الجامع المفردات ابن بیطار 181

نام کتاب :الجامع المفردات الادویہ و الاغذیہ(اردو ترجمہ)

Spread the love

مولّف:ضیاء الدین عبد اللہ بن احمد الاندلسی المالقی المعروف ابن البیطار (1197-1248) عیسوی۔
مترجم: سی سی آر یو ایم، نئی دہلی۔

مبصر:حکیم محمد شیراز، لکچرر شعبۂ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، سری نگر، کشمیر۔

کاش کے ہماری قوم، نسل نو کے طلبائے طب اطبائے سلف کی کاوشوں سے بھی آگاہ ہوتے۔ اللہ کرے کہ گوش کا معاملہ ہوش تک پہنچے۔ استدلالی باتیں کشفی ہو جائیں۔ اجمالی معاملہ تفصیلی ہو جائے۔ فلم بینی سے کچھ وقت نکال کر طب یونانی کی مستند اور قدیم کتابوں کو دیا جائے تو یونانی کی زبوںحالی میں کسی قدر افاقہ ہو۔(الجامع المفردات ابن بیطار)

حکیم عبد الرزاق صاحب ؒ رقم طراز ہیں کہ یونانی طب کی تاریخ کے عربی دور میں (جو آٹھویں صدی عیسوی تا تیرھویں صدی عیسوی پر مشتمل ہے) بے شمار اطبا گزرے ہیں۔ جن کے کارنامے طبی دنیا میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حنین ابن اسحٰق ، جابر بن حیان، یعقوب الکندی، ربن الطبری، زکریا رازی، علی بن عباس المجوسی، شیخ الرئیس بو علی سینا، اسی تابناک دور کی ابتدائی پانچ صدیوں کی یاد گار شخصیتیں ہیں۔تیرھویں صدی عیسوی کے اطباء میں ابن بیطار کو سب سے نمایاںمقام حاصل ہے۔

یونانی طب کی تاریخ میں علم الادویہ پر کام کرنے والے جن اطبا کا ذکر ملتا ہے ان میں دیسقوریدوس (ستر عیسوی) کا نام پہلے آتا ہے۔جسے بانی علم الادویہ قرار دیا جاتا ہے۔دیسقوریدوس نے پانچ سو دواؤں کے مجموعہ پر مشتمل ایک کتاب تصنیف کی۔یہ کتاب ماہرین و محققین علم الادویہ کے لیے علم کا اصل ماخذ قرار دیتی ہے۔دیسقوریدوس کے بعد ابن بیطار تک ایک ہزار سال کی مدت میں اگر چہ اکثر اطباء مثلاً جالینوس ، ابن وحشیہ، ابو حنیفہ، غافقی، وغیرہ نے علم الادویہ کی کتابیں تصنیف کیں لیکن ادویہ کے اعداد میں ایک سو سے زیادہ کا اضافہ نہ ہوا۔ابن بیطار نے اپنی تحقیقات تلاش و جستجو کے بعد جو کتاب تصنیف کی اس میں دواؤںکی تعداد ، اس میں دیسقوریدوس اور ما بعد اطباء کی بیان کردہ دواؤں کے مقابلے میں اس نے دگنی سے زیادہ تک پہنچا دی۔

ابن بیطار کی علمی کاوش کتاب الجامع المفرداتُ الادویہ والاغذیہ پچاس سال تک مخطوطات کی صورت میں دنیا کے مختلف کتب خانوں کی زینت بنی رہی۔اگرچہ سولھویں ، سترھویں اور انیسویں صدی میں یوروپ میں اس کتاب کے لاطینی ، جرمن اور فرانسیسی تراجم شائع ہو چکے تھے۔لیکن اصل کتاب کو بارہ سو انیس ہجری م1874ء میں پہلی بار قاہرۂ مصر کے مطبع بولاق نے شائع کیا اور اس طرح یہ کتاب اشاعت کے بعد دنیا کے گوشہ گوشہ میں موجود طب کے شائقین تک پہنچ سکی۔ہندوستا ن کے اطباء کو بھی اس کتاب میں مذکور ادویہ کی معلومات سے استفادہ کا موقع ملا۔لیکن اس کتاب سے صرف وہی اطباء بہرہ ور ہو سکتے تھے جو عربی زبان سے واقف تھے۔چنانچہ گذشتہ نصف صدی سے طبی حلقوں میں اس کتاب کے اردو ترجمہ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی۔

نام کتاب:عیون ُ الانباء فی طبقات الاطباّء(اردو ترجمہ)

سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن نے اسی ضرورت کے پیش نظر اس کتا ب کے اردو ترجمہ کا کام اپنے لٹریری ریسرچ کے منصوبہ میں شامل کیا۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ترجمہ کا اصل کام مندرجہ ذیل لوگوں نے کیا ہے:

۱۔حکیم شکیل احمد شمسی
۲۔حکیم محمد یوسف ۔
۳۔حکیم سید محمد حسان۔

اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر جناب حکیم عبد الحمید صاحب صدر ادارہ ٔ تاریخ و تحقیق نے اس کا مقدمہ تحریر کیا۔
حکیم عبد الحمید صاحب اس کتاب کے مقدمہ میں تحریر کرتے ہیں کہ اس وقت کونسل کی جانب سے علم الادویہ کی مشہور زمانہ تصنیف کتاب ُ الجامع المفرداتُ الادویہ والاغذیہ کا اردو ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے، یقیناً کونسل کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے، اس زمانہ میں اس کتاب کی اپنی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ وقت کی اہم ضرورت تھی۔مختلف عربی کتابوں مثلاً قانون شیخ ، کامل الصناعۃ اور غنیٰ منیٰ وغیرہ کے اردو تراجم ہندوستان میں شائع ہو چکے تھے لیکن ابن بیطار کی اس کتاب کا اردو ترجمہ کسی نے پیش نہیں کیا۔جب کہ یونانی طب میں علم الادویہ کے موضوع پر ایک بسیط اور مستند کتاب ہے۔

ابن بیطار ، جو علم طب کا در خشاں ستارہ ، بارھویں صدی عیسوی کے اواخر 1997ء میں اندلس میں طلوع ہوا اسی لیے ا کے نام کے ساتھ اندلسی کا بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔اور چونکہ اس نے اپنی زندگی نباتی ادویہ کی تحقیق میں صرف کر دی تھی۔اس لی النباتی کا لقب بھی اس کے نام کے ساتھ بڑھا دیا جاتا ہے۔ابن بیطار نے دوائی جڑی بوٹیوں کی تلاش و جستجو میں مغربی ممالک کے دور دراز جنگلوں،ساحل سمندر اور پہاڑوں کے علاوہ بلاد روم کے انتہائی مقامات اور پُر خطر پہاڑی سلسلوں ، ناہموار اور دشوار گذار راستوں پر ہزاروں میل کا سفر پیادہ پا طے کر کہ ان مقامات سے جڑی بوٹیوں سے متعلق معلومات حاصل کی۔اپنی کتاب عیون الانباء فی طبقات الاطباء میں ابن ابی اصیبعہ نے ابن بیطار سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا ہے اور اس کے بارے میں اپنے تاثرات اس طرح بیان کیے ہیں۔

برطانوی شہزادی کی شادی منسوخ

’’میں نے ابن بیطار کے اندر ذکاوت و فطانت انتہائی درجہ میں دیکھی ہے اور دوائی نباتا ت کے متعلق تو اس کا علم بہت ہی دقیق تھا۔‘‘ابن ابی اصیبعہ مزید لکھتے ہیں کہ دمشق کے ایک سفر میں میرا اور ابن بیطار کا ساتھ تھا۔دمشق کے اطراف و اکناف میں پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کا جب اس نے مشاہدہ کیا تو ان میں بہت سی ایسی ادویہ نباتیہ کے مختلف نام ان کے افعال و خواص اور مزاج کی جو تفصیلات بیان کیں ان کا تذکرہ دیسقوریدوس و جالینوس کی کتا ب میؓموجود تھا۔اس کے علاوہ متاخرین ماہرین فن کے اختلافات، ان کے شکوک و شبہات کے ساتھ ان کی غلطیوں کا بھی تذکرہ اس نے کیا ۔جس سے اس کے تبحر علمی اور فہم فراست کابھی اندازہ ہوتا ہے۔

ابن بیطار نے ادویہ کے بارے میں اور خصوصاً نباتی دواؤں کے سلسلے میں مشاہدہ پر زیادہ زور دیا ہے اور وہ کود بھی اپنا بیان مشاہدہ ہی کے ساتھ کرتا ہے چنانچہ اپنی کتاب میں پہلی دوا آلوسن کے ذیل میں وہ لکھتا ہے کہ ’’بعض اندلسی اطباء اندلس ہی میں پائی جانے والی قارہ نام کی دوا کو غلطی سے آلوسن سمجھتے ہیں اور غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ قارہ بھی پاگل کتے کے کاٹنے میں مفید ہے۔لیکن در حقیقت قارہ اور آلوسن دونوں الگ الگ پودے ہیں۔قارا کا یونانی نام ’’مسطا خنوس‘‘ ہے نہ آلوسن۔‘‘

ابن بیطار کی یہ کتاب اپنے موضوع پر لکھی جانے والی پہلی تمام کتابوں کے مقابلے میں انتہائی مکمل اور مدلل ہے۔جس میں چودہ سو سے زائد دواؤں کے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں۔جن کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ فاضل مولف نے کتنی محنت اور کس قدر تدبر اور غور خوض اور کتنے وسیع مشاہدات اور مطالعہ کے بعد یہ معلومات قلم بند کی ہیں۔اس کتاب میں ادویہ کی تحقیق و تشریح ان کے مختلف نام اور مترادفات مزاج ، افعال و خواص ، مختلف طریقہ ہائے استعما ل مقدار خوراک اور ان کے ضرر رساں پہلو کو بیان کرنے کے ساتھ ان میں سے اکثر مصلحات نیز کسی دوا کے دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اس کا بدل پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
کتاب الجامع کی سب اہم خصوصیت یہ ہے کہ مولف نے اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ متقدمین علماء ادویہ نباتیہ میں دیسقوریدوس اور جالینوس کے اقوال کا عربی میں ترجمہ دینے کے بعد متاخرین ماہرین فن کا بھی حوالہ دے کر اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کو بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی جلد میں اس نے تقریباً سو اطبا کے اقوال اور اسی طرح ان کے احوال نقل کیے ہیں۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صرف اسی کتاب کا مطالعہ کر لینے سے دیسقوریدوس ، جالینوس اور ابن بیطار تک کے تمام ماہرین علم الادویہ کی کتب اور ان کے نظریات کا علم بھی ساتھ ساتھ ہو جاتا ہے۔

اس کتاب کی تصنیف کی غرض و غایت کے متعلق مصنف نے جو باتیں بیان کی ہیں ان کا خلاصہ یہ کہ دواؤاں کی شناخت ان کے افعال و خواص کے بارے میں مصنف کی کسی بتائی ہوئی بات پر ااعتماد نہیں کیا۔بلکہ اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کو پیش کیا ہے اور بار بار کسی بات کی تکرار سے بھی کام نہیں لیا ہے ۔اور ادویہ کے بیان کی ترتیب حروف تہجی کے اعتبار سے قائم کی ہے تاکہ مطالعہ کرنے والے کے لیے کسی بھی دوا کا تلاش کرنا آسان ہو جائے۔نیز ادویہ کاتذکرہ مشہور ناموں سے کیا ہے۔خواہ وہ عربی ہوں ، یونانی ہوں یا کسی دوسری زبان کے۔پھر ان کے مترادفات مع ان کے شہروں اور ملکوں کی تخصیص کے بیان کیے ہیں ۔جن میں وہ پائی جاتی ہیں۔اس طرح کسی دوا کے سلسلے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔

اس کتاب کی تمام غیر معمولی خصوصیات کی بنیاد پر مشہور یورپی مورخ میکس میر ہوف ابن بیطار کی غیر معمولی صلاحیت اور علمی تبحر کو سراہتے ہوئے لکھتا ہے کہudition and observtion. It is work of extra ordinary er
بلا شبہ یہ کارنامہ ایسا ہے جو کہ انتہائی غیر معمولی صلاحیت ، تبحر علمی ، علمی استعداد اور عمیق تجربات پر منبنی ایک عظیم شاہکار ہے۔

علم و فن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یوروپ میں اس کے لاطینی جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمے شائع کیے جا چکے ہیں۔اس کا لاطینی ترجمہ’’اینڈریو الپگین‘‘ نے کیا۔جو وینس نے سن 1593ء میں شائع ہوا۔اس کا دوسرا ایڈیشن پیرس سے سن 1602ء میں اور تیسرا ایڈیشن کیریمونا سے سن 1758ء میں شائع ہوا۔جرمنی زبان میں اس کا ترجمہ Stuttgartسے پہلی بار 1840ء میں طبع ہوا۔فرانسیسی زبان میں اس کا ترجمہ کلارک نے 1883ء میں کیا۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مغرب نے اس کتاب سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔اور جیسا کہ مشہور محقق طبیب علامہ کبیر الدین صاحب نے اپنے ،مقالہ میں جو انھوں نے 1952ء میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے اجلاس منعقدہ دہلی میں پیش کیا، ذکر کیا ہے کہ یہ بات کسی خوف و اختلاف کے کہی جا سکتی ہے کہ پہلیء برٹش فارماکوپیا ابن بیطار کی کتاب پر منبنی تھی۔
کونسل نے اس اہم کتاب اردو ترجمہ شائع کر کے طبی حلقوں کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔

خلاصہ:

وہ طلباء و پی جی اسکالرس ، جو ادویہ کے شعبہ میں کام کر رہے ہیں ، وہ اس کتاب پر پی ایچ ڈی کریں۔دور حاضر کے بے شمار امراض جو لاعلاج سمجھے جا رہے ہیں، اس کتاب کی روشنی میں ان کا کوئی شافی و کافی علاج دریافت کریں۔

مراجع و مصادر:

۱۔جامع المفرادتُ الادویہ والاغذیہ(اردو ترجمہ)،ابن بیطار، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی۔
۲۔تاریخ طب و اخلاقیات، حکیم اشہر قدیر۔
۳۔تاریخ طب، حسا کسی ن گرامی۔

الجامع المفردات ابن بیطار الجامع المفردات ابن بیطار الجامع المفردات ابن بیطار الجامع المفردات ابن بیطار

اپنا تبصرہ بھیجیں