130

وسیم اکرم نے یقینی بنایا پاکستان 1992 کے بعد مزید کوئی ورلڈکپ نہ جیت سکے،عامر سہیل

Spread the love

لاہور( سپورٹس رپورٹر) پاکستان 1992

پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل نے لیجنڈری فاسٹ بالر وسیم اکرم کو پرنسپل فورس قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ لیجنڈری فاسٹ بالر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ قومی ٹیم 1992 کی فاتحانہ مہم کے بعد کوئی ورلڈ کپ نہ جیت پائے۔

میچ فکسنگ پر وسیم اکرم کو سزا ہونی چاہئے تھی: سرفراز نواز

اوپننگ بیٹسمین عامر سہیل کی جانب سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ 2003 تک ہر ورلڈ کپ سے قبل وسیم اکرم کو کپتان کی حیثیت سے فروغ دینے کے لئے ایک سوچی سمجھی مہم چلائی جاتی تھی جب کہ اس کپتان کو اس وقت ٹیم سے نکالا گیا جب وہ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت آسان ہے کہ 1992 کے ورلڈ کپ کو ایک طرف رکھیں اور 1996 ورلڈ کپ کے بارے میں بات کریں۔ 1995 میں رمیز راجہ کپتان تھے۔ اس سے پہلے سلیم ملک کپتان تھے ،

وہ بہت کامیاب تھے اور اگر وہ کپتان کی حیثیت سے ایک سال مزید گزار لیتے تو وسیم اکرم 2003 میں ورلڈکپ کی قیادت نہ کر رہے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ دیکھیں کہ 2003 تک کیا ہوا ، کپتان کو ہٹانے اور وسیم اکرم کو کپتان لگانے کے لئے ہر ورلڈ کپ سے پہلے ایک حکمت عملی تیار کی جاتی تھی کہ دوسرے کپتان کو کیسے ہٹا کر خود اس کی جگہ لی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو وسیم اکرم کی پاکستان کرکٹ بورڈ میں سب بڑی شراکت 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ بننا ہے۔اپنے دعوی میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لئے وسیم اکرم کی سب سے بڑی شراکت یہ یقینی بنا رہی تھی کہ 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کوئی ورلڈ کپ نہ جیت پائے۔

تاہم انہیں وزیراعظم عمران خان کا بے حد مشکور ہونا چاہئیے جنہوں نے اسے صدارتی ایواڑد سے نوازا،وہ احتساب کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے وسیم اکرم کو پی سی بی سے علیحدہ کریں

پاکستان 1992

اپنا تبصرہ بھیجیں