ماں قسط نمبر10 Mother novel 144

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 9

Spread the love

دوسرے دن یہ معلوم ہوا کہ بوکن، سموئلوف، سوموف اور پانچ دوسرے لوگ بھی گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ شام کو فیدور مازن آگیا۔ اس کے گھر کی بھی تلاش ہوئی تھی اور اسے بڑی خوشی تھی کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑا سورما سمجھ رہا تھا۔(ماں گورکی قسط 9)

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 8

’’تم کچھ ڈر گئے تھے فیدور؟‘‘ ماں نے دریافت کیا۔

وہ زرد پڑگیا۔ اس کے خط وخال نمایاں ہو گئے اور نتھنے پھڑکنے لگے۔

’’مجھے ڈر تھا کہ افسر مجھے مارے گا۔ بہت موٹا تھا، ڈاڑھی سیاہ تھی اور انگلیوں پر بال ہی بال تھے۔ ناک پر سیاہ چشمہ رکھا ہوا تھا جیسے اندھا ہو۔ اتنا چیخا اور پائوں پٹکے کہ کچھ حد نہیں! ’میں تمہیں جیل میں ڈال دوں گا!‘ اس نے چیخ کر کہا۔ کسی نے آج تک مجھے نہیں مارا۔ یہاں تک کہ میرے ماں باپ نے بھی نہیں مارا تھا۔ میں ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ لوگ مجھے بہت چاہتے تھے۔‘‘

تھوڑی دیر کے لئے اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ہونٹ بھینچ لئے اور دونوں ہاتھوں سے اپنے سیاہ بالوں کو ماتھے پر سے ہٹایا۔ پھر اس نے اپنی سرخ آنکھوں جسے پاویل کو دیکھتے ہوئے کہا:

’’اگر کبھی کسی نے مجھے پر ہاتھ اٹھایا تو میں اس پر تلوار کی طرح ٹوٹ پڑوں گا۔ اپنے دانتوں سےاس کی بوٹیاں نوچ لوں گا! زیادہ سے زیادہ مجھے مار ہی تو ڈالیں گے۔ چلو قصہ تمام ہو جائے گا!‘‘

’’اتنے تو دھان پان ہو تم!‘‘ ماں بول پڑی۔ ’’میں کہتی ہوں تم کیالڑ سکو گے!‘‘

’’لڑوں گا تو ضرور‘‘ فیڈور نے زیر لب کہا۔

جب فیدور چلا گیا تو ماں نے پاویل سے کہا۔ ’’سب سے پہلے یہی ہار مان جائے گا۔‘‘

پاویل خاموش رہا۔

چند لمحوں کے بعد باورچی خانے کا دروازہ آہستہ سے کھلا اور ریبن داخل ہوا۔

’’یہ لو‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’میں پھر آگیا۔ کل رات وہ لوگ مجھے لائے تھے اور آج میں خود ہی آگیا۔‘‘ اس نے بڑی گرمجوشی سے پاویل سے مصافحہ کیا اور پلاگیا کو کاندھوں سے پکڑ لیا۔

’’ایک گلاس چائے مل جائے تو بہت اچھا ہو‘‘ اس نے کہا۔

پاویل نے خاموشی سے اس کے چوڑے بھرے بھرے چہرے کو غور سے دیکھا جس پر گھنی سیاہ ڈاڑھی اور سیاہ آنکھیں تھیں۔ اس کی جمی جمی نظروں میںکوئی اہم بات تھی۔

ماں باورچی خانے میں سماوار کو روشن کرنے چلی گئی۔ ریبن کہنیاں میز پر ٹکا کر بیٹھ گیا اور پاویل کی طرف دیکھنے لگا۔

’’تو پھر‘‘ اس نے کہا جیسے گفتگو کا سلسلہ پھر سے جاری کرنا چاہتا ہو۔ ’’مجھے تم صاف صاف باتیں کرنی ہیں۔ چند دنوں سے تمہارے کام پر نظر رکھ رہا تھا۔ تمہارے پڑوس ہی میں رہتا ہوں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ تمہارے گھر پر بہت سے لوگ آتے ہیں لیکن نہ تو شراب پیتے ہیں اور نہ ہنگامے کرتے ہیں۔ یہ تو پہلی بات ہے۔ ایسے لوگوں پر نظر پڑنا تو ضروری ہے جو ذرا شرافت سے رہتے ہیں۔ خیال ہوتا ہے کہ آخر بات کیا ہے۔ میں خود لوگوں کی نظروں میں کھٹکتا ہوں کیونکہ ذرا میں لئے دیئے رہتا ہوں۔‘‘

وہ اپنی سیاہ ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتا اور پاویل کے چہرے کو بغور دیکھتا رہا اور اس کی باتوں میں روانی اورتندی جاری رہی۔

’’لوگوں نے تمہارے بارے میں باتیں شروع کر دی ہیں۔ مثال کے طو رپر میرے مالک مکان نے۔ وہ تمہیں بدعتی کہتا ہے کیونکہ تم گرجا نہیں جاتے۔ گرجا تو میں بھی نہیں جاتا۔ پھر ان پرچوں کی بات بھی ہے۔ تمہارا ہی کام ہے نا وہ؟‘‘

’’ہاں!‘‘ پاویل نے کہا۔

’’تم کیاکہہ رہے ہو؟‘‘ ماں نے باورچی خانے سے سر نکال کر خوفزدہ انداز میںکہا۔ ’’تم ہی تنہا تو نہیں ہو!‘‘

پاویل ہنسا اور ریبن بھی۔

’’اچھا ٹھیک ہے‘‘ ریبن نے کہا۔

ماں نے ناک بھوں چڑھائی اور چلی گئی۔ جس طرح ان لوگوں نے اسے نظر انداز کیا تھا اس سے اسے کچھ صدمہ سا پہنچا۔

’’یہ پرچوں(پمفلٹ) کا خیال اچھا ہے، لوگوں میں جوش آتا ہے۔ انیس تھے نا؟‘‘

’’ہاں!‘‘ پاویل نے جواب دیا۔

’’اس کے معنی یہ ہیں کہ میں سب پڑھ لئے۔ کچھ چیزیں ان میں صاف نہیں تھیں اور کچھ غیر ضروری تھیں۔ لیکن جب کوئی شخص بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہے تو دو چار ضرورت سے زیادہ الفاظ نہ بڑھانا ذرا مشکل ہی ہے۔‘‘

ریبن مسکرایا۔ اس کے مضبوط سفید دانت نظر آرہے تھے۔

’’اس کے بعد تلاشی ہوئی۔ اس نے مجھے بالکل تمہاری طرف کر دیا۔ تم نے اور خوخول اور نکولائی۔ تم سب نے بتا دیا۔۔۔‘‘

مناسب الفاظ کی تلاشی میں وہ خاموش ہو گیا۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے میز کو انگلیوں سے بجا رہا تھا۔

’’۔۔۔بتا دیا کہ تمہارا مقصد کیا ہے۔ یعنی کہ ’یعنی کہ‘ حضور والا آپ اپنا کام کئے جائے اور ہم اپنا کام کئے جائیں گے،۔ خوخول بھی بہت اچھا آدمی ہے۔ کبھی کبھی میں جب اسے کارخانے میں باتیں کرتے ہوئے سنتا ہوں تو سوچتا ہوں ’اسے شکست نہیں دی جا سکتی صرف موت ہی اسے نیچادکھاسکتی ہے بالکل پتھر کا بنا ہوا ہے،۔ تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے پاویل؟‘‘

’’ہاں مجھے بھروسہ ہے‘‘ پاویل نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

’’ٹھیک۔ میری طرف دیکھو۔ چالیس برس کی عمر۔ تم سے دوگنا بڑا، تم سے بیس گنا زیادہ دنیا دیکھی ہے۔ تین سال سے زیادہ فوج میں رہا۔ دو مرتبہ شادی کی۔ پہلی بیوی مر گئی۔ دوسری کو میں نے نکال دیا۔ میں کاکیشیا بھی گیا اور میں نے دخوبور ٹسی(یہ ایک مذہبی فرقہ تھا) کو بھی دیکھا۔ وہ لوگ زندگی کے ساتھ قدم قدم ملا کر چلنا نہیں جانتے بھائی۔ بالکل نہیں۔

ماں اس کی بھونڈی سی آواز کو بڑے شوق سے سنتی رہی۔ اسے بڑے خوشی تھی کہ ایک ادھیڑ عمر کا انسان اس کے بیٹے کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ رہا تھا۔ لیکن اسے محسوس ہوا کہ پاویل کا انداز بڑا خشک تھا۔

’’میرا خیال ہے تم کچھ کھا پی لو میخائل ایوانووچ؟‘‘ اس نے کہا۔

’’شکریہ ماں میں کھانا کھا چکا۔ توپاویل تمہارا خیال ہے کہ زندگی ایسی نہیں ہے جیسی ہونی چاہئے؟‘‘

پاویل کھڑا ہو گیا اور ہاتھ پیچھے باندھ کر اس نے فرش پر ٹہلنا شروع کیا۔

’’زندگی صحیح راستہ اختیار کر رہی ہے‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’تم ہی کو میرے پاس کھلے دل سے لے آئی نا؟ آہستہ آہستہ وہ ہم محنت کشوں کو متحد کر رہی ہے اور ایک وقت آئے گا جب وہ سب کو متحد کر دے گی! زندگی ہمارے لئے سخت، کٹھور اور غیر منصفانہ ہے لیکن خود زندگی ہی اپنی تلخ حقیقت کو ہم پر واضح کرتی جا رہی ہے اور ہمیں یہ بھی بتا رہی ہے کہ اس کے مسائل کو جلد از جلد کیسے حل کیا جائے؟‘‘

’’بالکل صحیح!‘‘ ریبن نے لقمہ دیا۔ ’’لوگوں میں مکمل تبدیل کی ضرورت ہے۔ اگر کسی شخص کے سر سے پائوں تک جوئیں پڑ گئی ہوں تو اسے حمام لے جائو، خوب مل مل کے نہلائو اور صاف کپڑے پہنا دو، پھر دیکھو کیسا خوش وضع نکل آتا ہے۔ ہے نا ٹھیک؟ لیکن کسی کے باطن کو کس طرح صاف کیا جا سکتا ہے؟ اصل بات تو یہی ہے!‘‘

پاویل کارخانے اور مالکوں اور دوسرے ملکوں میں اپنے حقوق کے لئے مزدوروں کی جدوجہد کے متعلق بڑے جوش میں بولتا گیا۔ بعض وقت ریبن میز پر گھونسا مارتا جیسے پاویل کی تقریر کی اہمیت کو واضح کر رہا ہو۔ بار بار وہ کہہ اٹھتا:

’’اصل بات تو یہی ہے!‘‘

اور ایک بار وہ ہنسا اور آہستہ سے بولا:

’’تم ابھی بچے ہو! لوگوں کو سمجھنا نہیںسیکھا۔‘‘

’’بوڑھے اور بچے کی بات چھوڑ دو‘‘ پاویل نے سنجیدگی سے کہا اور ریبن کے سامنے آکر رک گیا۔ ’’دیکھنا یہ چاہئے کہ کس کے خیالات صحیح ہیں۔‘‘

’’توتمہارا خیال ہے کہ خدا کے متعلق بھی ہمیں بیوقوف بنایا گیا ہے؟ میرا بھی خیال ہے کہ ہمارا مذہب کسی کام کا نہیں۔‘‘

اب تو ماں بھی بول پڑی۔ جب کبھی اس کا بیٹا خدا کے متعلق کچھ کہتا یا ایسی کسی چیز کے متعلق بات کرتا جس کا تعلق ماں کے ایمان واعتقاد سے ہوتا تھا، جو ماں کے لئے بڑا مقدس اور عزیز تھا، تو وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا چاہتی اور خاموشی سے اس سے التجا کرتی کہ اپنی لا مذہبیت کے تیز الفاظ سے اس کے دل کو مجروح نہ کرے۔ لیکن اس کی لادینی کے پیچھے اسے ایک اعتقاد کی جھلک نظر آتی تھی اور اس کی وجہ سے اسے تسکین ہو جاتی تھی۔

’’میں اس کے خیالات کو کیسے سمجھ سکتی ہوں؟‘‘ وہ دل ہی دل میں سوچتی۔

اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس ادھیڑ عمر کے انسان کو بھی اس کے بیٹے کے الفاظ سے اسی قسم کی تکلیف ہوئی ہو گی۔ لیکن جب ریبن نے بڑے اطمینان سے پاویل سے وہ سوال کیا تو ماں ضبط نہ کر سکیں:

’’جب خدا کا ذکر ہو تو کہنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لو!‘‘ اس نے گہرا سانس لیا اور کچھ زیادہ جوش سے کہنا شروع کیا۔ ’’تم چاہے جو بھی سوچو لیکن تم ایک بار خدا کو ہٹا دو گے تو مجھ جیسی بوڑھی عورت دکھ درد میں کس کا سہارا ڈھونڈے گی؟‘‘

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور برتن دھوتے ہوئے ا س انگلیاں کانپ رہی تھیں۔

’’تم نے ہمیں سمجھا نہیں!‘‘ پاویل نے نرمی سے کہا۔

’’برا مت مانو ماں!‘‘ ریبن نے اپنی گہری دھیمی آواز میں کہا۔ اس نے کچھ ہنس کر پاویل کی طرف دیکھا۔ ’’میں بھول گیا کہ تم اتنی بوڑھی ہو چکی ہو کہ کوئی تبدیلی ذر امشکل ہی ہے!‘‘

’’میں اس مہربان اور رحیم خدا کا ذکر نہیں کر رہا تھا جس پر تمہیں اعتقاد ہے‘‘ پاویل نے بات جاری رکھی۔ ’’بلکہ اس خدا کی بات کر رہا تھا جس سے پادری ہمیں اس طرح ڈراتے ہیں گویا وہ کوئی ڈنڈا ہو، وہ خدا جس کے نام پر وہ تمام لوگوں کو چند افراد کی مجرمانہ خواہش کے سامنے سجدے کرانا چاہتے ہیں۔‘‘

’’ٹھیک بات ہے!‘‘ ریبن نے میز کو بجاتے ہوئے لقمہ دیا۔ ’’انہوں نے نے تو ہم پر ایک جھوٹے خدا کو مسلط کر دیا ہے! ہم سے ہر اس چیز کے ذریعہ لڑتے ہیں جو ان کے ہاتھ لگ جائے! ذرا ایک لمحے کے لئے سوچو ماں! خدا نے انسان کو اپنا ہی سا بنایا جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر انسان اس کی طرح ہے تووہ انسان سے مشابہہ ہے۔ لیکن ہم دیوتائوں سے زیادہ وحشی درندوں سے مشابہ ہیں۔ کلیسا اور کلیسا والے ہمارے سامنے ایک ہوا لے کر آتے ہیں۔ اپنا خدا تو ہمیں بدلنا ہی ہو گا ماں۔ اسے ذرا مانجھ کر صاف بھی کرنا ہوگا! ان لوگوں نے اسے جھوٹ اور بہتان میں ملبوس کر دیا ہے۔ ہماری روحوں کو کچلنے کیلئے خدا کا چہرہ مسخ کر دیا ہے!۔۔۔‘‘

وہ نرمی سے بول رہا تھا لیکن اس کا ہر لفظ ماں کو چکرائے دے رہا تھا او روہ اس کی سیاہ ڈاڑھی کے حلقے میں بڑے سے ماتمی چہرے سے خوفزدہ ہو گئی۔ وہ اس کی آنکھوں کی سیاہ چمک کو برداشت نہ کر سکی جس نے اس کے دل میں ایک درد آمیز خوف بیدار کر دیا۔

’’میں چلی جائوں گی‘‘ اس نے سر کو جنبش دیتے ہوئے کہا۔ ’’ایسی باتیں سننے کی مجھ میں تاب نہیں۔‘‘

جلدی سے وہ باروچی خانے میں چلی گئی جب کہ ریبن پاویل سے کہہ رہا تھا:

’’دیکھا پاویل؟ دماغ نہیں بلکہ دل ہے دراصل ہر چیز کا مرکز۔ انسانی روح میں دل کی ایک بہت اہم حیثیت ہے، اور دل کی جگہ کوئی اور چیز نہ پیدا ہو گی۔‘‘

’’صرف عقل ہی انسان کو آزاد کر سکتی ہے‘‘ پاویل نے مضبوطی سے کہا۔

’’عقل کسی کو طاقت نہیں بخشتی!‘‘ ریبن نے اصرار کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا۔ ’’طاقت دل عطا کرتا ہے، دماغ نہیں!‘‘

ماں نے کپڑے بدلے اور بغیر دعا پڑھے بستر پر لیٹ گئی۔ ایک سرد اور ناپسندیدہ سا احساس اسے اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھا۔ ریبن پہلے تو اسے بہت تیز اور ذہین معلوم ہوا لیکن اب اس کی طرف سے مخاصمت کا جذبہ بیدار ہو رہا تھا۔

’’بدعتی! باغی!‘‘ اس کی آواز سنتے ہوئے ماں نے سوچا۔ ’’یہ یہاں آیا ہی کیوں؟‘‘

’’لیکن وہ اسی اعتماد کے ساتھ بولتا گیا:

’’مقدس جگہ کو خالی نہیں چھوڑ سکتے۔ انسانی دل میں خدا کے لئے جو جگہ ہے وہ سب سے زیادہ نازک مقام ہے۔ اگر خدا کا خیال دل سے کاٹ کر پھینک دیا جائے تو بہت بڑا سا زخم پڑ جائے گا۔ ایک نئے اعتقاد کی ضرورت ہے پاویل! اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا خدا پیدا کیا جائے جو انسان کا دوست ہو!‘‘

’’عیسی مسیح ہی ایسے تھے!‘‘ پاویل بولا۔

’’یسوع میں روحانی جرات کا فقدان تھا۔ انہوںنے کہا تھا’پیا لہ میرے آگے سے بڑھا دو، اور انہوں نے سیزر کو بھی تسلیم کیا۔ خدا اپنے بندوں پر کسی انسانی اقتدار کو کس طرح تسلیم کیااور شادی کو تسلیم کیا۔ لیکن عیسی نے تجارت کو تسلیم کیا اور شادی کو تسلیم کیا۔ اور انہوں نے انجیر کے درخت کو بددعا کے درخت پر تھی؟ بالکل اسی طرح جیسے اگرا نسانی روح نیکی اور خوبی کو وجود میں نہ لا سکے تو وہ قصور وار نہیںہے۔ کیا یہ برائی میں نے اپنی روح میں بوئی ہے؟‘‘

کمرے میں دونوں آوازیں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوتی رہیں اور جوشیلے انداز میں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہیں۔ پاویل کے ٹہلنے سے فرش چرمر کر رہا تھا۔ جب پاویل بولتا تو تمام دوسری آوازیں ڈوب جاتیں لیکن جب ریبن اپنی سنجیدہ، گہری آواز میں بولتا تو ماں گھڑی کے لنگر اور پالے کی آواز تک سن سکتی تھی جو مکان کی دیواروں کو کھسوٹ رہا تھا۔

’’میں اسے ذرا اپنے الفاظ میں کہتا ہوں یعنی بھٹی جھونکنے والے کے الفاظ میں: خدا ایک شعلہ ہے۔ اور وہ دل میں رہتا ہے۔ انجیل میں آیا ہے: ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا تھا۔ تو کلام روح ہے۔‘‘

’’کلام عقل ہے!‘‘ پاویل نے اصرار کیا۔

اچھا ٹھیک ہے تو پھر خدا دل میں ہے اور عقل میں ہے۔ لیکن کلیسا میں نہیں ہے۔ کلیسا خدا کا مدفن ہے۔‘‘

ماں سو گئی اور اسے نہیں خبر کہ ریبن کب اٹھ کر گیا۔

لیکن اس کے بعد سے وہ اکثر آنے لگا۔ اگر اس وقت پاویل کا کوئی ساتھی موجود ہوتا تو ریبن کونے میں بیٹھ جاتا اور ایک لفظ بھی نہ بولتا، سوائے اس کے کہ کبھی کبھی کہہ دیتا: ’’بالکل ٹھیک!‘‘

ایک دن اس نے ساری محفل کو اپنی سیاہ آنکھوں سے گھور کر دیکھا اور جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولا:

’’ان چیزوں کے بارے میں بات کرنی چاہئے جو کہ ہیں نہ کہ جیسی ہوں گی۔ مستقبل کے متعلق کیسے معلوم؟ ایک بار لوگ آزاد ہو گئے تووہ خود فیصلہ کر لیں گے کہ ان کے لئے سب سے بہتر کیا ہے؟ لوگوں کے دماغوں میں ان کے کہے بغیر پہلے ہی بہت کچھ بھر دیا گیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ انہیں اپنے آپ سوچنے دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ہر چیز مسترد کر دیں۔ ساری زندگی اور ساری تعلیم۔ ممکن ہے کہ وہ سمجھیں کہ کلیسا کے خدا کی طرح یہ سب چیزیں بھی ان کی دشمن ہیں۔ ان کے ہاتھوں میںکتابیں دیدو اور لوگ خود ہی جواب تلاش کریں گے۔ بات دراصل یہی ہے!‘‘

جب پاویل اور وہ اکیلے ہوتے تو دونوں طول طویل بحث چھیڑ دیتے جس کے دوران می کسی کو غصہ نہ آتا۔ مان ان کی باتوں کو بڑے غور سے سنتی، ایک ایک لفظ پردھیان دیتی اور سمجھنے کی کوشش کرتی کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔ بعض اوقات اسے محسوس ہوتا کہ چوڑے شانوں اور سیاہ ڈاڑھی والا شخص اور اس کی طاقتور بلند قامت بیٹا دونوں اندھے ہو گئے ہیں۔ راستے کی تلاش میں وہ ایک سمت بڑھتے، پھر دوسری سمت، ہر چیز کو اپنی مضبوط لیکن سے محروم انگلیوں میں پکڑتے، ہلاتے، ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے، چیزوں کو فرش پر پٹک دیتے اور انہیں پیروں تلے مسل دیتے۔ وہ چیزوں سے ٹکراتے، انہیں محسوس کرتے اور پھر اپنے اعتقاد اور اپنی امید کا دامن چھوڑے بغیر انہیں سامنے سے ہٹا دیتے۔

شاعر مشرق، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے تصورات اور عہد حاضر

انہوں نے اس میں ایسے الفاظ سننے کی صلاحیت پیدا کر دی جو اپنی صاف گوئی اور جرات کی وجہ سے اس کو خوف زدہ کر دیتے تھے لیکن اب یہ الفاظ اس کو اتنی شدت سے نہیں جھنوڑتے تھے جس شدت سے پہلی بات انہوں نے جھنجھوڑا تھا۔ وہ ان کا مقابلہ کرنا سیکھ گئی تھی۔ بعض اوقات ان خدا سے انکار کرنے والے الفاظ کے پیچھے اسے خدا میں راسخ اعتقا کا جذبہ محسوس ہوتا تھا۔ اس وقت وہ اس اطمینان سے مسکراتی جیسے سب کو معاف کر رہی ہو اور حالانکہ اسے ریبن پسند نہیں تھا لیکن اس کے خلاف عداوت کا جذبہ بھی نہیں ابھرتا تھا۔

ہر ہفتہ وہ خوخول کتابیں اور صاف کپڑے جیل لے جاتی۔ ایک بار اسے ملنے کی اجازت بھی دیدی گئی۔

’’ذرا سا بھی تو نہیں بدلا‘‘ واپس آنے کے بعد اس نے بڑے مفکرانہ انداز میں کہا۔ ’’ہر شخص کے ساتھ اچھی طرح برتائو ہے اور ہر شخص اس سے مذاق کرتا ہے۔ وہ بڑی تکلیف میں ہے بے انتہا تکلیف میںلیکن اس کا اظہار نہیںکرتا۔‘‘

’’بالکل صحیح ہے‘‘ ریبن نے اپنے رائے ظاہر کی۔ ’’دکھ ایک پردہ ہے اور ہم لوگ اس کے اندر رہتے ہیں۔ ہم لوگ ایسے لباس کے عادی ہو چکے ہیں۔ اس میں فخر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ہر شخص کی آنکھوں پر پٹیاں تھوڑا ہی بندھی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ اپنی آنکھیں خود ہی بند کر لیتے ہیں، بات دراصل یہی ہے۔ تو اگر ہم لوگ احمق ہیں تو اسے ہنس کر برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں!‘‘

ماں گورکی قسط 9 ماں گورکی قسط 9 ماں گورکی قسط 9 ماں گورکی قسط 9 ماں گورکی قسط 9 ماں گورکی قسط 9 ماں گورکی قسط 9 ماں گورکی قسط 9

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...