ماں قسط نمبر10 Mother novel 201

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 11

Spread the love

پاویل اس کے نزدیک آیا اور اونچی آواز سے سیزوف اور ریبن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا:

’’ہمارے ساتھیوں نے ہم تینوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ آپ سے مطالبہ کریں کہ کوپک کی کٹوتی کا فیصلہ تبدیل کر دیا جائے۔‘‘

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 10

’’کیوں؟‘‘ ڈائریکٹر نے پاویل کی طرف دیکھے بغیر پوچھا۔

’’کیونکہ ہم ایسے ٹیکس کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں!‘‘ پاویل نے اونچی آواز میں کہا۔

’’کیا تم سمجھتے ہوکہ دلدل کو خشک کرنے میں مزدوروں کی زندگی کی حالت سدھارنے کے بجائے انہیںلوٹنے کا جذبہ کار فرما ہے؟ یہی بات ہے؟‘‘

’’ہاں‘‘ پاویل نے جواب دیا۔

’’اور تم بھی یہی سمجھتے ہو؟‘‘ ڈائریکٹر نے ریبن کی طرف مڑتے ہوئے دریافت کیا۔

’’ہم سب کا یہی خیال ہے!‘‘

’’اور تمہارا کیا خیال ہے، بھلے مانس؟‘‘ سیزوف کی طرف مڑ کر دیکھتے جاتے۔‘‘

سیزوف نے ایک بار پھر اپنا سرجھکا لیا اور خطا وار انہ انداز میں مسکرایا۔

ڈائریکٹر نے آہستہ آہستہ تمام مجمع پر نگاہ دوڑائی اور اپنے کاندھے جھٹکے۔ اس کے بعد وہ پاویل کی طرف مڑا اور غور سے اس کی طرف دیکھا۔

’’تم کچھ تعلیم یافتہ آدمی معلوم ہوتے ہو۔ کیا واقعی تمہیں اس کے فوائد کا احساس نہیں ہے؟‘‘

’’اگر کارخانہ اپنے خرچ سے دلدل کو خشک کر ا دے تو ہر شخص فایدہو گا‘‘ پاویل نے اپنی اونچی آواز میں جواب دیاکہ سب لوگ سن سکیں۔

’’کارخانہ کوئی خیراتی انجمن نہیںہے‘‘ ڈائر کٹر نے خشک لہجے میںکہا۔’’ میں حکم دیتا ہوں کہ تم لوگ سب اپنے کام پر واپس جائو!‘‘

اس نے نیچے اترنا شروع کیا۔ وہ لوہے کے ڈھیر پر بہت پھونک پھونک کے قدم رکھتا ہوا کسی کی طرف بھی دیکھے بغیر جا رہا تھا۔

مجمع سے بے اطمینانی کی آوازیں آنے لگیں۔

’’کیا بات ہے؟‘‘ ڈائرکٹر نے اپنی جگہ پر رکتے ہوئے پوچھا۔

سب لوگ خاموش ہو گئے، صرف ایک آوازنے خاموشی توڑی:

’’تم خود ہی جا کر کام کرو!‘‘

’’اگر تم لوگ پندرہ منٹ کے اندر کام پر واپس نہیں آتے تو میں سب پر جرمانہ کا حکم دے دوں گا!‘‘ ڈائر کٹر نے روکھے لہجے میں اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔

ایک بار پھر وہ مجمع میں راستہ بنانے لگا۔ اس کے پیچھے بھنبھناتا ہوا شور اٹھ رہا تھا اور جیسے جیسے وہ آگے بڑھا شور میں اضافہ ہوتا گیا۔

’’بھلا اس سے بات کرنا کوئی آسان کام ہے!‘‘

’’یہ ہے انصاف! کیا زندگی ہے!‘‘

وہ لوگ پاویل کی طرف مڑے اور چیخ کر بولے:

’’اب ہم لوگ کیا کریں، پروفیسر؟‘‘

’’بڑی اچھی تقریر کی لیکن جب مالک آیا تو اس سے فائدہ کیا ہوا؟‘‘

’’ولا سوف بتائو ہم کیا کریں؟‘‘

جب شور بہت زیادہ بڑھ گیا تو پاویل نے کہا:

’’ساتھیو، میری تجویز ہے کہ جب تک وہ کوپک کی کٹوتی روکنے کا وعدہ نہ کرے اور اس وقت تک کام پر نہ جایا جائے۔‘‘

فوراً پرجوش رائے زنی شروع ہو گئی۔

’’ہمیں بیوقوف سمجھا ہے کیا؟‘‘

’’اس کے معنی ہیں ہڑتال!‘‘

’’صرف چند کوپک کے لئے؟‘‘

’’ہڑتال کیوں نہیں؟‘‘

’’سب نکال دیئے جائیں گے!‘‘

’’پھر کام کون کرے گا؟‘‘

’’کام کرنے والوں کے لیے روزگار کی کمی نہیں ہوگی۔‘‘

’’کونسے؟ ہڑتال توڑنے والے؟‘‘

پاویل نیچے اتر آیا اور اپنی ماں کے پاس کھڑا ہو گیا۔

مجمع میں اشتعال تھا۔ہر شخص بحث کر رہا تھا اور غصے سے چیخ رہا تھا۔

’’انہیں ہڑتال کے لئے کبھی تیار نہ کر سکو گے‘‘ ریبن نے پاویل کے قریب آتے ہوئے کہا۔’’ یہ لوگ ہیں لالچی

لیکن کم ہمت۔ کیا سمجھے! تمہارے ساتھ تین سو سے زیادہ نہیں آئیں گے۔ اتنا بڑا گوبر کا ڈھیر ہے کہ ایک ہی

بار میں اسے اٹھانا مشکل ہے۔۔۔‘‘

پاویل خاموش رہا۔ مجمع کا بہت بڑا برہم چہرہ اس کے سامنے جھول رہا تھا اور اس سے ایک بے آواز،

پراصرار مطالبہ کر رہا تھا۔ اس کا دل خوف سے دھڑ کنے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے الفاظ پیاس دھرتی

کے سینے پر بارش کے چند قطروں کی طرح کوئی نشان چھوڑے بغیر گم ہو گئے تھے۔

وہ تھکا ہوا اور دل شکستہ گھر واپس ہوا۔ ماں اور سیزوف پیچھے آرہے تھے اورریبن اس کے ساتھ چل رہا تھا

اور اس کے کان میں اس کی آواز گونج رہی تھی:

’’تم تقریر اچھی کرتے ہو لیکن دلپذیر نہیں بات دراصل یہی ہے! تم کو ان کے دلوں سے خطاب کرنا چاہئے۔

چنگاری کو عین مرکز میں پھینکنا چاہئے۔ تم لوگوں کو دلیلوں سے قائل نہیں کر سکتے۔ !‘‘

’’ہم بوڑھوں کے لئے توا پنی قبر تلاش کرنے کا وقت آگیا ہے پلاگیا!‘‘ سیزوف کہہ رہا تھا۔ ’’اب نئے قسم لوگ

پیدا ہو رہے ہیں۔ ہم لوگ کس طرح رہتے تھے۔ ہم اور تم ہمیشہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے رہے، سر زمین سے

ٹکراتے رہے اور اپنے سے بہتر لوگوں کے سامنے جھکتے رہے۔ لیکن آج کل؟ معلوم نہیں، ممکن ہے لوگوں

کو عقل آگئی ہو، یا ممکن ہے وہ اور بھی شدید غلطیاں کر رہے ہوں۔ لیکن جو بھی ہو یہ لوگ ہماری طرح نہیں

ہیں۔ نوجوانوں کو ہی لو۔ ڈائرکٹر سے ایسے باتیں کر رہے تھے جیسے وہ ان کے برابر کا ہ۔ اچھا پھر ملیں گے

پاویل میخائلووچ۔ بڑا اچھا ہے بھائی کہ تم لوگوں کی طرفداری میں کھڑے ہو جاتے ہو۔ خدا تمہاری مدد کرے۔

ممکن ہے تم کوئی راستہ نکال سکو۔ خدا تم پر اپنی رحمت کرے!‘‘

’’جائو اور جاکر مر جائو‘‘ ریبن بڑبڑایا۔ ’’ایسے لوگ تو انسان بھی نہیں ہیں، صرف گار ا ہیں، جن سے درزیں

بند کر دی جائیں۔ تم نے دیکھا تھا پاویل کہ تمہیں نمائندہ بنانے کے لئے کون چیخا تھا؟ وہی لوگ جو یہ افواہ

پھیلاتے ہیںکہ تم سوشلسٹ اور شر پسند ہو۔ وہی لوگ ہیں! دل میں سوچتے ہیں: ’نوکری سے نکال دیا جائے گا۔

اس کے لئے یہی ٹھیک ہے،۔‘‘

’’اپنے نکتۂ نظر سے انہوں نے ٹھیک ہی کیا!‘‘ پاویل نے کہا۔

’’اور بھیڑئے جب اپنے ہی بھائی بندوں کو چیر ڈالتے ہیں تو وہ بھی ٹھیک ہی کر تے ہیں۔‘‘

فیس بک پر ہمیں فالو اور لائیک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ریبن کے چہرے پر فکر کے بادل چھائے ہوئے تھے اور اس کی آواز میں خلاف معمول تنائو سا تھا۔

’’لوگ خالی خولی الفاظ کو نہیں سنتے۔ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اپنے الفاط کو خون میں نہلانا پڑتا ہے۔۔۔‘‘

دن بھر پاویل تھکا تھکا سا افسردہ گھومتا رہا۔ اس پر کچھ عجیب اضطرابی کیفیت طاری تھی اور اس کی جل

رہی تھیں اور معلوم ہوتا تھاجیسے وہ کسی چیز کی متلاشی ہوں۔ ماں نے اسے محسوس کر لیا۔

’’کیا بات کیا ہے پاشا؟‘‘ اس نے ذرا محتاط طریقے سے دریافت کیا۔

’’سر میں درد ہے‘‘ اس نے جواب دیا۔

’’تم لیٹ جائو میں ڈاکٹر کو بلاتی ہوں۔‘‘

’’نہیں پریشان مت ہو!‘‘ اس نے جلدی سے جواب دیا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا ’’میں بہت کم عمر اور کمزور

ہوں۔ مشکل یہی ہے! انہیں مجھ پر یقین نہیں آیا۔انہوں نے نے میرے مقصد کو نہیں اپنایا جس کے معنی یہ ہیں

کہ مجھے معلوم نہیں کہ بات کس طرح کی جائے۔ مجھے بڑا برا سا معلوم ہو رہا ہے۔ اپنے آپ سے نفرت ہو

رہی ہے۔‘‘

ماں نے اس کے فکر مند چہرے کی طرف دیکھا اور اسے تسکین دینے کی کوشش کی۔

’’تھوڑا انتظار کرو!‘‘ اس نے نرمی سے کہا۔ ’’جو بات آج نہیں سمجھے وہ کل سمجھ جائیں گے۔‘‘

’’میں محسوس کر رہی ہوں کہ تم صحیح کہتے ہو۔‘‘

پاویل اس کے پاس گیا۔

’’تم بڑی اچھی ہو ماں‘‘ اس نے کہا اور پھر مڑ گیا۔ ماں چونک سی گئی جیسے اس کے نرم الفاظ سے مرجھا

سی گئی ہو۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ سے دل کو دبایا اور اس کی محبت کے مزے لینے لگی۔ پھر وہ اس کے پاس

سے چلی گئی۔

اس رات جب وہ سو گئی تھی اور پاویل بستر پر لیٹا پڑھ رہا تھا تو خفیہ پولیس والے آئے

اور کمرے میں گھس کر ہنگامہ مچانا شروع کیا۔ وہ اوپر کے کمرے میں بھی پہنچ گئے

اور باہر احاطے میں بھی۔ زرد چہرے والے افسر کا رویہ اب بھی بالکل ویسا ہی تھا

جیسا پہلے تھا۔ اس کا ناگوار حد تک طنزیہ انداز تھا اور وہ مذاق میں ایسے جملے بول رہا تھا

جس سے پاشا کی دل آزاری ہو رہی تھی۔ ماں ایک کونے میں بیٹھی مستقل اپنے بیٹے

کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ کوشش کر رہا تھا کہ اس کے جذبات کی غمازی نہ ہونے پائے۔

لیکن جب افسر ہنسا تو اس کی انگلیوں میں تشنج سا پیدا ہوا۔

ماں نے محسوس کر لیا کہ پاشا بڑی مشکل سے ضبط کر رہا ہے ورنہ وہ منہ توڑ جواب دیتا اور پولیس والوں

کی پھبتیوں کو برداشت کرنا اور اس کے لئے بے حد تکلیف دہ ثابت ہو رہا تھا۔ پہلی بار ماں جس قدر خوفزدہ

ہوئی تھی اس بار وہ اتنا نہیں ڈری۔ ان خاکی وردی والے رات کے مہمانوں کے خلاف اس کی نفرت میں اضافہ

ہو گیا تھا اور اس نفرت نے اس کے خوف کو جلا کر بھسم کر دیا تھا۔

’’یہ لوگ مجھے گرفتار کر کے لے جا ئیںگے‘‘ پاویل اس سے آہستہ سے کہنے میں کامیاب ہو گیا۔

’’میں جانتی ہوں‘‘ اس نے اپنا سر جھکا کرآہستہ سے جواب دیا۔

ماں: گورکی قسط 11 ماں: گورکی قسط 11 ماں: گورکی قسط 11 ماں: گورکی قسط 11

اپنا تبصرہ بھیجیں