137

خواتینکرکٹرز کا وسیم اکرم اوربابراعظم کے لیکچرز سے حاصل تجربےپر خوشی کا اظہار

Spread the love

لاہور( صرف اردو آن لائن سپورٹس نیوز) قومی خواتین کرکٹ ٹیم

قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے رواں ہفتے کے آغازمیں ماضی او ر دور حاضر کے اعلی کرکٹرز کے آن لائن سیشنز کا سلسلہ ترتیب دینے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

میچ فکسنگ پر وسیم اکرم کو سزا ہونی چاہئے تھی: سرفراز نواز

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی موجودہ کھلاڑیوں اور ایمرجنگ کرکٹرز کے لیے وسیم اکرم اور بابراعظم کے علیحدہ علیحدہ آن لائن سیشنز کا اہتمام کیا جہاں مجموعی طور پر 35 خواتین کرکٹرز کو مختلف حالات میں جامع حکمت عملی اپنانے سے متعلق مشورے دئیے گئے۔

آئی سی سی ہال آف فیم کے رکن اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے فاسٹ باولر وسیم اکرم اور قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم، دونوں نے خواتین کھلاڑیوں کے لیے منعقدہ سیشنز میں محنت اور فٹنس کی اہمیت پر زوردیا۔

انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی کے لیے خواتین کرکٹرز کو برداشت اور مثبت سوچ پیدا کرنے کی ہدایت کی۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ان سیشنز سے خواتین کھلاڑیوں کے کھیل میں نکھار آئے گا۔

بسمہ معروف نے کہا کہ دنیائے کرکٹ کی تاریخ کے چند عظیم کرکٹرز میں شامل وسیم اکرم کے سیشنز سے کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔کپتان نے کہا کہ یہ سیشنزتمام کھلاڑیوں کیلیے بہت متاثرکن رہے۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی فاسٹ باولر ایمن انور نے وسیم اکرم کا آن لائن سیشن منعقد کروانے پر پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ لیجنڈری کرکٹر کے مفید مشوروں پر عمل کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ سیشن کے دوران وسیم اکرم نے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں نپی تلی باولنگ کرنے اور حریف بیٹر کا ذہن پڑھنے سے متعلق بھی مفید مشورے دئیے۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی فاسٹ باولر ڈیانا بیگ کاکہنا ہے کہ وہ وسیم اکرم کے آن لائن سیشن سے بہت متاثر ہوئی ہیں،عظیم فاسٹ باولر نے انہیں باولنگ میں مختلف ویری ایشنز اپنانے کے بارے میں بتایا۔

ڈیانا بیگ نے کہا کہ وسیم اکرم نے ایک باولر کی حیثیت سے دباو برداشت کرنے اور اپنی فٹنس کے معیار کو برقرار رکھنے سے متعلق مفید مشورے دئیے۔قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی بیٹر منیبہ علی کا کہنا ہے کہ بابراعظم ایک اعلی بلے باز ہیں جن کی آن لائن ٹپس سے انہیں اپنی بیٹنگ کی صلاحیتوں میں نکھار لانے کا موقع ملے گا۔۔

قومی خواتین کرکٹ ٹیم

اپنا تبصرہ بھیجیں