316

فرار اور دوسرے افسانے

Spread the love

مصنف : نجم الدین احمد (بہاولنگر)

تبصرہ نگار: ثمینہ جاوید ملک (لیکچرر گورنمنٹ کالج راولپنڈی)

پبلیشر: الحمد پبلی کیشنز لا ہور

”فرار اور دوسرے افسانے“ 2017 میں شائع ہوا. یہ نجم الدین احمد کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔جس میں

کل سترہ افسانے شامل ہیں ۔اور اس کےصفحات کی تعداد ١٩٢ ہے۔اب ایک نظر ڈالتے ہیں ان سترہ افسانوں پر۔

١: پہلا افسانہ ”چھنٹیں“ ہے۔جس میں نجم صاحب نے سیلاب زدگان کی امیدوں پہ پھرتے پانی اور ارباب اختیار

کی دوغلی پالیسی کا ذکر کیاہے۔افسانے کے مرکزی کردار کو کوٸی نام نہیں دیاگیا۔اسم ضمیر ہی رہا وہ آخر

تک۔یہ افسانے کی خوبی ہے کیوں کہ ہمارے ہاں ہر روز ایسے المیہ کردار آس و امید کے درمیان جھولتے

وقت کے سیلابی ریلے میں بہہ جاتے ہیں۔بس ان پہ کف افسوس ملی جاتی ہے۔صاحبان اختیار اظہار افسوس

کرتے ہیں۔میڈیا کوریج ملتی ہے۔اور خس کم جہاں پاک۔

’’انور آفاقی‘‘کی لمسوں کی خوشبو پر ایک نظر

٢: ”آہٹ“ اس مجموعے میں شامل دوسرا مختصر افسانہ ہے۔مرکزی کردار ایک معروف ادیب ہے۔جس کی

ساری زندگی کہانیاں بنتے گزرتی ہے ۔جس کے نتیجے میں اس کا گھر اور گھر والی نظر اندازہو جاتے ہیں۔اس

کا سوشل سرکل محدود ہو جاتاہے۔اور اس کے نتیجے میں ایک آہٹ جنم لیتی ہے۔جو اس کے نزدیک ایک واہمہ

ہے۔مگر درحقیقت یہ اس کی غفلت کا خمیازہ ہے کیوں کہ آہٹ کی منزل اس کی خواب گاہ ہے جہاں اس کی

بیوی اس کی ازحد مصروفیت اور عدم توجہی کی بیگار کاٹ رہی ہے۔یہ افسانہ ایک المیہ ہے۔

٣:”ڈگر“ایک ایسے بڑے زمین دار کی کہانی جو مکافات عمل کا شکار ہوتا ہے۔اور اک بچے کو قتل کرنے

کے بعد اضطرابی کیفیت کا شکار ہوتاہے اور بالآخر پاگل پن میں مبتلا ہوتا ہے۔لیکن اس کی اس حالت سے

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مقتول بچے کی روح نے یہ سب کیا ہے۔چناں چہ دور نزدیک کے گاٶں والے اور

اجنبی اس کہانی سے ہیپناٹاٸز ہوتے ہیں یہاں تک کہ بظاہر جیت جانے والا مرکزی کردار بھی خواب میں اس

ساری کہانی کا حصہ بنتا ہے۔

نجم الدین احمد، شاعر، افسانہ، ناول و ترجمہ نگار

٤:”منجدھا“اس مجموعے کا سب سے دلچسپ افسانہ لگا مجھے۔اس میں مرد کی بے وفاٸی کا بدلہ عورت اس

صورت لیتی ہے کہ ہونے والے بچے کو کسی دوسرے کابچہ کہتی ہے۔مرد سے یہ سہا نہیں جاتا اور بچے

کےپیدا ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو جاتا ہے۔لیکن پیدا ہونے والا بچہ اس مرد کی ہو بہو شبیہ ہوتا ہے۔اور

عورت اپنے غلط بیان کی وجہ مرد کی اولاد کا نوکرانی کے گھر جنم لینے کا نتیجہ کہتی ہے۔

٥:”ناسور“ درجہ غربت سےنیچے زندگی گزارنے والوں کی کہانی ہے۔جو ہر طرف سے مایوس ہو کر آخر

جسم کی کماٸی کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

٦:”چھٹکارا“اس مجموعے کا چھٹا افسانہ ہے۔اس میں بھی مرکزی کردار ایک کاہل مرد ہے۔جس کی بیوی اس

کو کام پہ لگانے کی کٸ بار ناکام کوشش کے بعد اس سے اس طرح سے چھٹکارا پاتی ہے کہ سانپ بھی مر گیا

اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی۔البتہ وہ عورت خودٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔اور قاری کے اردگرد اس کے نوحے بکھر

جاتے ہیں۔

پرانا لاہور: ترجمہ: پروفیسر شعیب رضا

٧:”فرار“ایک الجھا ہوا نفسیاتی افسانہ ہے جس کا مرکزی کردارایک حادثے میں اپنے بیٹوں کو گنوانے کے

بعد کچھ عجیب دماغی دوروں کا شکار ہو جاتا ہے۔اس افسانے کا بیان الجھاٶ پیدا کرتا ہے اور قاری بہت دیر

بعد معاملے کی تہہ تک پہنچتا ہے۔

٨:”دام“ مرد و زن کے کاروباری رویوں کے کچھ پہلوٶں کی عکاس ایک سادہ کہانی۔جس میں ایک بڑے

کاروبار کا مالک ایک نکٹاٸی کے عوض عورت تک رساٸی کی آس لگاتا ہے۔اورعورت ایک مہنگی نکٹاٸی بنا

پرس کا منہ کھلے ایک جلوے اور غلط نام اور فون نمبر کے عوض حاصل کر لیتی ہے۔

٩:”گرداب“ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو ایک نرس کی غفلت کی وجہ سےایک عجیب عارضے میں

مبتلا ہو جاتا ہے اور بدہیت ہو جاتا ہے۔لوگ اس سے گریز کرتے ہیں۔لیکن اس کے اندر عام انسان کی طرح

جینے کی تمنا متعدد بار خودکشی کے بارے میں سوچنے کے باوجود زندہ رہتی ہے۔اس کی نفسیاتی و نفسانی

ضرورتیں بھی عام لوگوں کی طرح ہوتی ہیں۔جو مومی گڑیاٶں کو زندگی میں شامل ہونے پر اور بڑھ جاتی ہیں۔

یہ ایک دلچسپ افسانہ ہے مختلف زاویوں سے۔

کیب، این سی آر اور این پی آر جیسے انسانیت اور خاص طور پر مسلم دشمن قوانین کے خلاف لکھے جانے والے ناول ’’مرگ انبوہ‘‘ کے بارے میں مشرف عالم ذوقی کے ساتھ ایک خصوصی نشست

١٠:”سبب“ ایک بظاہر عام سی کہانی سیدھی سادی۔مگر ممتا کی بہت سی گرہیں کھولتی ہے۔مختصر مگر

بےحد پر اثر۔جس میں ماں کے کوسنوں اور بدعاٶں کے اندر چھپے دعاٶں کے خزانے قاری کو آبدیدہ کر دیتے

ہیں۔

١١:”تعبیر“اجالا کی کہانی جو شمیم سے اجالا بنتی ہے تاکہ فلمی ہیروٸین بن سکے۔مگر جسمانی استحصال

کے بعدعوضانےمیں ایک معمولی کردار ملتا ہے۔وہ عزت کی زندگی گزارنے کے لیےایک کمپنی میں ملازمت

کرتی ہے۔اور دوبارہ ایک بڑی آفر کے بدلے اپنا سودا کرتی ہے۔

سیر لاہور: سردار منشی گلاب سنگھ

١٢:”مات“دودوستوں کی کہانی جس میں ایک کی عیاری و مکاری سے دوسرا دوست سلاخوں کے پیچھے جاتا

ہے۔اور اپنی دوستی کے نام پر گھر بار اور بیوی کھو دیتا ہے۔مگر یہ کہانی اتنی سپاٹ اور سادہ نہیں جیسی میں

نے بیان کی۔اس میں بہت سے ڈراماٸی موڑ ہیں۔جو پڑھنے والے کو ہی معلوم ہوتے ہیں۔سو پرتجسس قارٸین

خود پڑھ کر فیصلہ کریں۔

١٣:”حادثےسے سانحے تک“ایک عام سے حادثے کے نتیجے میں جنم لینے والے سانحے کا بیان ہے۔ایک

بچے کو سکول جاتے ہوٸے کتا کاٹ لیتا ہے۔جس کے نتیجے میں وہ بہت زخمی ہوتا ہے۔مگر اصل المیہ اپنی

مردانگی سے محرومی ہے۔بظاہر وہ نارمل ہوتا ہے لیکن جوں جوں وہ بڑا ہوا ہے ا س کی اصل محرومی اسے

نفسیاتی تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔اور بات سانحے میں تب بدلتی ہے جب وہ ایک لڑکی محبت میں گرفتار

ہوتا ہے۔تب وہ اس لڑکی کو بے دردی سے قتل کر کے خودکشی کرلیتاہے۔

١٤:”قفل“ دوتوام بھاٸیوں کی بچگانہ ضد میں اختیار کی گٸ خودساختہ زباں بندی کی کہانی جو چالیس سے زاٸد

سال گونگے بنے رہنے کے بعد جب بولنا چاہتے ہیں تو ان پر انکشاف ہوتا ہے کہ اب لفظ روٹھ چکے ۔

ہمیں فالو اور لائیک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

١٥:”چھل“زمین داروں کا اپنے کمی کمینوں اور مزارعوں کی بہو بیٹیوں کی عزت برباد کرنا ایک عام بات

ہے۔اس افسانے میں بھی ایک ہنستے بستے کمہار گھرانےکو زمین دار کی ہوس کھا گٸ۔اور کمہار ن کو نہ

زمیندار اپناتا ہے نہ شوہر۔طلاق دے کر جب کمہار اسے باپ کے گھر چھوڑنے جانے لگتا ہے تو وہ اسی دہلیز

پہ مر جاتی ہے۔

١٦:”اب کوئی کان نہیں دھرتا“ ایک مختصر علامتی افسانہ ہےجو ہمارے نظام عدل پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن

کر ابھرتاہے۔جہاں عدل کے نام پر بڑے بڑے مجرم پھر سے اڑ جاتے ہیں۔اور عام آدمی محض شک کی بنا پر

ہی جیلوں میں گل سڑ جاتا ہے۔افسانہ پڑھتے بہت بار خیال کی رو بھٹک کر ریمنڈ ڈیوس اور اس کے شکاروں

کی جانب جاتی ہے۔

١٧:”ضرورتوں سے بندھی محبتیں“ ایک تازہ ریٹائرڈکا”آسمان سے زمیں پر ثریا نے ہم کو دے مارا“والی

کیفیت کا بیان ہے۔مجھے لگتا ہے کہ مصنف نے بہت جلد عاصم کوآئینہ دکھایا۔محض دوسرے ہی دن کیسے

ریٹاٸرڈ آدمی یوں نظر انداز ہوتا ہے۔ایک ہفتہ تو اسے دینا چاہیے تھا۔

فرار اور دوسرے افسانے فرار اور دوسرے افسانے فرار اور دوسرے افسانے

اپنا تبصرہ بھیجیں