najmudin 140

نجم الدین کے ناول کھوج اور سہیم کا تجزیہ

Spread the love

(1) ناول: کھوج

مصنف: نجم الدین احمد

پبلیشر: القا   (Readings) ، لاہور

(2) ناول: سَہیم

مصنف : نجم الدین احمد

پبلیشر: عکس ، لاہور

تبصرہ نگار: ثمینہ جاوید ملک

نجم الدین احمد کا تعلق بہاول نگر سے ہے۔انھوں نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ نگاری

میں نام کمایا۔اس کے علاوہ ان کے دو افسانوی مجموعے “آؤ بھائی کھلیں” (2013ء) اور

“فرار اور دوسرے افسانے” (2017ء)  بھی زیور طبع سے آراستہ ہو کر ادب کےقارئین  

سے داد پا چکے۔

میں اس  مضمون میں ان کی ناول نگاری  کا ان کے دو ناول کے ذریعے مختصراً  جائزہ پیش کروں گی۔

نجم الدین احمد  کےاب تک تین ناول شائع ہو چکے ہیں۔”مدفن“ (2007ء)  ،“کھوج“ (2016ء)

 اور ”سہیم“  (2019ء)۔   ان تینوں میں کھوج اور سہیم کا مختصر تعارف پیش کررہی ہوں۔

نجم الدین احمد کا ”کھوج“محبت کی لا زوال داستان ”سسی پنوں“پہ مشتمل ہے مگر انہوں

نے اس قصے کو اتنے منفرد اور اچھوتے انداز میں بیان کیا کہ پڑھنے والے پہ یہ قصہ

پرت در پرت کھلتا ہے۔

فرار اور دوسرے افسانے

اس ناول میں تارخ،تحقیق اور تخیل پہلو پہ پہلوچلتے ہیں۔جہاں انہوں نے ”سسی“کے

مدفن کے حوالے سے تحقیقی انداز بخوبی اپنایا ۔وہیں انہوں نے مرکزی کردار

”شہزاد“کےتخیل کو بھی عمدہ انداز میں بیان کیا ہے۔

قیام پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے سے شروع ہوتی یہ کہانی” بھنبھور “کی دریافت کے

کچھ عرصہ بعد تک کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔شہزاد سسی کے تخیل کو اس شدت سے

محسوس کرتا ہے کہ وہ مجسم ہو کے اس سے مخاطب ہوتی ہے۔شہزاد اس کی محبت میں ا

س طرح گرفتار ہوتا ہے کہ اس کی قبر کی تلاش کے لیے اپنی منگیتر اور ماں کو چھوڑ

کر سسی کی ساتوں قبروں کو تلاشتا ہے بلکہ اس کھوج میں وہ” تلہ گنگ“ کے قریب

ایک آٹھویں روایت کو بھی کھوج لیتا ہے۔

اس ناول کا تاریخی پہلو تو اہم ہے ہی۔مگر اس میں تخیل بھی بہت خوبصورت ہوتا ہے۔

جب جب سسی شہزاد سے ملنے آتی ہے مصنف اس قدر خوبصورتی سے اسے بیان کرتے

ہیں کہ خودقاری سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کہیں یہ حقیقت تو نہیں۔اور پورے ناول میں اس

وقت تخیل عروج پہ ہوتا ہے جب ”چانددیوتا“کے مندر کے اندر شہزاد سسی سے ملتا ہے۔

اس قدر دلکش منظر نگاری کہ قاری مبہوت رہ جاتا ہے۔سسی کےحسن کا بیان ،کنیزوں

کی حلیہ نگاری، محل کے اندرونی مناظر اور پوجا کا بیان۔بہت عمدہ۔

منظر نگاری کے ساتھ ساتھ اس ناول میں جزئیات نگاری بھی بہت جاندار ہے۔ناول کے

آغاز میں ہی اس قدر عمدہ جزئیات نگاری ہے کہ ہر منظر مجسم محسوس ہوتا ہے۔صرف

بیرونی مناظر کی ہی جزئیات نہیں بلکہ نجم الدین احمد نے اندرونی کیفیات،روحانی

معاملات اور جسمانی تکالیف ان سب کو بہت عمدہ انداز میں قلم بند کیا۔

ناول کے اختتام پہ بھی یہ جزئیات نگاری عروج پہ ہے موت سے پہلے کی کیفیات کا بیان

موت کی سختی۔سب کچھ مکمل ہے۔

شہزاد کی موت اگرچہ غیر متوقع نہ تھی مگر دل میں اک موہوم امید تھی کہ شاید

وہ بچ جاۓ ۔مصنف اسے زندگی بخش دے مگر ایسا نہ ہوا ۔اور صحرا شہزاد کا مدفن بنا۔

سہیم کی کہانی اس سے بالکل الگ ہے۔اس میں بھی مرکزی کردار کو کھوج ایک عجیب

جنون میں مبتلا کرتا ہے۔مگر اس بار شہزاد کی سی پر خلوں جان لیوا دیوانگی نہیں۔بلکہ ایک

بگڑے نکے جاگیردار کی وحشت اور انتقام ہے۔جو بالآ خر اس کے لیے تمام عمر کا

روگ بن جاتی ہے۔

ارسلان ماروی کا جنسی استحصال کرتا ہے۔کیونکہ ماروی کمہارن ہوتے ہوٸے بھی اپنی

عزت اور وقار کی بھینٹ چڑھانے سے انکار کر دیتی ہے۔جو کہ ایک جاگیردار کی صریحاً

ہتک سمجھی جاتی ہے جاگیردارانہ نظام میں۔اس ہتک کا بدلا ارسلان تین گرگوں کی مدد سے

لیتا ہے۔بعد ازاں حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اس ”کمہارن“ کو شریک حیات بناتا ہے۔

اور جب اس پر منکشف ہوتا ہے کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کے لمس اس کی زندگی میں

عورت کا پہلا مبہم تعارف تھا۔ تو وہ اسے دل و جان سے اپنا لیا ہے۔مگر سترہ سال کی

رفاقت کے بعد جب ماروی سرطان کے ہاتھوں قریب المرگ ہوتی ہے تو

وہ اس پہ انکشافکرتی ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی میں چار مرد شامل ہیں۔

اس کی کہیں بھی وضاحت کیے بنا ماروی مر جاتی ہے۔یہیں سے ارسلان

شدید روحانی اور نفسیاتی مساٸل کا شکار ہوتا ہے۔

ہیم کی کہانی حال سے ماضی کی طرف سفر کرتی ہے۔اس ناول کا ماحول ”موریشس “

کی تہذیب و تاریخ پر مبنی ہے۔نجم الدین احمد نے جہاں ٹھیٹھ اردو زبان کا استعمال

خوبصورتی سے کیا ہے۔وہیں جا بجا پنجابی الفاظ بھی فی البدیہہ استعمال ہوتے ہیں۔ہمارے

پنجابی ماحول میں گالی کا جس قدر دخل ہے۔اس کے برتاؤ میں بھی نجم نے بخل سے کام

نہیں لیا۔اور جیسے اس قبیل کے مرد عورت کو گالی دینا کوٸی عیب نہیں سمجھتے ویسے

ہی ناول کا مرکزی کردار گالیاں دے کر اپنی نفسیاتی تسکین کرتا ہے۔چند کرداروں کے گرد

گھومتی یہ کہانی دلچسپ ہے۔

ہمیں فالو کریں

نجم الدین ناول کھوج سہیم نجم الدین ناول کھوج سہیم نجم الدین ناول کھوج سہیم

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...