂ نظر کو

پڑھنے والے تک بہم پہنچاتی ہے۔ قاری دورانِ مطالعہ الفاظ کی گہرائیوں میں اس

حد تک ڈوبا ہوتا ہے کہ لکھنے والا گویا اس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ چلا رہا ہو۔ اس

کو جہاں چاہے لے کر جا سکتا ہے۔ قاری بیان کی گئی ہر چیز کو مصنف کی نظر

سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ کمزور دانش والے اور خصوصاً نئے کتاب بین اکثر و بیشتر لکھاری

کے جال میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ لکھنے والا آپ کی نفسیات کو

اپنی گرفت میں لے کر اپنی مرضی کی رائے قائم کروا لیتا ہے۔ آپ الفاظ کے سیلاب میں

بہتے چلے جاتے ہیں اور مصنف کی ہر بات اور دلیل کی مکمل طور پر تائید کرنے

لگتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں قلم کی طاقت۔

لہٰذا حتی الوسع کوشش کی جائے کہ کسی بھی نتیجے پہ پہنچنے سے پہلے کتاب کے

پسِ پشت واقعات اور محرکات کو بھی ضرور جانا جائے۔ لکھاری کے ذاتی رجحانات اور

ترجیحات کو پہچانا جائے۔ وہ کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے اور کس مقصد

کےلئے برسرِ پیکار ہے۔ کیونکہ لکھنے والا اپنی تصنیفی صلاحیتوں کو بخوبی بروئے

کار لاتے ہوئےاپنے عزائم بڑی مہارت سے پڑھنے والے کے ذہن میں منتقل کر سکتا ہے۔

اگر عزائم و مقاصد کوئی خاص منفی ایجنڈا لئے ہوئے ہیں تو یقیناً ذہنی تخریب کاری

کا باعث بن سکتے ہیں اور ایسے مقاصد کے حصول کےلئے باقائدہ منصوبہ بندی کے

تحت پہلے راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اس لئے بہتر ترکیب یہ ہے کہ کسی بھی

منفی رجحان کی گرفت سے محفوظ رہنے کے لئے دورانِ مطالعہ ہمیشہ تجزیاتی اور تقابلی اندازِ فکر کو اپنایا جائے۔

کتاب خطرناک دشمن کتاب خطرناک دشمن کتاب خطرناک دشمن

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...