بھوک بیماری عمران خان 121

کرونا مکمل لاک ڈائون سے بھی ختم نہیں ہو گا ،، عمران خان

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )کرونا مکمل لاک ڈائون

وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس صورتحال میں ہم سب کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔احساس ٹیلی تھون کی خصوصی نشریات سے خطاب اور مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں ملک کی مدد کی۔ ہم مستحق لوگوں کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے والا کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔ جو وقت آگے آ رہا ہے ہم سب کو یکجا ہونا ہوگا۔

چاند نظر نہیں آیا، رمضان المبارک کا آغاز 25 اپریل سے ہوگا

یہ ایسا وائرس ہے جو بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔گزشتہ رات ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ اپنے ٹیلی فونک رابطے کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر بھی اب سمارٹ لاک ڈاؤن کی بات کر رہے ہیں، اتنی بڑی اکانومی ہونے کے باجود انھیں ڈر ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو کہیں ان کی معیشت نہ بیٹھ جائے۔وزر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کر لیں تو بھی کورونا نہیں رکے گا، ہمیں وائرس کے ساتھ رہناپڑیگا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت پیسہ خرچ کررہی ہے لیکن متاثرین اتنے ہیں کہ اس کیلیے بہت زیادہ رقم درکار ہے لہٰذا لوگ دل کھول کر عطیات دیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ آنیوالے وقت میں پوری قوم کو مشقت کرنا پڑے گی،

کوئی حکومت اس کورونا کا مقابلہ اکیلے نہیں کرسکتی،پوری قوم کو مل کر کورونا کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔عمران خان نے کہا کہ قوم سے کہتا ہوں کہ پوری طرح احتیاط کریں، اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر وباؤں سے مختلف ہے، کوشش کریں کہ سماجی فاصلہ اختیار کریں اور احتیاط کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ شرح سود اور کم ہوجائے، جیسے جیسے چیزیں کھلتی جائیں گی کورونا وبا بڑھتی جائیگی البتہ پاکستان میں اب تک جو ٹرینڈ نظر آرہا ہے اس سے لگتا ہے کہ زیادہ کیسز نہیں ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام کے تحت ایمرجنسی کیش پروگرام میں فی خاندان 12 ہزار روپے کی تقسیم کے حوالے سے بتایا کہ ابھی جو لوگوں کوپیسے دیے جارہے ہیں پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو 12ہزارروپے دے رہے ہیں اس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں، زیادہ رقم سندھ میں تقسیم کی گئی جہاں ہماری حکومت بھی نہیں ہے، احساس پروگرام جیسا شفاف پروگرام پاکستان کی تاریخ میں نہیں دیاگیا۔کورونا کی وجہ سے ملک بھر میں جاری جزوی لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں اب اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جاناپڑیگا، ہمیں اب لوگوں کیلییدکانیں کھولنی پڑیں گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کامطلب ہیکہ جہاں کورونا پھیلا وہاں کنٹرول کریں گے، سب ممالک سمجھ رہیہیں کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیاجا سکتا،

خوف ہیکہ چھوٹاکاروبارکہیں مکمل طورپرختم نہ ہوجائے۔عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری رجسٹرڈ ہی نہیں ہے، اگرآپ پورالاک ڈاؤن کردیں گیتوکیسے دیہاڑی دارکوسنبھالیں گے، ابھی ہمیں کچی بستیوں کیرہنیوالوں کوریلیف دیناہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیم فنڈ وہیں کا وہیں ہے وہ ادھرہی جائیگا، لاک ڈاؤن سے متعلق مجھ پر شدید تنقیدکی گئی، کچی آبادی میں لوگ جس طرح ر ہتےہیں وہاں کتنی دیرتک لاک ڈاؤن کیا جائے گا؟ کچی آبادیوں میں سماجی فاصلیرکھنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ عدالتوں اورجیلوں میں چلے جائیں وہاں سارے غریب لوگ ہیں، غریب لوگ سرکاری اسپتال اور طاقتور اچھے اسپتالوں میں علاج کراتے ہیں، کوئی بھی فیصلہ کرناہیتوپوریپاکستان کیلئے ہونا چاہیے اشرافیہ کیلئے نہیں

کرونا مکمل لاک ڈائون

کرونا مکمل لاک ڈائون

کیٹاگری میں : Uncategorised

اپنا تبصرہ بھیجیں