khaniwal 62

عالمی یوم آزادی صحافت اورصحافتی ذمہ داریاں

Spread the love

تحریر: وحید احمد، میاں چنوں
princesnowwhite@gmail.com


(عالمی یوم آزادی صحافت)صحافت کسی بھی معاملے کے بارے کوئی اہم بات، خبریا تحقیق صوتی، بصری یا تحریری شکل میں وسیع

پیمانے پرسامعین،ناظرین یا قارئین تک سچائی، ایمانداری اور اخلاص نیت کے ساتھ پہنچانے کا نام ہے،

صحافت کی ابتدا زمانہ قدیم میں اس وقت ہی ہو گئی تھی جب انسان نے ابھی لکھنا اور بولنا بھی نہیں سیکھا تھا،

انسان فطری طور پر نئی چیزیں سیکھنے کا شوقین ہے، اسی لیے وہ لوگ بھی ایک دوسرے کوخبریں اور

پیغامات مختلف ذرائع سے پہنچایا کرتے تھے، اس کے علاوہ خوف، ڈر، خوشی، غمی، جنگ وجدل میں ہار یا

جیت زمانہ قدیم میں اہم ترین خبریں ہوتی تھیںجن کے ذریعے دوسرے قبائل کو مدد کے لیے ، جشن یا سوگ

منانے کی دعوت عام دی جاتی تھی۔ قرب و جوار کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن دور رہنے والے قبائل اور

لوگوں تک خبر پہنچانا ایک اہم مسئلہ ہوتا تھا،ان لوگوں نے دور دراز رہنے والے لوگوں اور قبائل تک خبر

مدثر بھٹی کا کالم کیا پاکستان میں کوئی مسلمان ہے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پہنچانے کے مختلف طریقے ایجاد کیے، مغربی افریقہ کے قدیم قبائل ڈرم یا ڈھول کی مخصوص تان پیٹ

کرایک دوسرے کو پیغام پہنچاتے تھے، انہیں بولنے والے ڈرم کہا جاتا تھا، یہ مخصوص قسم کے ڈرم ہوتے

تھے جن کی تان کو مختلف طریقوں سے ردو وبدل کر کے انسانی تقریر کے لہجے اوردھنوں کی صورت

اشعار کی نقل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا،یہ ڈھول یا ڈرم تنے ہوئے چمڑے سے بنے ہوتے ان

ڈرموں کو ماہر فن بجاتے تھے اور مختلف اطلاعات دور دراز بسنے والے قبائل کو بہم پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے تھے،

طویل فاصلے تک پیغامات پہنچانے کے لیے دھویں کے سگنل استعمال کرنے کا طریقہ

رائج تھا،پہاڑی علاقوں میںچوٹیوںپر روشنی کے میناروں یا مشعلوں کے ذریعے بھی پیغام رسانی کی جاتی تھی،

لیکن ان طریقوں سے انتہائی محدود پیغام ہی نشر کیے جا سکتے تھے جیسا کہ خطرہ یا فتح ۔ یہاں یہ بات قابل

ذکر ہے کہ دھویں کے سگنل آج بھی خبر پہنچانے کے لیے مستعمل ہیں، روم کے کالج آف کارڈینلزرائے

شماری کے ذریعے پوپ کے انتخاب میں بطور علامت دھویں کے سگنل استعمال کرتے تھے، سیاہ دھویں کا

مطلب ہے کہ رائے شماری ناکام ہوگئی جبکہ سفید دھواں نئے پوپ کے منتخب ہونے کی نوید سناتا ہے۔جلد از

جلد پیغام پہنچانے کے لیے لوگوں کو دوڑایا جاتا تھا، قدیم یونانیوں نے

میراتھن کے میدان جنگ میں فارس کے ساتھ لڑائی کے دوران اپنی فتح کی خبر پہنچانے کے لیے ایک شخص کو دوڑایا،

اس شخص نے چالیس کلومیڑ

کا فاصلہ دوڑتے ہوئے طے کیا اورشہر میں پہنچتے ہی چلایا “فتح” اورتھکن سے نڈھال ہو کر گرا اور گرتے

ہی مر گیا، میراتھن دوڑ اسی شخص کی دوڑ کی طرز پر منعقد کی جاتی ہے ۔قدیم رومن سلطنت وسیع و

عریض علاقے پر محیط ہونے کی وجہ سے وہاں ریلے سسٹم میں پیغامات پہنچانے کے لیے “اسٹیٹ رنرز

سروس “قائم تھی جس میں ہر 12کلومیٹر کے بعد ریسٹ ہائوس ہوتے تھے جہاں قاصد پرانا گھوڑا چھوڑ دیتے

اورنئے تازہ دم گھوڑوں پر سوار ہو کر اپنی منزل مقصودکے لیے روانہ ہوتے تھے، اس کے علاوہ جزائر

کینیری میں گومیرہ کی سیٹی والی زبان وادیوں میں پیغام رسانی کے لیے استعمال کی جاتی تھی،عقابوں اور

کبوتروں کے ذریعے بھی پیغام رسانی کا کام لیا جاتا تھاـ،”چٹھی میرے ڈھول نوں پہنچاویں وے کبوترا”۔

کسی بھی جمہوری دور حکومت میں پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ، بے حد ضروری ہوتے ہیں اور ان تینوں کی

بقا اور سلامتی کے لیے صحافت کا وجود ناگزیر ہے، اسی لیے

یہ بھی پڑھیں: کرونا اور سفید پوش مزدورطبقہ

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے،

صحافت کی بے پناہ طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جارج ہشتم نے کہا تھا کہ “ٹائمز اخبار

لندن، دریائے ٹیمز سے زیادہ خطرناک ہے”، جبکہ جارج اورویل جو ایک معروف ناول نگار اور صحافی تھے

نے بے باک اور حق پر قائم صحافت کے بارے کہا تھا کہ ـ”صحافت وہی چھاپ رہی ہے جسے دوسرے چھپنے

نہیں دینا چاہتے،باقی سب پبلک ریلیشنز ہیں۔” آزادی صحافت کا مطلب ہے کہ بنا کسی قدغن کے صحافیوں کو

ان کے فرائض بلا روک و ٹوک ادا کرنے دیے جائیں،خبروں پر سنسرشپ سے اجتناب کیا جائے، اور

مخصوص خبریں حذف نہ کروائی جائیں لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میںجابر و آمر اور مخصوص نظریات

رکھنے والی حکومتیں، اہم حکومتی اور کاروباری شخصیات، ڈرگ مافیا اور دہشت گرد گروہوں کی جانب سے

نہ صرف آزادی صحافت پر قدغن لگائی جاتی ہے، خبروں کو روکاجاتا ہے بلکہ صحافیوں کو جبری اغوا،

سزائے قید یہاں تک کہ قتل تک کردیا جاتا ہے، لیکن حق بات پر ڈٹ جانے والے

صحافی ان سب حالات کے میں جان ہتھیلی پر رکھ دنیا سے خبریں دنیا کو پہنچاتے ہیں۔

صحافیوں کو تحفظ دینے والی کمیٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق جابر اور آمر حکومتیں آزاد میڈیا کو خاموش

کرنے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید ترین ڈیجیٹل سنسرشپ اور نگرانی کا استعمال کرتی ہیں، ان

حکومتوں میں بالترتیب اریٹیریا، شمالی کوریا، ترکمانستان، سعودی عرب، چین، ویتنام، ایران، استوائی گنی،

بیلاروس اور کیوبا شامل ہیں جبکہ بھارتی قابض افواج کشمیری مسلمانوں پر شدید ترین ظلم و بربریت کو دنیا

کی نظروں سے چھپانے کے لیے میڈیا پر نہ صرف سخت ترین سنسر شپ کرتی ہیں بلکہ صحافیوں کو قیدوبند

میںڈالنے کے ساتھ ساتھ انہیں قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آئوٹ

بارڈرزکی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 49 صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے گئے، 389 فی

الحال جیلوں میں ہیں اور 57 صحافیوں کو یرغمال بنایا گیا جبکہ امسال اب تک ایک میڈیا اسسٹنٹ اور10

صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کیا جا چکا ہے۔

اکیسویں صدی نے اطلاعات و نشریات اور صحافت کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا،اخبار، ڈاک،برقی

تار،فیکس، ریڈیو، ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن سے شروع ہونے والا سفریاہو، ایم ایس این ، اے او ایل، آئی سی

کیو، آئی چیٹ میسنجر، گوگل ٹاک اورسکائپ سے ہوتاہواموبائل وجدید ترین اینڈرائیڈفون اور پھر اس سے واٹس

ایپ، فیس بک میسنجر، زوم، گوگل ڈوئو اور مارکوپولو جیسی جدید ترین ویڈیو کالنگ ایپس کی سرحدیں

پھلانگتا ہوا وسعتوں کی مہیب گہرائی میں جا رہا ہے، ـ”محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی”۔ اتنی

جدید ترین اور تیز رفتار ترین سمعی، بصری اور تحریری سہولیات نے جہاں بریکنگ نیوز کو دنیا بھر کے ہر

اس شخص تک لمحوںمیں پہنچا دیا ہے جس کے پاس اینڈرائیڈ فون ہے وہیں اس کے تباہ کن نتائج بھی سامنے

آئے ہیں، دیکھنے میں آیا ہے کہ فیک نیوز آناًفاناً پھیلی اوراس کے نتیجے میں بے گناہوں کو قتل کردیا گیا، یہاں

تک کہ بپھرے ہوئے ہجوم نے درجنوں لوگوں تک کو مار ڈالا۔

کرونا کی عالمی وبا نے جہاں دنیا بھر میں اپنے مہیب پنجے گاڑ رکھے ہیں

وہیں ان جدید صحافتی سہولیات نے صحت سے متعلق سخت نقصان دہ مشوروں

سے لے کر جنگلی سازشی نظریات تک غلط معلومات کی ایک دوسری عالمی وبائی بیماری کو بھی جنم دیا ہے

جبکہ صحافت تریاق فراہم کرتی ہے، تصدیق شدہ، سائنسی حقائق پر مبنی خبریں اور تجزیے۔(انتونیو گٹیرس،

سیکرٹری جنرل، اقوام متحدہ)۔

ان حالات میںمین سٹریم میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر صحافتی فرائض سر انجام دینے والے

صحافیوںاور کارکنان پر ایک انتہائی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کسی بھی خبر کو نشر کرنے یا سوشل میڈیا

پر اس کا اشتراک کرنے سے پہلے کم از کم ایک دفعہ اس کی مصدقہ ذرائع سے تصدیق ضرور کر لیا کریں،

اگر خبر حکومتوںاہم شخصیات یا اہم اداروں کے افسران بالایا وزیروںسے متعلق ہوں تو ان کے آفیشل ٹوئٹرہینڈل

سے یا کم از کم سرکاری پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے تصدیق کیے بنا ہرگز اس خبر کو شائع نہ کریں ، اور

غیر مصدقہ خبروں اور انجان لوگوں کی دی گئی اطلاعات کو آنکھیں بند کر کے اشتراک کرنے نہ کریں،

ہمارا دین بھی ہمیں اسی بات کی ترغیب دیتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے ـ” اے ایمان والو،

اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو

ناداستہ نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہوـ” (سورۃ الحجرات آیت 6) ۔

دنیا بھر میں ہر سال 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور منایا جاتا رہناچاہیے لیکن آزادی

حافت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف ریٹنگ ، کلک،لائک ، سستی شہرت پانے، کسی کو بدنام کرنے،

بدلہ لینے یا بلیک میل کرنے کے لیے اصل خبر کی شکل مسخ کر کے یا خبر کے سنسنی خیز پہلو کی وحشت

ناک اور ہیجان انگیز رپورٹنگ کر کے اس کے مثبت پہلوئوں کویکسر ہی نظر انداز کر دیا جائے۔

ہمیں فالو کریں

عالمی یوم آزادی صحافت عالمی یوم آزادی صحافت عالمی یوم آزادی صحافت عالمی یوم آزادی صحافت

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...