ماں قسط نمبر10 Mother novel 131

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 12

Spread the love

ماں کو احساس ہوا کہ اس دن صبح اس کے بیٹے نے مزدوروں سے جو کچھ کہا تھا اس کی وجہ سے یہ لوگ اسے جیل میں ڈال دیں گے۔ لیکن اس نے جو کچھ کہا تھا اس سے ہر شخص نے اتفاق کیا تھا۔ اس لئے ان سب لوگوں کو اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونا چاہئے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ زیادہ دن تک قید میں نہیں رہے گا۔

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 11

وہ چاہتی تھی کہ اسے اپنے بازوئوں میں لے کر روئے لیکن افسر بالکل اس کے برابر ہی کھڑا ہوا اسے آنکھیں سکیڑ کے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹ اور اس کی مونچھیں پھڑک رہی تھیں اور پلا گیا کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ شخص اس کے آنسوئوں اور شکایتوں اور التجائوں جا انتظار کر رہا تھا۔ اپنی ساری قوت کو مجتمع کر کے اس نے اپنے بیٹے کا ہاتھ تھام لیا اور آہستگی اور نرمی سے، تقریباًسانس روکے ہوئے بولی :

’’خدا حافظ پاشا۔ تم نے اپنی ضرورت کی ہر چیز لے لی ہے؟‘‘

’’ہاں۔ ہمت نہ ہارنا۔‘‘

’’خدا تمہاری حفاظت کرے۔ ۔۔‘‘

جب وہ لوگ اسے لے کر چلے گئے تو وہ ایک بنچ پر گر پڑی اور دھیرے دھیرے سسکیاں بھر نے لگی۔ وہ دیوار سے پیٹھ لگاکر بیٹھ گئی جیسے اس کا شوہر اکثر وبیشتر بیٹھا کرتاتھا۔ اس وقت وہ غم اور اپنی بے بسی کے تکلیف دہ احساس میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اپنے سر کو پیچھے کی طرف جھٹکا دیتے ہوئے اس نے لمبی دھیمی آہ بھری جس میں اس اپنے زخمی دل کے سارے درد کو سمو دیا اور اس کے ذہن پر وہ بے حس وحرکت زدہ چہرہ چھایارہا جس کی مونچھیں باریک تھیں۔ اور جس کی سکڑی ہوئی آنکھوں میں مسرت چمک رہی تھی۔ اس کے سینے میں ان لوگوں کے لئے تلخی اور نفرت کے سیاہ بادل چھانے لگے جو مائوں کی

ہمیں فالو کریں

آغوش کو ان کے بیٹوں سے محض اس بنا پر محروم کر دیتے ہیں کہ بیٹے عدل وانصاف کے متلاشی ہیں۔

رات سرد تھی اور بارش کے قطرے کھڑکیوں پر بج رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا جیسے بغیر آنکھوں، سرخ چہروں اور لمبے ہاتھوں والے خاکی اجسام رات میں مہمیز کی دھیمی آواز پیدا کرتے ہوئے اس کے گھر کے چاروں طرف پہرہ داروں کی طرح چکر لگا رہے ہیں۔

’’کاش وہ مجھے بھی لے جاتے!‘‘ اس نے سو چا۔

کارخانے کی سیٹی لوگوں کو کام کے لئے بلا رہی تھی۔ آج صبح اس کی آواز دھیمی، پھٹی ہوئی اور غیر یقینی سی معلوم ہوئی۔ دروازہ کھلا اور ریبن اندر داخل ہوا۔ وہ سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور اپنی ڈاڑھی سے بارش کے قطروں کو پونچھتے ہوئے اس نے پوچھا:

’’ اسے لے گئے کیا؟‘‘

’’ہاں لے گئے۔ پھٹکار ہوان پر! ‘‘اس نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔

’’ اس کی تو توقع کرنی ہی چاہئے تھی ‘‘وہ کچھ ہنسا۔

میرے گھر کی بھی تلاشی لی۔ ہر چیز کو اٹھا اٹھا کر دیکھا۔ بے انتہا گالیاں بکتے رہے۔ لیکن نقصان کم پہنچایا۔ تو پاویل کو لے گئے! ڈائریکٹر نے اشارہ کیا، پولیس نے سر ہلایااور ایک اور شخص چلا گیا! یہ لوگ ملکراچھا خاصہ کام کرتے ہیں، ایک لوگوں کو پکڑ لیتا ہے اور دوسرا ان کی جیبیں خالی کر دیتاہے۔‘‘

’’تم لوگوں کو پاویل کی تائیدکرنی چاہئے! ‘‘ماں نے اٹھتے ہوئے چیخ کر کہا۔ ’’اس نے جو کچھ کیا تمام لوگوں کی خاطر کیا۔‘‘

’’کس کو چاہئے؟‘‘

’’سب کو! ‘‘

ہونہ! اچھاتو یہ سمجھتی ہوتم! مگر یہ تو کبھی نہیں ہوگا!‘‘

ہنستے ہوئے وہ باہر چلا گیا اور اس کے مایوس کن الفاظ نے ماں کو پہلے سے بھی کہیں زیادہ دل شکستہ کردیا۔
ٍ
’’کون جانے وہ اسے ماریں۔ اذیت دیں۔ ۔۔‘‘

اس نے تصور کیا کہ اس کا بیٹا زخمی ہونے اور مار کھانے کے بعد خون سے لت پت ہے اور اس کے دل پر ایک وحشت ناک خوف چھاگیا۔اس کی آنکھوں میں خلش ہونے لگی۔

اس دن اس نے نہ چولہا جلایا،نہ کھانا کھایا اور نہ چائے پی۔ کہیں شام کو جاکر اس نے روٹی کا ٹکڑا کھایا۔ جب اس رات وہ سو نے کے لئے لیٹی تو اسے محسوس ہوا کہ زندگی اس سے پہلے کبھی اتنی خالی اور سنسان نہ تھی۔ گذشتہ چند برس سے وہ کسی اچھی اور اہم چیز کی مستقل امید میں زندگی گزارنے کی عادی ہو گئی تھی۔ اس کے چاروں طرف نوجوان لوگوں کی مسرت آگیں، پر شور سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔ وہ اپنے بیٹے کا سنجیدہ اور آرزو مند چہرہ دیکھنے کی عادی ہو گئی تھی جو اس اچھی لیکن خطرناک زندگی کا محرک تھا۔ اور اب وہ جاچکا تھا اور۔ ہر چیز چلی گئی تھی۔

وہ دن اور وہ بے خوف رات کاٹے نہ کٹی لیکن اس کے بعد کا دوسرا دن تو اور بھی لمباہو گیا۔ اسے امید تھی کہ کوئی آئے گا لیکن کوئی بھی نہ آیا۔ شام ہو گئی اور۔ پھر رات۔ سرد بارش نے آہ بھری اور دیوار سے ٹکراکر سرسرائی، ہوا چمنی سے چیختی ہوئی نکلی اور فرش کے نیچے کوئی چیز دوڑ گئی۔ چھت سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور ان کی آواز گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ عجیب طرح سے ہم آہنگ ہو رہی تھی۔ معلوم ہورہاتھا جیسے سارا گھر آہستہ آہستہ پینگ لے رہا ہو۔ غم نے جانے پہچانے سے ماحول کو غیر مانوس اور بے جان سا بنا دیا تھا۔ کھڑکی پر دستک ہوئی۔ ایک، دو۔۔۔وہ ایسی دستک کی عادی ہو گئی تھی اور اسے ڈر بالکل لگتا تھی۔ لیکن اس وقت وہ خوشی سے ذرا چونک سی پڑی۔ مبہم امیدوں نے اسے فوراً پیروں پر کھڑا کر دیا۔ اپنے کاندھوں پر شال ڈالتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا۔

سمو ئلوف اندر آیا۔ اس کے پیچھے ایک دوسرا شخص تھاجس کا چہرہ کوٹ کے الٹے ہوئے کالر اور بھوئوں تک کھنچی ہوئی ٹو پی کی وجہ سے ڈھکا ہوا تھا۔

’’کیا ہم نے تمہیں جگا دیا ؟‘‘ سموئلوف نے سلام کئے بغیر پوچھا۔ اس کے خاص انداز کے بر خلاف اس وقت اس کی آواز میں پریشانی اور افسردگی تھی۔

’’میں سوئی نہیں تھی‘‘ اس نے جواب دیا اور انہیں پر امید نگاہوں سے کھڑی تاکتی رہی۔

سموئلوف کے ساتھی نے ٹوپی اتارتے ہوئے زور کا سانس لیا اور اپنا چھوٹا لیکن بھرابھرا سا ہاتھ آگے کی طرف بڑھا دیا۔

’’ارے ماں! مجھے نہیں پہچانا؟‘‘اس نے پرانے دوست کی طرح پوچھا۔

ماں گورکی قسط 12 ماں گورکی قسط 12 ماں گورکی قسط 12

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...