almi adab 173

تخریب کار: تحریر ہاجن, امریکہ

Spread the love

اردو ترجمہ: نجم الدین احمد (بہاولنگر، پاکستان)

چی یُو اور اس کی نئی نویلی بیوی میوجی ریلوے اسٹیشن کے سامنے چوک میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ اُن کے درمیان میز پر بُھورا جھاگ اُگلتیں سوڈے کی دو بوتلیں اور چاولوں، چٹنی لگے ہوئے کھیرے اور سؤر کے گوشت سے بھرے دو کاغذی ڈبے پڑے تھے۔ “آؤ کھائیں۔” اُس نے اپنی بیوی سے کہا اور کھانے کی تیلیوں کے جُڑے ہوئے سرے توڑ ڈالے۔ دھاری دار پورک کا ایک ٹکڑا اٹھا کر اپنے منہ میں رکھا۔ چباتے ہوئے اُس کے پچکے ہوئے گالوں پر چند سلوٹیں نمودار ہوگئیں۔


اُس کے دائیں طرف والی میز پر ریلوے کے دو پولیس والے بیٹھے چائے پیتے ہوئے ہنس رہے تھے۔ شاید درمیانی عمر کا ہٹا کٹا پولیس والا اپنے قد، جوان اور کسرتی بدن والے ساتھی کو لطیفہ سُنا رہا تھا۔ کبھی وہ چھچھلتی ہوئی نظر چی یُو پر ڈال لیتے تھے۔


فضا میں سڑے ہوئے خربوزے کی بُو تھی۔ اُن کے کھانے پر چند مکھیاں بھنبھنارہی تھی۔ اُن کے اردگرد سینکٹروں لوگ پلیٹ فارم کی طرف یا شہر کے مرکزی حصے کو جانے والی بسیں پکڑنے کو دوڑے جارہے تھے۔ خوراک اور پھل بیچنے والے سُستی بھری آوازوں میں گاہکوں کو پُکار رہے تھے۔ مقامی ہوٹلوں کی نمائندہ درجن بھر نوجوان عورتیں گتے کے کارڈ پکڑے کھڑی تھیں، جن پر روزانہ کی قیمتیں اور “مفت طعام”، “ائیرکنڈیشنگ” اور “دریا کنارے واقع” جیسے فقرے ہتھیلی جتنے بڑے الفاظ میں تحریر تھے۔ چوک کے وسط میں چیئرمین ماؤ کا سنگی مجسمہ نصب تھا، جس کے قدموں میں کسان اپنی کمریں گرم پتھر سے ٹکائے، چہروں کو آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے قیلولہ کررہے تھے۔ کبوتروں کا ایک غول چیئرمین ماؤ کے ہاتھ اور کندھوں پر بیٹھا تھا۔

اب آپ پی ڈی ایف کتابیں ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں یہاں کلک کریں اور کتابیں ڈاونلوڈ کریں

چاول اور کھیرے مزیدار تھے۔ چی یُو آہستہ آہستہ کھارہا تھا۔ اُس کے زرد چہرے سے تھکن عیاں تھی۔ وہ خوش تھا کہ ماہِ عسل آخر تمام ہؤا۔ اب وہ اور اس کی بیوی ہاربن جارہے تھے۔ دو ہفتوں کی تعطیلات کے دوران وہ اپنے جگر کی طرف سے پریشان رہا تھا۔ تین ماہ پہلے اسے سخت ہیپاٹائی ٹس ہؤا تھا۔ اُسے ڈر تھا کہ بیماری عود نہ کر آئے۔ لیکن بڑھے اور سُوجے ہوئے جگر کے باوجود شدید علامات سامنے نہ آئی تھیں۔ مجموعی طور پر وہ اپنی صحت کی طرف سے مطمعین تھا کیونکہ ماہِ عسل (Honeymoon) بخیر و خوبی سے گزر چکا تھا۔ وہ یقینی طور پر رُوبہ صحت تھا۔ اُ سنے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو تار کا بنا ہوا چشمہ اتارے ناک انگلی سے کھجا رہی تھی۔ اس کے پیلے گالوں پر پسینے کے قطرے موجود تھے۔

 “پیاری تم ٹھیک تو ہو؟” اُس نے پوچھا۔

“سر میں درد ہے۔ پچھلی رات ٹھیک طرح سے سو نہیں سکی۔”

“اسپرین کی گولی لے لو، لوگی؟”

“اس کی ضرورت نہیں ہے۔ کل اتوار ہے، میں صبح دیر تک سوتی رہوں گی۔ آپ پریشان نہ ہوں۔”

 اُن کی گفتگو کے دوران دوسری میز پر بیٹھے موٹے پولیس والے نے اٹھ کر چائے کا پیالہ ان کی طرف پھینکا۔ چی یُو اور اس کی بیوی دونوں کے جوتے فوراً گیلے ہوگئے۔

“بدمعاش”۔ اُس کی بیوی نے دھیمی آواز میں کہا۔

 چی یُو اٹھا اور بلند آواز میں بولا: “پولیس والے، تم نے یہ حرکت کیوں کی ہے؟” اُس نے اپنے گیلے پاؤں دکھانے کے لیے دایاں پیر میز سے باہر نکالا۔


 “کیا کیا ہے؟” ہٹے کٹے نے بھاری آواز میں پوچھا۔ وہ چی یُو کو گھوررہا تھا جب کہ اُس کا نوجوان ساتھی سیٹی بجا رہا تھا۔
“تم نے ہمارے پیروں پر پانی پھینکا ہے۔”

“تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تم نے اپنے جوتے خود بھگوئے ہیں۔”

 “پولیس والے، تمہارا فرض نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے لیکن تم نے دانستہ ہم شریف شہریوں کو تنگ کیا ہے۔ تم تو قانون نافذ کرنے والے ہو۔ پھر تم نے قانون کیوں توڑا؟” چی یُو بول رہا تھا تو اُن کے گرد درجنوں لوگ اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔

ایرانی بحریہ نے اپنی ہی کشتی تباہ کرڈالی،40 فوجی جاں بحق

پولیس والے نے ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنے نوجوان ساتھی سے کہا: “آؤ اسے گرفتار کر لیں۔”

 وہ چی یُو پر چھپٹے اور اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔ وہ چلایا: “تم ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ ناانصافی ہے۔”


 “بکواس بند کرو۔” پولیس والے نے پستول نکال لیا۔ “تم ہمارے ہیڈ کوارٹر پہنچ کر اپنی زبان استعمال کر سکتے ہو۔”


نوجوان نے کہا: “تم ایک تخریب کار ہو۔ تم نے امنِ عامہ میں خلل ڈالا ہے۔”


 اُس کی بیوی اس قدر خوفزدہ ہوگئی تھی کہ اُس کے منہ سے ایک لفظ تک نہ نکلا۔ اُس نے فائن آرٹس کے مضامین کے ساتھ حال ہی میں گریجویشن کی تھی۔ اس سے قبل اُس نے پولیس والوں کو کسی کو گرفتار کرتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ بالآخر اُس کے منہ سے صرف اتنا نکلا: “اوہ، پلیز، پلیز۔”
 پولیس والے چی یُو کو دھکیل رہے تھے۔ اُس نے میز کا کنارہ پکڑ کر اُن کے ساتھ جانے سے چلاتی ہوئی آواز میں انکار کرتے ہوئے کہا: “ہمیں ٹرین سے جانا ہے۔ ہم ٹکٹیں بھی خرید چکے ہیں۔”


ہٹے کٹے پولیس والے نے اس کے سینے پر گھونسا رسید کیا۔ “بک بک بند کرو۔ سمجھ لو کہ تمہاری ٹکٹیں ختم ہو چکی ہیں۔” اُس نے پستول کے کُندے سے چی یُو کے ہاتھوں پر ضرب لگائی۔ چی یُو کے ہاتھوں سے میز کا کنارہ چھوٹ گیا۔ دونوں پولیس والوں نے اُسے پولیس سٹیشن لے جانے کے لیے گھسیٹا۔


یہ احساس ہونے کے بعد کہ اُن کے ساتھ جائے بِنا چارہ نہیں، چی یُو چہرہ بیوی کی طرف گھُماتے ہوئے چیخا؛ “میرا یہاں انتظار مت کرنا۔ تم ٹرین سے جاؤ۔ اگر کل صبح تک میں گھر واپس نہ پہنچوں تو مجھے چھڑانے کے لیے کسی کو بھیج دینا۔”


اُس نے سسکیاں بھرتے ہوئے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر سر ہلا دیا۔


 چی یُو کے جوتوں کے تسمے اتار کر انہوں نے اسے ریلوے پولیس سٹیشن کے عقب میں واقع حوالاتی کمرے میں بند کردیا۔ کمرے کی واحد کھڑکی پر فولاد کی چھ سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ کھڑکی میں سے بھلا صحن نظر آتا تھا جس میں صنوبر کے چند درخت کھڑے تھے۔ درختوں سے پرے لوہے کے چوکھٹے سےجڑے دو جھولے تھے جو ہوا کے ساتھ ہل رہے تھے۔ عمارت میں کہیں کوئی ہموار آواز میں بغدے سے کسی چیز کے ٹکڑے کررہا تھا۔ چی یُو نے سوچا کہ اوپری منزل پر باورچی خانہ ہوگا۔


وہ اس قدر تھک چکا تھا کہ اپنے ساتھ آئندہ ہونے والے سلوک کے بارے میں بھی پریشان نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ آنکھیں بند کرکے تنگ بستر پر دراز ہوگیا۔ وہ خوفزدہ نہیں تھا۔ ثقافتی انقلاب مکمل ہوچکا تھا۔ پارٹی، قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں کے نظریے کے پرچار کررہی تھی۔ پولیس کے لیے ضروری تھاکہ عام آدمی کے لیے قانون کی پابندی کا عملی نمونہ بنے۔ جب تک وہ ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لیتا رہے گا وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔


سہہ پہر کے بعد اسے دوسری منزل پر تفتیشی بیورو لے جایا گیا۔ سیڑھیوں پر اسے درمیانی عمر کا وہی پولیس والا ملا جس نے اسے پیٹا اور گرفتار کیا تھا۔ وہ اُس پر ہنسا۔ اُس نے اپنے بڑے بڑے دیدے گھماتے ہوئے اپنی انگلیاں اُس کی طرف یوں تانیں جیسے پستول سے فائر کررہا ہو۔ “حرامزادہ”۔ چی یُو نے دل ہی دل میں اسے گالی دی۔


 دفتر میں بیٹھتے وقت اسے ڈکار آئی۔ اُس نے اپنے منہ کو ہتھیلی سے ڈھانپ لیا۔ بڑی میز کے دوسری طرف اُس کے سامنے تفتیشی بیورو کا چیف اور گدھے کی شکل کا ایک آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ میز کے شیشے کی سطح پر ایک فائل پڑی تھی، جس میں اُس مقدمے کی تفصیلات درج تھیں۔ اُسے یہ بات بڑی عجیب لگی کہ محض چند گھنٹوں میں انہوں نے اُس کے متعلق ڈھیر ساری معلومات اکٹھی کرلی تھیں۔ دوسرے خیال نے اُسے مزید حیران کردیا کہ کیا اُن کے پاس ہمیشہ سے اس کے متعلق فائل مرتب رہی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ وہ پہلی بار میوجی آیا تھا۔ و ہ یہاں سے تین سو میل دور واقع ہاربن میں رہتا اور کام کرتا تھا۔


بیورو کا چیف دُبلا پتلا، گنجا شخص تھا، جو پُرسکون اور فطین نظر آتا تھا۔ اُس کے پتلے ہاتھوں نے لیکچر دینے والے دانشور کے انداز میں فائل کے تحریر شدہ کاغذات کو ٹٹولا۔ چی یُو کی بائیں جانب ایک کاتب بیٹھا تھا، جس کے گھٹنوں پر کلپ بورڈ اور ہاتھ میں سیاہ قلم تھا۔


“تمہارا نام ؟” چیف نے بظاہر کسی فارم کو دیکھتے ہوئے یہ سوال کیا۔


“چی یُو میکُو اینگ۔”


“عمر؟”


“چونتیس سال”


“پیشہ؟”


“لیکچرار”


“کام کی جگہ؟”


“ہاربن یونیورسٹی۔”


“سیاسی حیثیت؟”


“کمیونسٹ پارٹی کا رُکن۔”


 چیف نے کاغذ نیچے رکھ دیے اور شروع کیا؛ “تمہارا جرم تخریب کاری ہے۔ اگرچہ یہ ابھی تک تشویشناک نتائج کا باعث نہیں بنا ہے۔ چونکہ تم جماعت کے رُکن ہو لہٰذا تمہیں زیادہ سزا ملنی چاہیئے۔ تم عام لوگوں کے لیے مثال بننے میں ناکام رہے ہو اور تم۔۔۔۔”


“معاف کیجیئے جناب!” چی یُو نے قطع کلامی کی۔


“کیا بات ہے؟”


 “میں نے کچھ نہیں کیا ہے۔ آپ کے آدمی ہمارے سماجی نظام کے تخریب کار ہیں۔ انہوں نے میرے اور میری بیوی کے پیروں پر گرم چائے پھینکی ہے۔ آپ انہیں سزا نہیں دیتے تو بھی اصولی طور پر آپ کو انہیں سرزنش کرنا چاہیئے۔”


 “تمہارا بیان بے بنیاد ہے۔ تمہارے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔ میں تمہاری بات کا کیسے یقین کرلوں؟”چیف نے معمول بھرے انداز میں کہا۔
 “یہ ہے تو میری شہادت۔” اُس نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کیا۔ “تمہارے آدمی نے پستول سے میری انگلیاں زخمی کردی ہیں۔”


 “اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ تمہارے پاؤں کیسے گیلے ہوئے۔ اس کے علاوہ تم اپنی انگلیاں خود بھی زخمی کرسکتے ہو۔”


 “میں نے آپ کو حقیقت بتا دی ہے۔” چی یُو کے اندر غصہ بھر گیا۔ “آپ کو مجھ سے معذرت کرنا ہوگی۔ میرا ٹکٹ ضائع ہوگیا۔ چمڑے کے نئے چپل تباہ کردیے گئے۔ میں صوبائی دارالحکومت میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اب وقت پر نہیں پہنچ سکوں گا۔ آپ کو میرے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیئے۔ مجھے ایک عام شہری مت سمجھیں، جو آپ کے چھینک مارتے ہی کانپنا شروع کردے گا۔ میں ایک عالم ، فلسفی اور جدلیاتی مادیت کا ماہر ہوں۔ اگر ضروری ہوا تو ہم اس واقعے کے بارے میں “روزنامہ نارتھ ایسٹرن” میں بحث کریں گے یا پھر بیجنگ کی سب سے بڑی عوامی عدالت میں جائیں گے۔ آپ مجھے اپنا نام بتائیں؟” وہ زوردار تقریر کرتا چلا گیا جو کسی طرح بھی معمولی انداز کی حامل نہیں تھی۔ متعدد مواقع پر اُس نے ایسی پُر زور تقاریر سے فوائد حاصل کیے تھے۔ “ہم پر دھونس جمانا بند کرو۔” گدھے کے منہ والے نے دخل دیا۔ “ہم نے تمہارے جیسے بہت دیکھے ہیں۔ ہم بہ آسانی تمہارا جرم ثابت کرسکتے ہیں۔ دیکھو، کچھ چشم دید گو اہوں کے بیانات۔” اُ س نے چند کاغذات چی یُو کی جانب دھکیل دیے۔
چی یُو مختلف لکھائیاں دیکھ کر بدحواس ہوگیا۔ سب نے بیان دیا تھا کہ وہ لوگوں کی توجہ کھینچنے کے لیے اونچی آواز میں چلا رہا تھا اور اُس نے پولیس کی حکم عدولی کی ہے۔ ایک گواہ نے اپنی شناخت لکھی تھی کہ وہ شنگھائی کے ایک مرکزِ جہاز سازی کا ایجنٹ خریداری ہے۔ جی یُو کے معدے میں کوئی چیز کلبلائی۔ اُس کی پسلیوں سے درد اُٹھا۔ وہ دھیمی آواز میں کراہا۔


“اب تمہیں اپنا جرم تسلیم کرنا ہوگا۔” چیف نے کہا۔ “اگرچہ یہ تشویشناک جرم ہے لیکن ہم تمہیں سخت سزا نہیں دیں گے بشرطیکہ تم اپنی مذمت خود لکھ کر دو اور وعدہ کرو کہ آئندہ عوامی نظم و ضبط میں خلل نہیں ڈالو گے۔ دوسرے لفظوں میں تمہاری رہائی کا انحصار اس پر ہے کہ تم جرم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو۔”


“آپ جاگتی آنکھوں خواب دیکھ رہے ہیں۔” چی یُو چلایا۔ “میں ایک لفظ بھی لکھ کر نہیں دوں گا کیونکہ میں بے گناہ ہوں۔ میرا مطالبہ ہے کہ آپ مجھے معذرت نامہ لکھ کر دیں تاکہ میں یونیورسٹی والوں کو وضاحت کر سکوں کہ مجھے دیر کیوں ہوئی ہے۔”


دونوں تفتیش کنندگان حقارت سے مسکرائے ؛ “خوب، ہم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ “چیف نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے کہا۔


“پھر اسے نظیر بنالیں۔”


 “یہ غیر ضروری بات ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تم ہماری خواہش پر عمل کرو گے۔” چیف نے چی یُو کے چہرے پر دھؤیں کا مرغولہ چھوڑا۔
 چیف کے سر کے اشارے پر دو محافظوں نے آگے بڑھ کر مجرم پر چھپٹا مارا اور اُسے بازوؤں سے پکڑ لیا۔ چی یُو بولتا رہا۔ “میں تمہارے خلاف صوبائی انتظامیہ کو رپورٹ کروں گا۔ تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ تم جاپانی فوجی پولیس سے بھی بُرے ہو۔”


وہ اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئے۔


 رات کے کھانے کے بعد، جو ایک پیالہ باجرے کے دلیے، مکئی کے ایک بند اور شلجم کے اچار کے ایک ٹکڑے پر مشتمل تھا، چی یُو کو بخار چڑھ گیا۔ وہ سردی سے کانپنے لگا اور پسینے سے بھیگ گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ غصے کی آگ اُس کے جگر میں داخل ہوکر بیماری کی واپسی کا باعث بن گئی ہے۔ اُس کے پاس دوا بھی نہ تھی کیونکہ بریف کیس اُس کی بیوی کے پاس رہ گیا تھا۔ گھر ہوتا تو وہ اس وقت رنگین ٹی وی پر شام کی خبریں دیکھتے ہوئے سبز چائے پیتا۔ یہاں تنہائی بھی تو بہت تھی۔ بستر کےعین اوپر واقع زرد بلب روشنی کا واحد ذریعہ تھا۔ اُس روشنی میں محافظوں نے اس کی رات بھر نگرانی کرنا تھی۔ کچھ دیر پہلے اُس نے مطالعے کے لیے اخبار یا رسالے کا مطالبہ کیا تھا جسے انہوں نے رد کردیا تھا۔


دروازے کے چھوٹے سوراخ سے شور آرہا تھا۔ قہقہے اور باتوں کی آوازیں سُنائی دے رہی تھیں۔ کسی قریبی دفتر میں ڈیوٹی پر موجود پولیس والے شاید پوکر یا شطرنج کھیل رہے تھے۔ اِس دوران دُور کہیں عمارت میں اکارڈین بنتا رہا۔ کاغذ اور قلم کو، جو محافظ تفتیشی بیورو سے واپسی پر اُس کے لیے چھوڑ گئے تھے، دیکھتے ہوئے چی یُو کو ایک پرانی کہاوت یاد آگئی؛ “جب کسی دانشور کا فوجیوں سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ جس قدر دلائل دیتا ہے اُسی قدر اُس کا مؤقف حقیر پڑتا جاتا ہے۔” یہ سب کتنا مضحکہ خیز تھا۔ اُس نے اپنے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔


اُسے اپنی حالت بہت خراب محسوس ہورہی تھی۔ وہ مسلسل پیٹ کو سہلا رہا تھا۔ درحقیقت وہ خوفزدہ سے زیادہ پریشان تھا کیونکہ اُسے فوراً واپس لوٹ کر ادھورے کام کو پورا کرنا تھا۔ ایک مضمون کی اشاعت تو اگلے ہفتہ ہی ہونا تھی۔ وہ درجن کتب اُن موضوعات پر پڑھنا ضروری تھیں جنہیں اُس نے سرما کی کلاسوں میں پڑھانا تھا۔


دروازے کے سوراخ میں سے ایک انسانی سایہ گزر تا نظر آیا۔ چی یُو تیزی سے دروازے پر پہنچا اور سوراخ سے چلایا ؛ “کامریڈ پہرے دار ، کامریڈ پہرے دار!”


“کیا چاہتے ہو؟” ایک جھلائی ہوئی آواز آئی۔


 “میں تمہارے افسران ِ بالا کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں شدید بیمار ہوں۔ میں دل اور یرقان کا مریض ہوں۔ اگر تم نے مجھے یوں ہی بِلا علاج رکھا تو میں مر جاؤں گا۔”


“ہفتہ وار تعطیل کی بناء پر کوئی افسر ڈیوٹی پر موجود نہیں۔ سوموار تک انتظار کرو۔”


“کیا؟ تمہارا مطلب ہے کہ مجھے کل بھی یہیں رہنا ہوگا؟”


“ہاں۔”


“اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم لوگ ذمہ دار ٹھہراؤ گے۔”


“ہم جانتے ہیں۔ بے فکر رہو، تم مرو گے نہیں۔”


 خلافِ توقع چی یُو سارا وقت سر پر روشنی اور پسوؤں سے بھرے ہو بھوسے کے سخت گدے کے باوجود اچھی نیند ہویا۔ وہ پسوؤں اور کھٹملوں کے سوا مکھیوں، مچھروں، کاکروچوں اور اسی قبیل کے دوسرے حشرات سے خوفزدہ رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں، جہاں اس کے سکول کے شعبے کے تمام طلباء اور عملہ کسانوں کو فصل کی کٹائی میں مدد دینے ایک ہفتے کے لیے گئے تھے، اُس کے ساتھی اُس کے گوشت کا مذاق یہ کہہ کر اُڑاتے رہے تھے کہ وہ پسّوؤں کے لیے غیر انسانی ذائقے کا حامل تھا۔ اُس کے سوا سب کو پسّوؤں کے کاٹنے سے بہت اذیت پہنچی تھی۔


 زیادہ حیرتناک امر یہ تھاکہ اُسے اپنی بیوی کی کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہوئی۔ اُسے اکیلے سونے میں مزا آیا۔ شاید ماہِ غسل نے اُسے تھکا دیا تھا اور اُسے زیادہ آرام کی ضرورت تھی۔ 


اتوار کی صبح عقبی صحن سنسان تھا۔ صنوبر کی شاخوں سے زرد دھوپ جھانک رہی تھی۔ چند چڑیاں زمین پر پتنگے اور کیڑے مکوڑے پکڑنے کے لیے اُچھل کود کررہی تھیں۔ آہنی سلاخیں پکڑے چی یُو نے صبح کی ہوا اپنے اندر کھینچی اس میں گوشت کی بُو ملی ہوئی تھی۔ لازمی طور پر قریب ہی کہیں کوئی ریستوران یا نفیس طعام گاہ تھی۔ اُس نے اپنے آپ کو یاد دلایا کہ اُسے قید پُر سکون رہ کر بھگتنا ہے۔ ہسپتال میں داخل ایک دوست کو لکھا ہوا چیرمین ماؤ کا ایک فقرہ اُس کے دماغ میں گونجنے لگا: “اب جب کہ تم یہاں آہی گئے ہو اور تمہیں یہاں ٹھہرنا ہی ہے تو اس وقت کا بہترین استعمال کرو۔”


ذہنی سکون کی خواہش کی وجہ اس کا یہ ڈر بھی تھاکہ یرقان شدت اختیار نہ کرلے۔ لہٰذا اُس نے پُرسکون رہنے کی کوشش کی۔ پھر بھی اُسے یقین تھا کہ اُس کا جگر سوجتا جارہا ہے کیونکہ ابھی تک برقرار تھا۔ تمام دن بستر پر پڑا وہ اپنے مضمون “تضادات کی فطرت” کے بارے میں سوچتا رہا۔ کبھی کبھار اُس پر شدید غصہ غالب آجاتا، تب وہ اونچی آواز میں گالیاں بکنے لگتا: “غنڈوں کا ٹولہ۔” اُس نے عہد کیا کہ ایک بار وہ چھوٹ جائے تو اپنے اس تجربے کے بارے میں مضمون لکھے گا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ چند پولیس والوں کے نام معلوم کرے۔


دن کا زیادہ حصہ آرام کرنے میں گزرا۔ اُسے یقین تھاکہ یونیورسٹی کی طرف سے کسی کو اُسے چھڑانے کے لیے بھیجا جائے گا۔ اُسے صرف یہ کرنا تھاکہ صرف یہ کرنا تھاکہ مطمعین رہتے ہوئے صبر سے انتظار کرے۔ جلد یا بدیر پولیس کو اُسے رہا کرنا پڑے گا اگرچہ انہیں اندازہ نہ تھاکہ وہ جانے سے انکار کردے گا۔ جب تک وہ اُسے معذرت نامہ لکھ کر نہیں دیتے۔ لعنت ہے اُن غنڈوں پر جنہوں نے اپنی بساط سے زیادہ جھگڑا مول لیا تھا۔


سوموار کی صبح جب اُس کی آنکھ کھلی تو دن نکل چکا تھا۔ عقبی صحن سے کسی آدمی کے کراہنے کی آواز آرہی تھی۔ ایک لمبی جماہی اور چیتھڑا کمبل کو لاتوں سے پرے پھینک کر چی یُو بستر سے نکلا اور کھڑکی کی طرف گیا۔ صحن کے درمیان میں ایک جوان آدمی صنوبر کے درخت سے بندھا ہوا تھا۔ اُس کی کلائیوں کو پیچھے کی طرف تنے پر سے گھما کر ہتھکڑی ڈالی گئی تھی۔ اُس کا بدن بل کھا رہا تھا۔ اور وہ غصے میں گالیاں بک رہا تھا۔ صحن میں اُس کے ہوا کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ چی یُو کو شناسا لگا۔


چی یُو نے اُسے پہچاننے کے لیے آنکھیں سکیڑیں۔ حیرت انگیز طور پر اُس نے اُسے پہچان لیا۔ وہ فین جِن تھا جس نے حال ہی میں ہاربن یونیورسٹی کے شعبہء قانون سے گریجویشن کی تھی۔ دو سال قبل چی یُو نے فین جِن کو کلاس میں شمولیت کی بناء پر مارکسی مادیات پڑھائی تھی۔ یہ خبیث نوجوان یہاں کیسے آپہنچا؟؟


اچانک اُسے ادراک ہوا کہ فین جِن کو اُس کی بیوی نے بھیجا ہوگا۔ کس قدر احمق عورت ہے۔ بس کتابی کیڑا ہے جسے غیر ملکی ناول پڑھنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ اُسے توقع تھی کہ وہ سکول کے سیکورٹی کے شعبہ سے بات کرے گی، جو یقینی طور پر کسی افسر کو یہاں بھیجتا۔ فین جِن کی کوئی سرکاری حیثیت نہ تھی۔ وہ محض ایک نجی لاء فرم میں کام کرتا تھا جو صرف دو وکیلوں پر مشتمل تھی۔ درحقیقت اُن کے پاس اُن عورتوں اور مردوں کی خاطر جاسوسی کے علاوہ کوئی کام نہ تھا جنہیں اپنے شریکِ حیات پر شک ہوتا تھاکہ اُن کے کسی سے ناجائز تعلقات ہیں۔ چی یُو پر متلی کی کیفیت غالب آگئی۔


کیا اُسے آواز دے کر اپنے شاگرد کو بتا دینا چاہیئے کہ وہ قریب ہی موجود ہے؟ اُس نے فیصلہ کیا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ وہ نہیں جانتا تھاکہ معاملہ کیا ہے۔ فین جِن پولیس سے جھگڑ بیٹھا ہوگا تبھی تو ایسی سزا مل رہی تھی۔ یہ سب نہ ہوتا اگر فین جِن اسے چھڑانے نہ آتا۔ خیر بات نہیں، چی یُو ہی کو کچھ کرنا ہوگا۔ لیکن وہ کیا کرے؟


دھوپ جھُلسا دینے والی ہوتی جارہی تھی۔ وہ صنوبر کے درختوں کے بیچ زمین سے ارغوانی بھاپ کو ٹمٹماتا اور اوپر اُڑتا دیکھ رہا تھا۔ “بیچارہ” اُس نے مکئی کے شوربے کا پیالہ منہ کی طرف نے جاکر گھونٹ لیتے ہوئے سوچا اور نمک لگی ککڑی کو ایک ٹکڑا دانتوں میں دبا لیا۔


جب ایک محافظ برتن اور کھانے کی تیلیاں لینے آیا تو چی یُو نے اُس سے پوچھا کہ عقبی صحن میں بندھے شخص کا کیا معاملہ ہے۔” اُس نے ہمارے افسرِ اعلٰی کو لُٹیرا کہا ہے۔” گارڈ نے کہا۔ “اُس کا دعویٰ ہے کہ وہ وکیل یا ایسی ہی کوئی چیز ہے۔ بدتمیز، حرامی۔”


اب یہ واضح ہوچکا تھاکہ چی یُو کو اپنے نجات دہندہ کی مدد کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی راستہ نکالتا، عقبی صحن سے چیخ کی آواز آئی۔ وہ کھڑکی کی طرف دوڑا۔ اُس نے دیکھا کہ فین جِن کے پاس ایک لمبا تڑنگا پولیس والا کھڑا تھا۔ زمین پر لوہے کی ایک بالٹی رکھی تھی۔ یہ وہی شخص تھا جس نے دو روز قبل چی یُو کو چوک سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُس نے فین جِن کی ناک کو نوچا۔ پھر اپنا ہاتھ اُٹھا کر چند سیکنڈ تک ہوا میں کھڑا کیے رکھا اور وکیل کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ فین جِن کراہ رہا تھا۔ پولیس والے نے بالٹی اُٹھا کر پانی اُس کے سر پر انڈیل دیا۔


“بچو ، یہ تمہیں لُو لگنے سے بچائے گا۔ میں گھنٹے گھنٹے بعد تم پر پانی ڈالتا رہوں گا۔” اُس نے اونچی آواز میں کہا۔


فین جِن نے آنکھیں بند رکھیں۔ اُس کے بھنچے ہوئے منہ سے ظاہر ہوتا تھاکہ پولیس والے کو گالیاں دینے سے خود کو بمشکل روکے ہوئے ہے یا پھر خاموشی سے سسکیاں لے رہا تھا۔ وہ چھینکا ۔ پھر اُس نے اُٹھایا اور چلا کر کہا “مجھے پیشاب کرنا ہے۔


“اوہ۔۔ ہونہہ۔” وہ چلا کر بولا۔ “پتلون ہی میں کرلو۔”


 چی یُو پھر بھی کچھ نہ بولا۔ سلاخیں پکڑے پکڑے اُس کی انگلیاں سفید پڑگئیں۔ پولیس والے نے مڑ کر قید خانے کی کھڑکی کی طرف دیکھا۔ ہولسٹر سے آدھا باہر اس کا پستول دھوپ میں چمک اُٹھا۔ نتھنوں سے آواز نکالتے ہوئے اُس نے سگریٹ کے ٹکڑے کو زمین پر پھینک کر اپنے پیر سے کچل دیا۔


اُسی وقت قیدخانے کا دروازہ کھلا۔ محافظوں نے چی یُو کو باہر آنے کا اشارہ کیا۔ وہ اُسے دوبارہ اوپری منزل پر تفتیشی بیورو لے گئے۔


وہی لوگ دفتر میں موجود تھے۔ اس بار کاتب خالی ہاتھ تھا۔ چی یُو کو دیکھتے ہی چیف نے کہا؛ “آہا آپ تشریف لے آئے ۔۔ براہِ مہربانی بیٹھیئے۔”


چی یُو کے بیٹھنے کے بعد چیف نے سفید ریشمی پنکھا جھلتے ہوئے کہا؛ “تم نے اپنے وکیل کا حشر دیکھ لیا۔ وہ بد اخلاق شخص ہے۔ ہمارے ناظم کے کہنے پر اسے عقبی صحن میں فی الفور اخلاق سکھایا جارہا ہے۔”


“یہ غیر قانونی حرکت ہے۔ کیا آپ کو اخبار میں اپنے خلاف لکھے جانے سے ڈر نہیں لگتا؟”


“نہیں ۔۔ ہم ٹی وی پر آنے سے بھی نہیں ڈرتے۔ تم زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتے ہو؟ ہم تمہاری کسی گھڑی ہوئی کہانی سے بھی خوف زدہ نہیں۔ ہم اُسے افسانہ کہہ دیں گے۔ ہم صرف تمہارا تعاون چاہتے ہیں، اپنا جرم قبول کرلو۔”


“اگر میں تعاون سے انکار کردوں تو؟”


“پھر تمہارا وکیل دھوپ میں تعلیم جاری رکھے گا۔”


 چی یُو کو چکر آگیا۔ اُس نے خود پر قابو پانے کے لیے کرسی کی ہتھیوں کو تھام لیا۔ معدے کے اوپری حصے میں شل کردینے والا درد اُٹھا۔ اُسے سخت متلی محسوس ہوئی۔ اُس کا سر گھومنے لگا۔ اُسے یقین ہوگیا کہ بالآخر یرقان اس پر حملہ آور ہوگیا ہے۔ اُس کا سینہ غصے کی آگ سے جلنے لگا۔ اُس کے حلق میں کانٹے پڑ گئے۔


چیف دوبارہ بولا؛ “اب تمہیں خود ملامتی تحریر لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے تمہارا جُرم اس کاغذ پر واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ ہمیں اس پر صرف تمہارے دستخط کی ضرورت ہے۔”


چی یُو نے غصے کو دباتے ہوئے کہا۔ “مجھے ایک نظر دیکھنے دو۔”


 بناوٹی مسکراہٹ کے ساتھ گدھے جیسے منہ والے اُسے ایک کاغذ دیا، جس پر تحریر تھا؛ “میں اعتراف کرتا ہوں کہ مؤرخہ 13 جولائی کو میں نے میوجی ٹرین سٹیشن پر امنِ عامہ میں خلل ڈالا اور یہ کہ میں ریلوے پولیس کی تنبیہہ کو ماننے سے انکار کیا۔ لہٰذا میں اپنی گرفتاری کا خود ذمہ دار ہوں ۔ دو روز کی قید کے بعد مجھے اپنے جُرم کی رجعت پسندانہ کا احساس ہوگیا ہے۔ خود کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہوئے میں آئندہ اس نوع کےجرم کا مرتکب ہونے سے احتراز کروں گا۔”


چی یُو کے دماغ میں ایک آواز چیخنے لگی؛ “جھوٹ، جھوٹ۔” اُس نے سر جھٹک کر آواز کو دفع کیا اور چیف سے پوچھا؛ “اگر میں اس پر دستخط کردوں تو کیا مجھے اور میرے وکیل کو تم رہا کردو گے؟”


“یقیناً ۔۔ ہم ایسا ہی کریں گے۔” چیف نے انگلیوں سے اُس کے خلاف فائل کے فولڈر کو بجاتے ہوئے کہا۔


چی یُو اس قدر بیمار ہوچکا تھاکہ پہلی کوشش میں کرسی سے نہ اُٹھ سکا۔ اُس نے زور لگا کر خود کر کھڑا کیا۔ عقبی صحن میں اپنے وکیل تک پہنچنے کے لیے وہ لڑکھڑاتے ہوئے عمارت سے نکلا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے اُس کے سینے میں بم رکھا ہے۔ اگر اُس کا بس چلتا تو پورے ریلوے سٹیشن کو ملیامیٹ کرکے پولیس والوں کے خاندانوں تک کو صفحہء ہستی سے مٹا دیتا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ پھر بھی اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا۔


وکیل کے پاس پہنچ کر اس نے کہا؛ “فین جِن ۔۔ اس اذیت کے لیے مجھے افسوس ہے۔


 “کوئی بات نہیں۔ یہ لوگ وحشی ہیں۔” وکیل نے کانپتی انگلیوں سے اپنی جیکٹ پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے جواب دیا۔ اُس کے پاجامے کے پائنچوں سے اب تک پانی ٹپک رہا تھا۔


“آؤ اب چلیں۔” استاد نے کہا۔


 جب وہ پولیس سٹیشن سے باہر آئے تو چی یُو کی نظر ایک چائے خانے پر پڑی۔ وہ فین جِن کو ہاتھوں سے کھینچ کر اُدھر لے گیا اور چائے خانے کی بوڑھی مالکہ سے کہا؛ “قہوے کے دو پیالے۔”اور اسے ایک یُو آن کا نوٹ پکڑا دیا۔


ایک ایک پیالے کے بعد انہوں نے ایک ایک اور پیا۔ پھر وہ ریلوے سٹیشن کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہ بمشکل پچاسی گز ہی چلے تھے کہ چی یُو نے کھانے کے ایک سٹال پر ایک ایک پیالہ سبزی کا شوربہ پینے پر اصرار کیا۔ فین جِن نے اس سے اتفاق کیا۔ اُس نے اپنے استاد سے کہا؛ “مجھ سے مہمانوں جیسے سلوک مت کیجیئے۔”


“نہیں، میں خود بھی کچھ کھانا چاہتا ہوں۔”


 چی یُو ، وکیل کو پولیس سٹیشن کے آس پاس ایک ریستوران سے دوسرے ریستوران پر گھسیٹے پھرتا رہا جیسے وہ بھوک سے مرا جارہا ہو لیکن کسی بھی جگہ اُس نے کھانے کے دو زائد پیالے نہ منگوائے۔ فین جِن حیران تھاکہ اس کا استاد ایک ہی جگہ سے اپنا پیٹ کیوں نہیں بھر لیتا۔


چی یُو نے نوڈل ، ٹکیاں، اَٹھ نجا دلیا اور چکن سُوپ چار مختلف ریستوران سے لیے۔ کھاتے ہوئے وہ زیرِ لب کہتا رہا؛ “کاش میں تمام حرامیوں کو مار سکتا۔” آخری جگہ سے اُس نے شوربے کے صرف چند گھونٹ پیے۔ مرغی کی بوٹیوں اور کھمبیوں کو ہاتھ تک نہ لگایا۔


فین جِن کو اُس کے استاد نے حیران و پریشان کررکھا تھا۔ پُرسرار انداز میں بڑبڑایا ہوا وہ سفاک نظر آرہا تھا۔ اُس کے یرقان زدہ چہرے پر شکنوں کا جال پھیلا ہؤا تھا۔ پہلی مرتبہ فین جِن کو چی یُو بدشکل معلوم ہوا۔


ایک ماہ کے اندر میوجی میں آٹھ سو سے زائد افراد شدید یرقان کا شکار ہوگئے۔ چھ اموات واقع ہوئیں، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ وبا کیسے پھیلی تھی!  

تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ تخریب کار ہاجن امریکہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...