afsana, افسانہ نیل پالش، nail polish 141

نیل پالش (افسانہ) سیمیں درانی

Spread the love

سیمیں دردانی ایک ایسے قلم کار کا نام ہے منٹو کی طرح جس کے دل میں کوئی وہم اور قلم میں کوئی رحم نہیں ہے۔ منٹو تو پھر بھی کچھ باتیں لپیٹ لیتا تھا مگر سیمیں درانی جس طرح لفظوں کو قرطاس پر بکھیرتی اور سمیٹتی ہے اس سے روح تک کانپ جاتی ہے۔ اس کے افسانے میں مشاہدے کی کمی تو ہو سکتی ہے مگر اس بےرحم اور سفاک معاشرے کی سر تا پا برہنہ تصویر میں کبھی کہیں کوئی کمی نہیں ملتی منظر کشی ایسی کہ قاری اس کے سحر میں تادیر مبتلا رہتا ہے اور واقعات کا بیان ایسا ہوتا ہے کہ بے ارادہ ہاتھ پاوں لرز جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ ہر فنکار کو اس کے حق کی داد دینے کے لیے اس کے رخصت ہونے کے منتظر رہتے ہیں اس روایت کو توڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سیمیں درانی جیسے لوگ معاشرے کی اس تعفن زدہ لاش کا پوسٹ مارٹم کر کے ہمارے سامنے پیش کرنے میں فخر محسوس کریں۔ (مدثر بھٹی) نیل پالش (افسانہ) سیمیں درانی

وہ کون تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس عورت کا تیزاب سے مسخ شدہ چہرہ، اس امر کا گواہ تھا کہ تھی وہ بد کردار اور بد چلن۔ جبھی تو کسی مرد نے اسکا حسن چھینا۔ البتہ اسکے خوفناک چہرے پہ نظر ڈلتے ہی لوگ اپنے گناؤں کی معافی مانگتے اور سوال داغتے بھی ڈرتے کہ وہ بدکردار عورت مطلقہ ہے یا ،بیوہ

نا مرد معاشرہ

آنکھوں کی جگہ دو ڈھیلے تھے اور ہونٹوں کی جگہ بتیسی نمایاں تھی۔ مسوڑھے بھی تیزاب کی حدت سے پگھل چکے تھے۔ یہ طے تھا کہ ہے وہ بد کردار اور بد چلن ہے۔ کنواری ہوتی تو چہرہ حسین ہوتا۔ نہ کہ ایسا کہ بچے ایک نظر دیکھتے ہی ماں سے لپٹ جائیں اور مرد استغفراللہ پڑھتے نظریں جھکا کر ایمان کو تقویت دیں۔

چندہ (افسانہ) سیمیں خان درانی

اسکو بدکردار عورت کا لقب عنایت ہوا اور اسکے ساتھ ہی نیکو کاروں کو ثواب کمانے کا موقع مل گیا۔ اسنے نالے کے کنارے جھگی ڈالی۔ اور منہ کو ڈھانپ کر گھر گھر جا کر کھانا مانگتی ۔ نیک بیبیاں رزق کی برکت کے وسیلے کی چاہ میں بچا کھچا باسی کھانا، اسکو گندے لفافوں میں دے دیتیں اور مرد، اس سے نظریں بچاتے صراط مستقیم کی ڈوری تھامے گھر کی راہ لیتے۔
اسکی گزر،بسر ہونے لگی۔ گلی کے کتے بلیوں کے علاوہ کسی کو اسکی ہستی میں دلچسپی نہ تھی

وہ بچی کھچی ہڈیاں اور روٹی کے ٹکڑے ڈالتی۔

کبھی کبھی رات کے اندھیرے میں اسکی جھگی سے رونے اور کرلانے کی آوازیں سن کر لوگ استغفار اور دعائیہ کلمات شروع کردیتے اور خدا،سے ان گناہوں سے تائب رہنے کی مناجات کرتے کہ جن کی سزا ملنے پہ وہ ماتم کناں ہوتی۔ تیزاب سے جھلسی۔بدکار عورت۔

محبت کے جشن سے بے صبر شوہر کی دوسری شادی تک

کچھ عرصے بعد اسی محلے میں شادی تھی۔ سنت ولیمہ کے بعد رات گئے تک آئٹم نمبرز پہ ناچ گانا چلتا،رہا۔ شریفوں کا علاقہ تھا سو تمام خواتین اندر مقید ،دلہن کی ساس کو،رات سفید تولیے پہ سرخ دھبے پائے جانے پہ مبارکباد دے رہی تھیں کہ آج کے بدچلن معاشرے میں ایک باکرہ بہو کی تلاش جوئے شیر لانے کے مترادف تھی۔ جبکہ نوبیاہتا دلہا اپنے دانتوں میں پانچ ہزار کا نوٹ دبائے، اپنے سامنے تھرکنے والے ہیجڑوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ اپنے لبوں سے وہ پانچ ہزار کا نوٹ چھین کر دکھائیں اسکی اس شرارت پہ تمام حاظرین لوٹ پوٹ کر داد دے رہے تھے۔

فجر کی اذان سن کر سب نے احتراماً خاموشی اختیار کرلی۔ محفل برخاست، ہوئی اور دوسرے شہر سے آئے میوزیکل بینڈ نے اپنا ساز وسامان لپیٹنا شروع کردیا۔

اچانک بین کی آواز، آئی اور فضا میں کرلاتے آنسو شبنم کی جگہ برسنے لگے۔ جب دوسرے علاقوں سے آئے لوگوں نے ڈرتے ہوئے اس ڈاین کے متعلق استفسار کیا کہ جس کی آہ و بکا سے رات کے حسین لمحے فجر کی سفیدی شرمندگی محسوس کر کے ایک دہشت ناک ماحول کو جنم دے رہے تھے۔ تب تفصیل جان کر ’’نتھو‘‘، ہیجڑہ کہ جو اپنی ہیرے کی نتھلی کی وجہ سے مشہور تھا چونک اٹھا۔

اسکی ٹیم نے گاڑی میں سامان لادا تو نتھو دوپٹے سے اپنے پھیلتے کاجل کو صاف کرتے بولا۔ میں صبح کی بس سے آجاؤں گی۔ بہت تھکن ہے۔ برابر کے پنڈ میں کچھ کام ہے۔ سوچا نمٹا لوں ۔ گاڑی اسکو وہی کھڑا چھوڑ کے نکل پڑی نمازی مسجد اور باقی افراد بستروں کی جانب لپکے۔

جبکہ نتھو نے اپنا تھیلا پکڑا اور اسکے قدم تیزی سے اس کھٹیا کی جانب اٹھنے لگے جہاں پر ماتمی آہ و فغاں جاری تھی۔

بد کردار عورت دھاڑیں مار مار کر سینہ کوبی کر رہی تھی تیزاب پھینکنے والے نے اس مہارت سے اس پہ تیزاب پھینکا تھا کہ وہ نسوانیت کھو بیٹھی اور یہی اسکی عافیت کا سبب بھی بن گیا۔ مرد اسکے قریب آتے ڈرتے۔
گندے نالے سے تعفن و بدبو کے بھبھوکے نسیم سحر کا اس ظالمانہ طور بلادکار کرنے لگے کہ اس نے اپنا رخ موڑ لیا۔

بدکار عورت اندھیرے اور روشنائی کے تصادم میں خود کو بانہوں کے حصار میں پا کر پہلے تو خوفزدہ ہوئی۔ اور پھر اپنے ادھڑے مسوڑھے پہ بوسے کا لمس پاکر خاموش ہوگئی۔ اسنے آنکھیں میچ لیں۔ سستے عطر اور مردانہ پسینے کی آمیزش کی بو کے سامنے اسکے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے اور اسنے مکمل خودسپردگی میں اپنا وجود نتھو کے حوالے کردیا۔

دوج کی گرمی نے اسکو جب یکتا کیا،۔ قربت کے لمحوں کا نشہ ٹوٹا تو وہ ڈر کے پیچھے ہٹ گئی۔ جہاں کبھی چھاتیاں تھیں لاشعوری طور پر اسنے اپنے اس سپاٹ سینے کو میلی چادر سے ڈھانپ لیا۔ اسکے سامنے نتھ ڈالے ایک مرد کھڑا تھا۔ سر تا پا برہنہ مرد جسکی ناک میں پڑی نتھ کا ہیرا چمک رہا تھا۔

نتھ پہنے وہ مرد بول اٹھا۔’’بے فکر رہ۔ میں نے ’’نس بندی‘‘ کروا رکھی ہے۔ تجھے کچھ نہ ہوگا۔ نتھو نے بدکار عورت کا،سر تا پا جائزہ لیا اور بولا۔ ارے۔۔تیرے پیر کتنے حسین ہیں۔ لا ان پر نیل پالش لگاتی ہوں۔ اور اپنے سامان سے لال نیل پالش نکال کر اس بدکردار عورت کے غلیظ پیروں کے لمبے ناخنوں پہ نیل پالش لگانا شروع کردی۔

اس کام سے فارغ ہوکر وہیں پڑی بالٹی کے پانی سے نتھو نے نہانا شروع کردیا اور اسکو بھی بانہوں میں بھینچ کر نہلاتا رہا۔ نتھو نے فارغ ہوکر کپڑے بدلے اور خاموشی سے اپنی راہ لی۔

بدکردار عورت نے اب ہر جمعہ کو مسجد کے باہر بیٹھ کر بھیک مانگنا شروع کردیا۔ جیسے ہی پیسے جمع ہوتے وہ سب سے قیمتی لال رنگ کی نیل پالش خرید لاتی اور موم بتی کی روشنی میں گنگناتی اور تہ در تہ لگاتی رہتی۔

علاقہ مکین جو،رات کو، اس کی آہ و فغاں سے سو نہیں پاتے تھے۔ انکو اب رات کی خاموشی کھانے کو پڑتی۔

نیل پالش (افسانہ) سیمیں درانی نیل پالش (افسانہ) سیمیں درانی نیل پالش (افسانہ) سیمیں درانی نیل پالش (افسانہ) سیمیں درانی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...