tanz o mizah 77

شوہر کو خط از شفیق الرحمن

Spread the love

سرتاج من سلامت!کورنش بجا لا کر عرض کرتی ہوں کہ منی آرڈر ملا۔۔ سب سے پہلے آپ کے بتائے ہوئے ضروری کام کے متعلق لکھ دوں کہ کہیں باتوں میں یاد نہ رہے۔ آپ نے تاکید فرمائی ہے کہ میں فوراً بیگم فرید سے مل کر مکان کی خرید کے سلسلے میں ان کا آخری جواب آپ کو لکھ دوں۔ کل ان سے ملی تھی۔۔ بڑے تپاک سے ملیں۔۔ کہنے لگیں اگلے ہفتے برخوردار نعیم کا عقیقہ ہے اور اس سے اگلی جمعرات کو نورِ چشمی بتول سلمہا کی رخصت ہو گی، ضرور آنا۔۔۔۔ سوچ رہی ہوں جاؤں یا نہ جاؤں۔ دو اڑھائی سو خرچ ہو جائیں گے۔ نیا جوڑا سلوانا ہو گا۔(شوہر کو خط شفیق الرحمن)

عشق باز ٹڈا (خواجہ حسن نظامی)

ویسے تو سردیوں کے لئے سارے کپڑے نئے بنوانے پڑیں گے۔ پچھلے سال کے کپڑے اتنے تنگ ہو چکے ہیں کہ بالکل نہیں آتے۔ آپ بار بار سیر اور ورزش کو کہتے ہیں بھلا اس عمر میں مستانوں کی طرح سیر کرتی ہوئی اچھی لگوں گی۔ ورزش سے مجھے نفرت ہے۔ خواہ مخواہ جسم کو تھکانا اور پھر پسینہ الگ۔ نہ آج تک کی ہے نہ خدا کرائے۔

کبھی کبھی کار میں زنانہ کلب چلی جاتی ہوں، وہاں ہم سب بیٹھ کر نٹنگ کرتی ہیں۔ واپس آتے آتے اس قدر تکان ہو جاتی ہے کہ بس۔ آپ نے جگہ جگہ شاعری کی ہے اور الٹی سیدھی باتیں لکھی ہیں۔ ذرا سوچ تو لیا ہوتا کہ بچوں والے گھر میں خط جا رہا ہے۔ اب ہمارے وہ دن نہیں رہے کہ عشق وشق کی باتیں ایک دوسرے کو لکھیں۔ شادی کو پورے سات برس گزر چکے ہیں، خدارا ایسی باتیں آئندہ مت لکھئے۔

نوع انسان کی کہانی

توبہ توبہ اگر کوئی پڑھ لے تو کیا کہے۔ ڈاکٹر میری سٹوپس کی کتاب ارسال ہے۔ اگر دکاندار واپس لے لے تو لوٹا دیجئے۔ یہ باتیں بھلا ہم مشرق کے رہنے والوں کے لئے تھوڑی ہیں۔ اس کی جگہ بہشتی زیور کی ساری جلدیں بھجوا دیجئے۔ ایک کتاب گھر کا حکیم کی بڑی تعریف سنی ہے۔ یہ بھی بھیج دیجئے۔ چند نئی فلمیں دیکھیں، کافی پسند آئیں۔ ہیرو کا انتخاب بہت موزوں تھا۔ موٹا تازہ، لمبے لمبے بال، کھوئی کھوئی نگاہیں، کھلے گلے کا کرتہ، گانے کا شوق، کسی کام کی بھی جلدی نہیں، فرصت ہی فرصت۔

آپ بہت یاد آئے۔ شادی سے پہلے میں آپ کو اسی روپ میں دیکھا کرتی تھی۔ کاش کہ آپ کے بھی لمبے لمبے بال ہوتے، ہر وقت کھوئی ہوئی نگاہوں سے خلا میں تکتے رہتے، کھلے گلے کا کرتہ پہن کر گلشن میں گانے گایا کرتے۔ نہ یہ کم بخت دفتر کا کام ہوتا اور نہ ہر وقت کی مصروفیت لیکن خواب کہاں پورے ہوئے ہیں۔ ایک بہت ضروری بات آپ سے پوچھنا تھی۔ زینت بوا نے شبہ میں ڈال دیا ہے کہ آپ کے لفافوں پر پتہ زنانہ تحریر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے دفتر میں کوئی سیکرٹری یا سٹینو وغیرہ آ گئی ہو اور آپ مصروفیت کی بنا پر اس سے پتہ لکھواتے ہوں۔ یہ لڑکی کس عمر کی ہے؟ شکل و صورت کیسی ہے؟ غالباً ً کنواری ہو گی؟ اس کے متعلق مفصل طور پر لکھئے۔ اگر ہو سکے تو اس کی تصویر بھی بھیجئے۔

سکول کب کھلیں گے؟طلبہ گھروں میں تھک گئے، چھوٹے بچے سکول کا تصور ہی بھول گئے

باقی سب خیریت ہے اور کیا لکھوں۔ بس بچے ہر وقت آپ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اصغر پوچھتا ہے کہ ابا میری سائیکل کب بھیجیں گے۔ آپ بہت یاد آتے ہیں۔ ننھے کی جرابیں پھٹ چکی ہیں۔ ننھی کے پاس ایک بھی نیا فراک نہیں رہا۔ برا ہو پردیس کا۔ صورت دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ امی جان کی اونی چادر اور کمبلوں کا انتظار ہے۔ ہر وقت آپ کا انتظار رہتا ہے۔ آنکھیں دروازے پر لگی رہتی ہیں۔ صحن کا فرش جگہ جگہ سے اکھڑ رہا رہا ہے۔ مالی کام نہیں کرتا۔ اس کی لڑکی اپنے خاوند کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔

سرتاج کو کنیز کا آداب۔ فقط

شوہر کو خط شفیق الرحمن شوہر کو خط شفیق الرحمن

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...