ماں قسط نمبر10 Mother novel 128

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 10

Spread the love

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 9

ولاسوف خاندان کا چھوٹا سا مٹیا لا مکان بستی کے لوگوں کی اور زیادہ توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس توجہ میں کچھ شبہ اور غیر شعوری عداوت کا جذبہ بھی شامل تھا۔ لیکن ایک پر اعتقاد تجسس کا جذبہ بھی بیدار ہورہا تھا۔ بعض اوقات پاویل کے پاس کوئی اجنبی آتا اور اپنے چاروں طرف کنکھیوں سے دیکھنے کے بعد کہتا:(ماں گورکی قسط 10)

’’سنو بھائی، تم کتابیں پڑھتے ہو اور تمہیں قانون سے واقفیت ہے، تم مجھے سمجھا نہیں سکتے کہ۔۔۔‘‘

اور پھر درخواست گزار پولیس یا کارخانے کے منتظمین کی کسی ناانصافی کاقصہ بیان کرنا شروع کرتا۔ الجھے ہوئے معاملوں میں پاویل شہر کے کسی ملاقاتی وکیل کے نام خط دیدیتا۔ لیکن جب بھی ممکن ہوتا وہ مسئلہ کو خود ہی سمجھاتا۔

آہستہ آہستہ لوگ اس سنجیدہ نوجوان کی عزت کرنے لگے جو اتنی سادگی اورجرات سے بات کرتا، جو اپنی آنکھیں کھلی رکھتا اور ہر چیز کو توجہ سے سنتا، جو بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ ہر تنازع کی جڑ تک پہنچ جاتا اور ہر وقت اور ہر جگہ اس مشترک رشتے کو ڈھونڈھ لیتا جس میں تمام لوگ منسلک ہیں۔

پاویل کی عزت خاص طور پر ’’دلدل کے کوپک ‘‘کے واقعہ سے بہت زیادہ بڑھ گئی۔ (کوپک۔ روسی سکہ۔ ایک روبل میں سو کوپک ہوتے ہیں۔)

ایک بڑی سی دلدل جس میں سرو اور برچ کے درخت اگ آئے تھے، کارخانے کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی، بلکہ ایک زخم کی طرح اسے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھی۔ گرمیوں میں اس دلدل سے گہرے زرد بخارات نکلتے اور دل کے دل مچھر پیدا ہو جاتے جو ساری بستی میں بخار پھیلا دیتے تھے۔ دلدل پر کارخانے کا قبضہ تھا اور نئے ڈائریکٹر نے فیصلہ کیا کہ اسے خشک کر دیا جائے تاکہ دلدل کا کوئلہ دستیاب ہو اور زمین سے منافع ملے۔ یہ بہانہ کر کے کہ مزدوروں کی زندگی کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے یہ کام کیا جارہا ہے ڈائریکٹر نے حکم دے دیا کہ مزدوروں کی تنخواہ میں سے ہر روبل پر ایک کوپک کاٹ لیاجائے تاکہ دلدل کو خشک کیا جاسکے۔

مزدوروںمیںغصہ پھیل گیا۔ انہیں زیادہ اعتراض اس بات پر تھا کہ دفتری کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی نہیں کی گئی۔

پیر کے روز ڈائرکٹر نے کوپک کاٹنے والا اعلان چپکایا۔ اس دن پاویل بیماری کی وجہ سے کارخانے نہیں آیا تھا، اس لئے اسے اس بات کا علم ہی نہ تھا۔ دوسرے دن صفارخانہ میں کام کرنے والا پرانا مزدور سیزوف جو ایک معقول آدمی تھا اور لمبے قد والا میکنک مخوتین اس سے ملنے آئے اور انہوں نے اسے ڈائریکٹر کا فیصلہ سنایا۔

’’ہم میں سے پرانے لوگ جمع ہوئے ‘‘سیزوف نے موثر انداز میں کہا۔’’اور اس کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ ساتھیوں نے فیصلہ کر کے ہمیں تمہارے پاس بھیجاہے۔ شاید تمہیں معلوم ہو کہ کوئی ایسا قانون ہے یا نہیںجس کے تحت ڈائریکٹر کو ہمارے کوپکوں سے مچھروں کے خلاف لڑنے کاحق ہے۔‘‘

’’ذرا سوچو تو!‘‘ مخوتین نے کہا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ ’’چار برس ہوئے ان کنجوسوں نے حمام بنانے کے لئے ہم سے رقم اینٹھ لی تھی۔ تین ہزار آٹھ سوروبل جمع کئے تھے! اور وہ ہے کہاں؟ ہم نے تو کبھی حمام دیکھا نہیں!‘‘

پاویل نے سمجھایا کہ کٹوتی کس طرح غیر منصفانہ ہے اور یہ کہ دلدل خشک کرنے سے کارخانے کو منافع کتنا ہو گا۔ دونوں آدمی تیوری پر بل ڈالے واپس چلے گئے۔ جب ماں نے انہیں باہر تک پہنچا دیا تو ہنس کر کہا:

’’بوڑھے تک تم سے عقل سیکھنے آتے ہیں۔‘‘

اس کا جواب دیئے بغیر پاویل بیٹھ گیا اور اس نے لکھنا شروع کیا۔ چند لمحوں بعد اس نے کہا:

’’ماں مجھے تم سے ایک درخواست کرنی ہے۔ یہ چٹھی شہر پہنچا دو۔‘‘

’’خطرناک ہے کیا؟‘‘ اس نے دریافت کیا۔

’’ہاں میں تمہیں ایسی جگہ بھیج رہا ہوں جہاں ہمارا اخبار چھاپا جاتا ہے۔ بہت ضروری ہے کہ آیندہ اشاعت میںدلدل کے کوپک کی کہانی کسی نہ کسی طرح شائع ہو ہی جائے۔‘‘

’’اچھا!‘‘ اس نے کہا۔’’تو ٹھیک ہے۔‘‘

یہ پہلا کام تھا جو اس کے بیٹے نے اس کے حوالے کیا تھا۔ وہ اس بات سے خوش تھی کہ اس نے بلا جھجک ہر چیز سمجھا دی تھی۔

’’میں سمجھتی ہوں پاشا!‘‘ اس نے کپڑے پہنتے ہوئے کہا۔’’وہ لوگ سچ مچ ہمیں لوٹ رہے ہیں! اس آدمی کانام کیا ہے۔ یگور ایوانووچ؟‘‘

وہ رات کو دیر میں تھکی ہوئی سی گھر واپس آئی مگر مسرور تھی۔

’’میں ساشا سے ملی تھی‘‘ اس نے اپنے بیٹے سے کہا۔ ’’اس نے تمہیں سلام کہا ہے۔ وہ یگور ایوانووچ تو بہت سادہ اور بہت ہنس مکھ قسم کا انسان معلوم ہوتا ہے۔ بڑے گھریلو انداز سے باتیں کرتا ہے۔‘‘

’’بڑی خوشی ہے کہ تمہیں وہ لوگ پسند آئے‘‘ پاویل نے نرمی سے کہا۔

’’بڑے سیدھے سادے لوگ ہیں پاشا۔ کتنا اچھا لگتا ہے جب لوگ تصنع نہیں برتنے۔ اور وہ سب لوگ تمہارے لئے بہت اچھی رائے رکھتے ہیں۔۔۔‘‘

پیر کو بھی پاویل گھر ہی پر رہا کیوں کہ ابھی اس کی طبیعت پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی تھی لیکن کھانے کے وقت فیدور مازن دوڑتا ہوا آیا۔ وہ خوش تھا اور جوش میں بھی۔

’’چلو آئو‘‘ وہ چلایا۔ ’’پوری فیکٹری برہم سی ہو رہی ہے۔ مزدوروں نے تمہیں لینے کے لئے بھیجا ہے۔ سیزوف اور مخوتین کا کہنا ہے کہ تم دوسروں سے زیادہ اچھی طرح سے ہر بات سمجھا سکو گے۔ ذرا دیکھو تو ہو کیا رہا ہے!‘‘

ایک لفظ کہے بغیر پاویل نے کپڑے پہننے شروع کر دیئے۔

’’عورتیں بھی آگئی ہیں اور انہوں نے بھی چیں چیں شروع کر دی ہے۔‘‘

’’میں بھی چل رہی ہوں‘‘ ماں نے کہا۔ ’’آخر کر کیا رہے ہیں یہ لوگ؟ میں بھی چلتی ہوں!‘‘

’’اچھا، چلو‘‘ پاویل نے کہا۔

تیزی اور خاموشی سے وہ لوگ سڑک پرچلتے رہے۔ ماں جوش وہیجان کی وجہ سے مشکل سے سانس لے پا رہی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی بہت ہی اہم بات ہونے والی ہے۔ کارخانے کے دروازے پر عورتوںکا مجمع لگا ہوا تھا جو چیخ رہی تھیں اور لڑ رہی تھیں۔ جب یہ تینوں آہستہ سے احاطے کے اندر پہنچے تو انہوں نے خود کو ایک برہم ہجوم کے درمیان پایا جو غصے سے آگ بگولہ ہو رہا تھا۔ ماں نے دیکھا کہ ہر شخص صفارخانے کی دیوار کی طرف دیکھ رہا ہے جہاں سیزوف، مخوتین ویالوف اور پانچ چھ دوسرے ادھیڑ عمر کے با اثر مزدور پرانے لوھے کے ڈھیر پر کھڑے ہوئے تھے جس کے پیچھے اینٹوں کی دیوار تھی۔

’’یہ لو، ولاسوف آگیا!‘‘ کوئی چلایا۔

’’ ولاسوف؟ اسے یہاں آنے دو!‘‘

’’خاموش!‘‘ کئی جگہوں سے لوگ چیخے۔

کہیں نزدیک ہی سے ریبن کی متوازن آواز آئی:

’’ہمیں کوپک کیلئے نہیں بلکہ انصاف کے لئے لڑنا۔ بات تو دراصل یہی ہے۔ ہمیں اپنے کوپک عزیز نہیں ہیں وہ کسی دوسرے کوپک سے زیادہ گول تو نہیں ہیں۔ حالانکہ بھاری ضرور ہیں۔ لیکن ان میں ڈائریکٹر کے روبل سے زیادہ انسانی خون شامل ہے! قیمت کوپک کی نہیں بلکہ خون کی، انصاف کی ہے۔ بات تو دراصل یہی ہے!‘‘

اس کے الفاظ مجمع پر برس رہے تھے اور داد حاصل کر رہے تھے:

’’بالکل صحیح کہتے ہو ریبن!‘‘

’’بڑی اچھی بات کہی اسٹوکر!‘‘

یہ لو ولاسوف آگیا!‘‘

انسانی آوازیں ایک طوفانی شور میں بدل گئیں جس نے مشینوں کی گھڑگھڑاہٹ، بھاپ کی سنساہٹ اور بجلی کے تاروں کے بھنبھناہٹ کو غرق کر دیا۔ لوگ ہر طرف سے دوڑتے، ہاتھوں سے اشارے کرتے، ایک دوسرے کو تیز وتند الفاظ سے اکساتے ہوئے آرہے تھے۔ بے اطمینانی جو ہمیشہ تھکے ہوئے سینوں میں چھپی رہتی ہے جاگ پڑی تھی اور باہر نکلنے کا راستہ مانگ رہی تھی۔ وہ اس وقت فاتحانہ انداز سے فضا کی بلندیوں پر لہرا رہی تھی، اپنے سیاہ پروں کو زیادہ سے زیادہ پھیلاتے ہوئے وہ لوگوں پر اپنے اثر کو اور زیادہ مضبوط بنا رہی تھی اور اپنے ساتھ انہیں کھینچے لئے آرہی تھی۔ وہ اپنی قلب ماہیت کر کے ایک انتقامی شعلہ بن کر لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا رہی تھی۔ مجمع کے سر پر دھول اور کالک کے بادل چھا رہے تھے، پسینے سے شرابور چہروں پر جوش کی تمتماہٹ تھی، رخساروں پر سیاہ آنسوئوں کے دھبے پڑے ہوئے تھے اور آنکھیں اور دانت کلونس سے بھرے ہوئے چہروں میں چمک رہے تھے۔

پاویل لوھے کے ڈھیر پر پر پہنچ گیا جہاں سیزوف اور مخوتین کھڑے ہوئے تھے۔

’’ساتھیو!‘‘ اس نے زور سے کہا۔

ماں نے دیکھا کہ اس کا چہرہ کتنا زرد تھا اور اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ غیرارادی طور مجمع کو چیرتی ہوئی وہ آگے بڑھ گئی۔

’’کون دھکے دے رہا ہے؟‘‘وہ لوگ جھنجھلاکر اس پر چلائے۔

اسے بھی دھکے دیئے گئے لیکن وہ اس سے رکی نہیں۔ اپنے بیٹے کے نزدیک کھڑے ہونے کے خواہش کے زیر اثر وہ کاندھوں اور کہنیوں سے راستہ بناتی ہوئی آگے پہنچ گئی۔

جب پاویل نے اپنے سینے کو اس لفظ سے خالی کر دیا جو اس کے لئے ایک عمیق اہمیت کا حامل تھا تو اسے محسوس ہوا جیسے اس کا حلق شدت مسرت سے خشک سا ہو گیا ہے۔ اس میں ایک زبردست جذبہ بیدار ہوا کہ ان لوگوں کی طرف اپنا دل کھول کر پھینک دے، وہ شعلہ بداماں دل جو عدل وانصاف کے خوابوں سے معمور تھا۔

’’ساتھیو!‘‘ اس لفظ سے قوت اور انبساط حاصل کرتے ہوئے اس نے کہا۔ ’’ہم وہ لوگ ہیںجو کلیسااور کارخانے بناتے ہیں، جو زنجیریں اور روپئے ڈھالتے ہیں۔ ہم وہ زندہ قوت ہیں جس کی وجہ سے پالنے سے قبر تک تمام لوگ پیٹ بھرتے اور زندہ رہتے ہیں!‘‘

’’بالکل صحیح!‘‘ ریبن چیخا۔

’’ہمیشہ اور ہر جگہ ہم ہی محنت کرنے والوں میں سب سے پہلے ہوتے ہیں اور ہمارا ہی خیال سب سے آخر میںکیا جاتا ہے۔ ہماری پرواہ کون کرتا ہے؟ ہماری بھلائی کے لئے کبھی کسی نے ذرہ برابر بھی کوئی کام کیا؟ کوئی ہمیں انسان بھی سمجھتا ہے؟ کوئی نہیں!‘‘

’’کوئی نہیں!‘‘

جب تقریر چل نکلی تو پاویل نے اور زیادہ سادگی اور آہستگی سے بولنا شروع کیا اور مجمع آہستہ آہستہ اس کے نزدیک آکر ایک واحد ہزار سرے جسم میں تبدیل ہو گیا جو اپنی ہزار تھا متوجہ نظروں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے ایک ایک لفظ کو پی رہا تھا۔

’’ہم اس وقت تک اپنے حالات کو بہتر نہیں کر سکیں گے جب تک کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا نہ بن جائیں در حقیقت ہم دوستوں کا ایک ایسا خاندان ہیں جو اپنے حقوق کیلئے جدوجہ کی واحد خواہش کے رشتے میں بندھا ہوا ہے۔‘‘

’’اصل مسئلے کی طرف آئو!‘‘ ماں کے پاس کھڑے ہوئے کیسی شخص نے بھدی آواز میں پکار کر کہا۔

’’گڑ بڑ مت کرو!‘‘ مختلف سمتوں سے دو آوازیں آئیں۔

کلونس سے بھرے ہوئے چہروں پر شکوک وشبہات کی جھنجھلاہٹ تھی لیکن بہت سی آنکھیں بڑے غور وفکر کے ساتھ پاویل کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔

’’ہے سوشلسٹ مگر احمق نہیں‘‘ کسی نے رائے ظاہر کی۔

’’بول تو بڑی ہمت سے رہا ہے‘‘ ماںکو ٹہوکا دیتے ہوئے ایک کانے لمبے سے مزدور نے کہا۔

’’ساتھیو وقت آگیا ہے کہ اب ہم جان کے کہ اپنی مدد صرف ہم ہی کر سکیں گے۔ ایک کے لئے سب اور سب کے لئے ہر ایک۔ اگر ہم دشمنوں کو شکست دینا چاہتے ہیں تو یہ ہمارا اصول ہونا چاہئے۔‘‘

’’بالکل صحیح بات کہہ رہا ہے یارو!‘‘ مخوتین نے ہوا میں گھونسہ لہراتے ہوئے زور سے کہا۔

’’ڈائریکٹر کو بلائو! ‘‘ پاویل نے تقریر جاری رکھی۔

’’ایسا معلوم ہوا جیسے دفعتاً ہوا کا زور دار جھونکا مجمع کو لے اڑا۔ پورے مجمع میں جنبش ہوئی اور درجنوں آوازیں آئیں:

’’ڈائریکٹر کو بلائو!‘‘

’’اس کو بلانے کے لئے ایک وفد بھیجو!‘‘

ماں اور بھی آگے بڑھ گئی اور اس نے اپنے بیٹے پر نظریںجما دیں۔ اس وقت اس کا چہرہ فخر سے تمتما رہا تھا۔ اس کا پاویل یہاں پرانے باعزت مزدوروں کے درمیان کھڑا ہو اتھا اور ہر شخص اس کی بات سن رہا تھا اور اس سے اتفاق کر رہا تھا۔ اسے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ اسے نہ تو غصہ آیا اور نہ دوسروں کی طرح اس نے گالیاں دیں۔

کم جونگ ان زندہ، صحت بھی پہلے سے بہتر، جنوبی کوریا کا دعویٰ

گالیوں، چیخوں اور تیز وتند لفظوں کی بھر مار اس طرح شروع ہوئی جیسے ٹین کی چھت پر اولے پڑتے ہیں۔ پاویل نے لوگوں کی طرف دیکھا اور ایسا معلوم ہوا جیسے اپنی بڑی بڑی سی آنکھوں سے کوئی چیزیں تلاش کر رہا ہو۔

’’نمایندے!‘‘

’’سیزوف!‘‘

’’ولاسوف!‘‘

’’ریبن! اس کے دانت بہت تیز ہیں!‘‘

دفعتاً مجمع میںکانا پھوسی شروع ہو گئی۔

’’وہ توا پنے آپ ہی آرہا ہے۔‘‘

ڈائریکٹر!‘‘
مجمع نے ایک لمبے قد والے شخص کے لئے راستہ بنایا جس کی ڈاڑھی نکیلی اور چہرہ لمبا تھا۔

’’ذرا جانے دو مجھے!‘‘ اس نے ایک ایسی خفیف سی جنبش سے مزدوروں کو اپنے راستے سے ہٹا تے ہوئے کہا کہ اسے ان کو چھونا نہ پڑے۔ اسکی بھویں سکڑی ہوئی تھیں اور وہ انسانوں کے آقا کی تجربہ کار نگاہوں سے مزدوروں کے چہروں کا جائزہ لے رہا تھا۔ لوگوں نے جلدی جلدی ٹوپیاں اتار لیں اور اس کے آگے سلام کے لئے جھکنے لگے لیکن وہ ان کے سلام کا جواب دیئے بغیر چلتا رہا اور لوگ اسے دیکھ کر پریشانی کے ساتھ خاموشی اختیار کرنے لگے کچھ لوگ گھبرا کر مسکرا رہے تھے اور سرگوشیاں کر رہے تھے، جیسے بچوں کو شرارت کرتے ہوئے دیکھ لیا جائے تو وہ نادم ہوجاتے ہیں۔

وہ ماں کے سامنے سے گزرا اور اس کی سخت نگاہیں اس کے چہرے پر بھی پڑیں اور آخر میں وہ لوھے کے ڈھیر کے سامنے جا کر رک گیا۔ کسی نے مدد کے لیے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن وہ انکار کرتے ہوئے ایک جھٹکے کے ساتھ اوپر چڑھ گیا اور پاویل اور سیزوف کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

’’یہ کس قسم کا مجمع ہے؟ تم لوگوں نے کام کیوں بند کر دیا؟‘‘

چند لمحوں کے لئے خاموشی طاری رہی۔ لوگوں کے سرا ناج کی بالیوںکی طرح جھومتے رہے۔ سیزوف نے اپنی ٹوپی ہوا میں لہرائی، کاندھے جھٹکے اور سر جھکا لیا۔

’’میرے سوال کا جواب دو!‘‘ ڈائریکٹر نے چیخ کر کہا۔

ماں گورکی قسط 10 ماں گورکی قسط 10 ماں گورکی قسط 10 ماں گورکی قسط 10 ماں گورکی قسط 10 ماں گورکی قسط 10

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...