عالمی ادارہ صحت کرونا 187

سائنسدانوں کا کرونا کے خلاف اینٹی وائرل دوا ء کا تجربہ کامیاب

Spread the love

واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز ) امریکہ میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اینٹی وائرل ریمدیسیویر نام کی دوا کورونا کے خلاف موٗثر ہے۔ اس دوا کا ابتدائی تجربہ بندروں کے ایک چھوٹے گروپ پر کیا گیا اور نتائج تسلی بخش آئے، اور اس تجربے کے تحت سائنسدانوں نے بندروں کے دو گروپوں کو کورونا وائرس سے متاثر کیا، جس کے بعد ایک گروپ کو یہ دوا دی گئی

لیبیا نے متحدہ عرب امارات کا ڈرون طیارہ مار گرایا

جبکہ دوسرے کو نہیں دی گئی۔ اس دوا کو کمپنی جیلیڈ سائنسز نے تیار کیا ہے جو ایسے وائرس سے لڑنے والی ادویات پر تحقیق اور ان کی تیاری کا کام کرتی ہے۔ بین الااقوامی میڈیا کے مطابق بندروں کے جس گروپ کو دوا دی جا رہی تھی، اسے پہلا ڈوز انفیکشن لگنے کے 12 گھنٹوں بعد دیا گیا اور اس کے بعد چھ دن تک روزانہ دیا گیا۔

سائنسدانوں نے ابتدائی علاج وائرس کے جانوروں کے پھیپڑوں تک پہنچنے سے پہلے شروع کیا۔جن بندروں کا علاج کیا گیا، ان میں پہلے ڈوز کے 12 گھنٹوں بعد ہی بہتری نظر آنے لگی تھی۔ ان چھ میں سے ایک بندر کو سانس لینے میں تھوڑی دشواری ہوئی تھی

جبکہ باقی بندروں کو سانس لینے میں بے حد مشکل کا سامنا تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق بندروں کے جس گروپ کا علاج کیا جا رہا تھا ان کے پھیپڑوں میں دوسرے گروپ کی نسبت وائرس کی مقدار کم پائی گئی

اس دوا کو جیلیڈ سائنسز نے بنایا ہے، جو ایسے وائرس سے لڑنے والی ادویات پر تحقیق کرتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق علاج سے گزرنے والے جانوروں کے پھیپڑوں کو کم تقصان ہوا۔

سائنسدانوں نے ابتدائی علاج وائرس کے جانوروں کے پھیپڑوں تک پہنچنے سے پہلے شروع کیا۔جن بندروں کا علاج کیا گیا، ان میں پہلے ڈوز کے 12 گھنٹوں بعد ہی بہتری نظر آنے لگی تھی۔ ان چھ میں سے ایک بندر کو سانس لینے میں تھوڑی دشواری ہوئی تھی

کرونا دوا ء,کرونا دوا ء

اپنا تبصرہ بھیجیں